• چھٹی قسط

    حسن مجتبٰی

    سندھی کلچر ڈے کی صبح ہم پر یروشلم میں آئی۔ یہ سوچ کر بھلا لگا کہ یروشلم کی سرزمین پر ہم لوگ، میں اور میرا دوست پیارا دوست عطا اجرک پہنے  ہوئے تھے۔

    وہ اجرک جو موہن جو دڑو کے  پریسٹ کنگ کے بھی کاندھوں پر تھی۔  کبھی نہیں سوچا تھا، پانچ ہزار سالہ موہن جو دڑو کی ثقافت کے دن کا سواگت ہم  چار ہزار سالہ اسرائیل کی سرزمین پر کریں گے۔

    اس دن ہم یروشلم کی شاہراہ جافا روڈ سے  جبل صہیون  کی جانب عازم سفر  ہوئے تھے۔ یہ جافا روڈ جو نئے پرانے یروشلم سے گذرتی جافا شہر تک جاتی ہے۔ صہیون جبل پر جاتی طویل دیوار  کی اس طرف  ہماری منزل قدیم اورعظیم شہر یروشلم تھا۔ اولڈ  جیروسیلم سٹی یا ایہاالناس  چلو کوہ ندا کی جانب۔ 

      ساگی کی وین میں سوار ہم، ہمارے اس سفر کا گائیڈ  یشائی شولومن تھا جو کہ خود یروشلم پر ایک چلتی پھرتی تاریخ ہے۔اس کا ابا بھی یروشلم میں گائیڈ تھا۔ یشائی شلومون ہمیں بتا رہا تھا “کئی بار یروشلم شہر تباہ ہوا اور پھر تعمیر ہوا۔ نیز یہ کہ صہیون جبل پر ہی پہلے یروشلم شہر قائم ہوا تھا جو پیغمبر،شاعر اور بادشاہ داؤد نے قائم کیا تھا۔ بادشاہ داؤد کا مقبرہ  بھی جبل صہیون پر ہے۔ اب جبل صہیون موجودہ قدیم شہر یروشلم کی دیواروں سے باہر ہے۔ لفظ صہیون جو کئی بار عہدنامہ قدیم، زبور اور انجیل میں استعمال ہوا ہے۔ 

    اب قدیم اورعظیم یروشلم میں داخل ہونے کو باب الخلیل،ہمارے سامنے تھا بلکہ ہم  باب الخلیل کےسائے میں  تھے ۔ اس دروازے کی پیشانی پر پتھر کے کتبے پر عربی  اور عبرانی میں لکھا تھا “باب الخلیل۔”

    قدیم یروشلم شہر کے سات دروازے ہیں (مجھے سندھ کا شکارپور شہر یاد آیا) لیکن  یہ دروازہ تینوں مذاہب، یہودیت، عیسائیت اور اسلام کے  جد امجد  پیغمبر ابراہیم کی نسبت سے ہے۔

      باب الخلیل کی ایک دیوار پر عربی میں ابراہیمی امت کا کلمہ لکھا تھا۔” 

    لا الٰہہ الا اللہ ابراہیم خلیل اللہ”۔ 

    باب  خلیل عبور کر کے آگے آ گئے تو ایک  مصروف چوک آیا جہاں ایک قدیم دیوار پر جلی حروف میں پتھر پر کندہ تھا  “میدان عمر بن خطاب۔” اس شاہراہ پر جہاں مسلم  کاروباری اور رہائشی آبادی ہے۔ یہ   چوک عمر بن خطاب  سے منسوب ہے۔ یروشلم کے مشہور ٹورسٹ گائیڈ  شمیوئیل برام نے اخبار ٹائم آف اسرائیل میں لکھا تھا: مسلمانوں کے اس انتہائی روادار خلیفہ دوئم نے جب ساتویں صدی میں یروشلم فتح کیا تو اس نے یہودی عبادتگاہوں اور مقدس مقامات کا انتہائی احترام کیااور رواداری اختیار کی بلکہ تباہ حال یہودی مقامات کی بحالی کے اقدمات کیے۔ جیسے یروشلم کے  سب سے بڑے چرچ مقدس کے گرد گندگی کے ڈھیر جمع ہوگئے تھے۔ جب عمر بن خطاب نے اس کا دورہ کیا تو اسے صاف کرنے کا حکم دیا بلکہ خود اپنے ہاتھوں سے اس کی صفائی کی۔ عمر بن خطاب کو اس وقت کے یروشلم کے بشپ سوفورونس نے بڑے گرجا گھر  میں آنے کی دعوت دی، انہوں نے  یہ کہہ کر معذرت کی کہ میں آؤں  تو سہی لیکن اس کے بعد مسلمان اس گرجا گھرکو تباہ کر کر اس کی جگہ مسجد بنالیں گے۔  

    عمر بن خطاب چوک کی بائیں جانب عیسائی کوارٹرز یا مسیحی علاقہ تھا۔شاہراہ عمر بن خطاب پر کئی فینسی اور سوینیر کی شاپس اور فلافل اور شوارمہ سمیت کئی دکانیں عربوں کی تھیں۔ حقے پیتے کفایا پہنے عرب بزرگ یا پھر دکانوں کے آگے دسمبر میں یرشلم کی دھوپ سینکتے۔ گلی کے کونوں نکڑ پر ٹولیوں میں کھڑے عرب نوجوان۔ گپیں ہانکتے، سگریٹ پھونکتے

