
حسن مجتبیٰ
آٹھویں قسط
اب ہم مسجد الاقصیٰ کمپاؤنڈ کے گیٹ پر تھے جس کے دیکھنے کی حسرت میں ہم میں سے بہت سوں کے پرکھے پرکھوں کے پرکھے اس جہان رنگ و بو سے کوچ کر گئے۔ اب اور ان لمحوں وہ سنہری گنبد ہماری آنکھوں کے سامنے تھا جسے غلط طور پر مسجد اقصیٰ سمجھا جاتا ہے۔ ہاں مسجد اقصیٰ بھی اسی ڈوم آف راک کے وسیع و عریض احاطے کے اندر ہے۔ مسلمان دنیا اسے القدس یا بیت المقدس کہتی ہے، حرم الشریف بھی۔
بیت المقدس پر اسرائیلی چڑھائیوں کی کئی کہانیاں اور قصے میں نے پاکستانی اخبارات اور مسلم دنیا کی میڈیا کے ایک بڑے حصے میں پڑھی اور سنی تھیں اور یہاں مسجد الاقصیٰ کے احاطے سے پہلے اس کی سیکیورٹی چوکی پر کھڑے تھے جو اسرائیلی پولیس کی چوکی تھی اور اس علاقے میں کسی یہودی کا دیکھا جانا ممنوع تھا۔

اقصیٰ کی سیکیورٹی کا بیرونی انتظام اسرائیلی پولیس کے ہاتھ میں ہے اقصیٰ کے احاطے کے اندر صرف مسلمان ہی داخل ہو سکتے ہیں اور وہ بھی سخت ترین سیکیورٹی کی دو پرتوں سے ہوکر۔ کسی بھی یہودی یا غیر مسلم کو صرف ٹیمپل گیٹ سے اجازت ہے لیکن عبادات کی نہیں۔ پہلا پرت اسرائیل پولیس کی سخت سیکیورٹی ہے۔ اسرائیلی پولیس کے سخت سوالات سے گذر کر پھر دوسری اتنی سخت سیکیورٹی اردن کی سیکیورٹی ہے۔ اقصیٰ کے تمام سیکیورٹی امور اردن کے زیر انتظام ہیں۔
سنہ انیس سو سڑسٹھ کی عرب اسرائیل جنگ میں قدیم یروشلم کے مشرقی حصے کو بھی اسرائیل نے پھر سے لے لیا تھا لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نے یروشلم کی سیکیورٹی خیر سگالی اور مسلمانوں کی مذہبی آزادیوں کے احترام میں اردن کے شاہ حسین کے حوالے کردی تھی۔ تب سے الاقصیٰ کے تمام انتظامی امور اردن کے کنٹرول میں ہوتے ہیں۔