    تو اب ہم پیغمبروں کی سرزمین اور وہاں سے چاروں جانب نظر آنے والے سنہری گنبد کے اطراف تینوں مذاہب یہودیت، عیسائیت اور اسلام کے ماننے والوں کی ایک جگہ اپنے محلوں یا کورارٹرز میں بسنے والے یروشلم میں تھے۔ قدیم اورعظیم یروشلم کی گلیوں میں ہمارے قدم پڑ چکے تھے۔

    جب میں قدیم یروشلم کی ان تنگ تاریخی گلیوں محلوں میں گھوم رہا تھا تو نہ فقط سوچ رہا تھا کہ کتنے ہی  پیغامبر کے  پاؤں ان گلیوں میں صبح شام و شب  پڑتے ہونگے۔ ایسا لگتا ہے یہ قدیم و عظیم شہر یروشلم قصص الانبیا سے باہر نکل کر میری آنکھوں کےسامنے کھڑا ہو گیا تھا۔ جو قصے بچپن میں میری ماں  مجھےسنایا  کرتی تھی۔ نہ جانے کس جگہ، کون سی گلی مگر کتنے انسانی تاریخ کے خونی ڈرامے اس شہر میں کھیلے گئے۔ یونانی آئے، مملوک آئے، رومی آئے، اوائلی اسرائیلی، عثمانی سلطان آئے، جنہوں نے آرمینیوں کا قتل عام کیا، باب الخلیل کے سامنے پھانسیوں کے پھندے لٹکائے۔ انگریز آئے اور عرب، ترک جنگ و جدل، کشت خون ان پتھروں کی دیواروں اور گلیوں نے دیکھے، وقت کہے میں سب سے بڑا سلطان۔

     ہمارا گائیڈ یشائی شلومن نادر تصاویر اور نقشے لئے یروشلم کی تاریخ کے اوراق پلٹتا جاتا تھا۔اس نے کہا وہ بھی اب سات اکتوبر دوہزار  تئیس کے بعد اپنے ساتھ پستول رکھتا ہے۔ جب سے یروشلم میں ایک ٹورسٹ گائیڈ مارا گیا تھا۔ُلیکن میں قدیم یروشلم  کو اپنی آنکھوں سے دیکھنااور پیروں سے چھونا چاہتا تھا۔ 

    اب ہم میدان عمر بن خطاب کے اس پہاڑی میدان سے کئی پتھر  کی سیڑھیاں اتر کر شہر قدیم یروشلم کی تنگ تاریخی گلیوں میں گھوم رہے تھے۔ یروشلم کی یہ گلیاں مٹیاری، حیدرآباد سندھ ، سیوھن اور اندرون شہر لاہور سے مماثلت رکھتی اور ملتی جلتی  ہیں۔ یروشلم شہر بھی والڈ سٹی ہے۔

     اب یہاں اس سرزمین پر پیغمبر جا آرامی  ہوئے اوراس جگہ  دنیا بھر کے جدید سیاح جوڑے، سندھی اخبارات کے الفاظ میں: پریمی جوڑے۔مقامی عرب، یہودی، عیسائی  گھوم اور گذر رہے تھے۔ گھروں، دکانوں بازاروں میں ان کی آوت جاوت لگی تھی۔ قدیم عظیم یروشلم کی ان گلیوں میں راوی واقعی سب چین لکھتا تھا۔ کچھ گلیاں اور چوبارے خاموش تھے۔ جن کے باہر لگے فانوس مجھے بڑے پرفسوں لگے اور رومان انگیز بھی۔ اور کہیں کہیں  دروازوں، محرابوں سے لپکتی لپٹتی  بیگن  بیلیں، امر بیلیں مجھے ہمشہ اچھی لگتی ہیں۔ ایک گلی میں گھر کے باہر ویسپا موٹر سائیکل اور ایک میں چنگچی نما سواری کھڑی تھی۔ 

    مجھے اس اندرون یروشلم شہر میں کھلے قہوہ خانوں، ریستورانوں کے باہر قدیم دیواروں پر کوکاکولا کے کمرشل کچھ عجیب سے لگے لیکن ایک جگہ ہم  ایک بڑے ہال وے نما اسپیس پر رک گئے  تو ایک دیوار پر بنا  کئی فٹ لمبا ایک شاہکار فن میورل دیکھا۔ یہ میورل  قدیم ترین یروشلم کی زندگی، سماج اور وہاں بسنے والی عورتوں، مردوں، مویشیوں  کی عکاسی کررہا تھا۔ اف مائی گڈ نیس! اس میورل میں دکھائی گئی عورتوں کے کرتوں پر بنے گج (کشیدہ کاری) مجھے بلوچ، بروہی،سندھی عورتوں کے لباسوں جیسے لگے اور مرد بھی بروہی اور بلوچ خانہ بدوشوں سے ملتے جلتے ہیں۔  

    ہماری دوست اور اس سفر میں ساتھی حنا اختر  کے نوٹس میں ناموں کی  یادداشت کی توثیق کیلئے مدد لی گئی کہ میں  شاذ نادر ہی کبھی نوٹ  لیتا ہوں۔ کچھ تصاویر بشکریہ حنا اختر،  پیارو عطا اور مبشر زیدی بھائی اور باقی میری کھنچی ہوئی ہیں

    جاری ہے۔

Design a site like this with WordPress.com
Get started