معمول اردن کے سیکیورٹی والے اگرچہ خیر مقدمی لگتے تھے لیکن پھر بھی انہوں نے مجھ سے دوسرا کلمہ پڑھنے کو کہا۔ لیکن ہماری ساتھی حنا اگرچہ جینز میں ملبوس تھی اور سر پر دو پٹہ بھی لیے ہوئے تھی لیکن مسلمان اردنی سیکیورٹی بھائیوں نے حنا سے لمبا اسکرٹ اوڑھ کر آنے کا کہا جو وہ گئی اور قریبی بازار سے چھ ڈالر میں خرید کر لائی۔ لیکن حنا بہت خوش تھی کہ وہ اب الاقصیٰ کے اندر تھی۔ بلکہ ہم سب خوش تھے اور اس کے اپنے اپنے اسباب ہونگے۔ میں نے اپنا یہ دن اپنے ماں باپ اور ان کے خوش عقیدہ پن کے نام کیا۔
ہمارا ٹور گائیڈ بھی بدل چکا تھا وہ اب عرب مسلمان گائیڈ تھا لیکن ابھی اردن کی سیکیورٹی سے فارغ ہوکر الاقصیٰ مسجد میں داخل ہی ہوئے تھے کہ ایک فلسطینی نوجوان ہمارے ساتھ لگا اور کہتا تھا کہ اسے اپنی زیارت اور عبادات کا گائیڈ بنایا جائے۔ اس نے بتایا کہ اصل میں اس کا باپ الاقصیٰ کمپاؤنڈ میں گائیڈ ہے لیکن اس کی طبیعت ٹھیک نہیں تو وہ اس کی جگہ کام کر رہا ہے۔ اس نے یہ بھی کہا کہ وہ حال ہی میں جیل سے رہا ہو کر آیا تھا کہ اسے اسرائیلی پولیس پکڑ کر لے گئی تھی کیونکہ اس کے مطابق وہ فیس بک پر اسرائیل کے خلاف لکھتا رہا تھا۔ اسے کچھ دن جیل میں رکھ کر چھوڑ دیا گیا۔ وہ نوجوان ہمارے پیچھے لگا رہا کہ وہ مسجد اقصیٰٰ سے قرآن کا نسخہ اس سے بیس اسرائیلی شیکلز میں خریدیں اور اس پر اپنی ماں کا نام لکھوائیں۔ شاید مبشر زیدی نے وہ قرآنی نسخہ اس سے خرید لیا، ایک یادگار کے طور پر۔ مسجد اقصیٰ کے اس کمپاؤنڈ میں چار مساجد ہیں، جن میں البراق مسجد اس دن زائرین کیلئے بند تھی۔ یہی مسجد ہے جس کیلئے آیا ہے، یہاں سے مرسل محمد عربی براق پر معراج کے سفر کو روانہ ہوئے تھے۔
شاہ بلوط کے درختوں میں گھری اقصیٰ کے کمپاؤنڈ میں کبوتر اور بلیاں بھی گھوم رہے تھے۔ زائرین اور عبادت گزار بلیوں کو کو کھلانے کیلئے گوشت لاتے ہیں۔ کمپاؤنڈ میں ہمیں ایک گجراتی بزرگ ملے جو بھارتی گجرات سے چل کر نائیجیریا میں آباد ہوئے تھے اور وہاں سے زائرین کے ایک گروپ کیساتھ اقصی آئے ہوئے تھے۔ الاقصیٰ کمپاؤنڈ میں برصغیر کی آزادی کے رہنما محمد علی جوہر دفن ہیں۔ مدرسہ خاتونیہ کے عمارتی ڈھانچے کی نچلی منزل پر۔ میں نے نہیں دیکھی، غالباً ہمارے دوست مبشر زیدی ان کی قبر پر زیارت کو گئے تھے۔ مدرسہ خاتونیہ مملوکیوں کے دور میں چودھویں عیسوی صدی میں تعمیر ہوا تھا۔ اب شاید اس کے کھنڈر مٹا دیے گئے ہوں۔
ہم اب مسجد اقصیٰ کے اندر تھے۔ ہم یعنی میں، حنا، عطا، اور مبشر زیدی بھائی۔ یہ عصر کا وقت تھا اور اذان ہورہی تھی۔ نمازی اقامت کر رہے تھے اور ایک کونے میں بچے بچیاں قرآن کا سبق لے رہے تھے۔ میں اقصیٰ کے حسن تعمیر اور عظمت دیکھنے میں محو حیرت تھا۔ یہ دنیا کی تیسری سب سے بڑی عبادتگاہ ہے۔ یہاں پہلے جمعہ کی نماز کو ویسٹ بنک سے فلسطینی بھی آتے تھے۔ اب بھی آتے ہیں لیکن سات اکتوبر دوہزار تئیس کو دہشتگرد حملےکے بعد اسرائیلی حکومت صرف پچپن سال کے عمر کے مردوں، پچاس سالہ اور اس سے اوپر کی عورتوں اور بارہ سال سے کم عمر کے بچوں کو اقصیٰ میں جمعہ کی نماز کیلئے آنے کی اجازت دیتی ہے۔
ہم دورویہ شاہ بلوط کے درختوں کا دالان عبور کرتے ہوئے سیڑھیاں چڑھتے اب ڈوم آف دی راک یا قبتہ الصخرا کے ہال کے اندر تھے۔یہاں بھی نماز ہو رہی تھی لیکن زائر مرد اور عورتوں کی جدا جدا نقل و حرکت پر کوئی روک ٹوک نہیں تھی۔ یہاں خواتین سیکیورٹی بھی تھی۔

یہی ڈوم آف راک یا سنہری گنبد ہے جو دنیا میں سب سے زیادہ بکنے اور دیکھے جانے والا امیج ہے۔ یونسیکو نے اس مقام کو سب سے قدیم ترین ورثہ قرار دیا ہے جو کئی یلغاروں کی زد میں رہا ہے۔ یہی مقام ہے جہاں سے منسوب ہے کہ اسی جگہ ابراہیم نے قربانی دی تھی اور اسی جگہ سے منسوب ہے کہ خلد سے نکل کر آدم اترا تھا۔
نکلنا خلد سے آدم کا سنتے ہم بھی آئے تھے-
قبتہ الصخرہ کے اندر منظر رقت آمیز تھا۔ حنا کافی مسحور و مسرور نظر آتی تھی۔ میں بھی اپنے اندر کا بے یقین آدمی کچھ ساعتوں کو باہر اسرائیلی چوکی کو چھوڑ آیا تھا۔ اب میں بھی ان روح پرور مناظر سے محظوظ ہونے لگا تھا۔ میں نے اس صخرہ یا پتھر کو چھوا جو اس گنبد سنگ کے اندر بند تھا۔ یہ گنبد سنگ یا قبتہ الصخرہ تینوں مذاہب یہودیت، مسیحت اور اسلام کیلئے ایک جتنا متبرک و مقدس مانا جاتا ہے۔
اسی لیے تو اسرائیلی رکن کینسیٹ (پارلیمنٹ) اور چیئرمین دفاع کمیٹی اور غیرملکی امور کمیٹی امیت حلیوی نے ہمیں ملاقات میں کہا تھا؛
“مکے کا راستہ یروشلم سے ہوکر جاتا ہے۔”
مسجد اقصیٰ ڈوم آف راک یا قبتہ الصخرہ کا دم دیدار تمام ہوا اور ہماری دوسری منزل اسی شام دیوار گریہ تھی۔
جاری ہے۔
Leave a reply to ام حیا Cancel reply