• حسن مجتبٰی

     ساتویں قسط

    ہم قدیم یروشلم کی عظیم گلیوں سے گزرتے ہوئے ایک عبادتگاہ لگتی عمارت کے چاندی کے جیسے دروازے تک پہنچے۔ اس دروازے والی عمارت کا نام “بیت الکبلا تھا” جو  قدیم یروشلم کی ایسی ایک گلی میں تھی، بیت الکبالا یعنی لفظی معنی میں خدا کا گھر ۔  یہودی عقیدے سے تعلق رکھنے والے یہ ان لوگوں کا طریقہ مسلک مسٹک یعنی صوفیانہ ہے۔ مسٹک ہونے کو تمہیں اپنا عقیدہ تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اور میسٹک یا صوفی ہر مذہب میں پائے جاتے ہیں۔ تو یہودی مذہب میں بھی مسٹسزم  چودھویں اور سولہویں صدی میں پھیلی۔ کبالسٹ یہودیت میں صوفیانہ طریقت ہے جس میں خدا، کائنات اور توریت کو اپنے میسٹک طریقوں سے بیان کیا گیا ہے۔ کبالے یا کبالے یا کبالا کا لفظی معنی ہے وصول کی ہوئی ولایت۔ یہودیت میں میسٹیسزم کے دو اور بھی فرقے ہیں جن میں سے ایک اشکنزئی یا ہاسیڈم یہودی اور دوسرے مراقبہ یا رابیہ مسٹیسزم والے ہیں۔ یورپ سے لیکر مشرق وسطیٰ اسرائیل تک اس میسٹسزم  کے پھلنے پھولنے کے جو زمانے  ہیں وہ بارہویں صدی سے سولہویں صدی تک ہیں۔ کیا اتفاق ہے کہ برصغیر ہندوستان میں عام طور اور سندھ میں خاص طور یہی گیارہویں صدی کے لگ بھگ یہی صدیاں تھیں جب اسلامی صوفی ازم کا پرچار لیے مسلمان درویش اور صوفی مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا سے ان خطوں میں پہنچے ہوئے تھے۔ یروشلم میں  کبالیوں کے  دو مراکز ہیں جنہیں یشیوا کہا جاتا ہے۔ ان میں سے ایک یہ قدیم یروشلم میں ہم دیکھ رہے تھے۔ اس خانقاہ یا یشیوا کے بیرونی چاندی نما دروازے کے ساتھ ربائی میر یہودی گیٹز کی تصویر لگی ہوئی تھی۔ جو تیونس میں پیدا ہو تھا اور یروشلم میں فوت ہوا۔ وہ دیوار گریہ کی عبادات کا نگران اور اسی بیت ال کبالا کا منتخب متولی تھا۔  ربائی گیٹز اسرائیلی فوج میں بھی رہا تھا۔ 

    یہ ذرا سا خنک لیکن مزیدار دھوپ والا اتوار کا دن تھا اور ہم انہی گلیوں میں گھوم رہے تھے جہاں سمیری، یونانی، رومن، برطانوی، عیسائی و مسلمان عرب اور یہودیوں کی تاریخ  خونچکاں چل رہی تھی۔ تمام تاریخ اس شہر یروشلم کی گلیوں، پتھروں کے گھروں  اور عمارتوں میں بقول ہماری ساتھی حنا اختر کے کہ سانس لے رہی تھی۔  اب ہم ایک بند پر رک گئے جس کی چابی ہمارے گائیڈ یشایا سلومون کے پاس تھی۔ قدیم یروشلم کی تنگ لیکن روشن و صاف پتھریلی  گلیوں، بازاروں، دکانوں، گھروں، عمارتوں میں مصروف جدید کاروبار زندگی  اس بند دروازے کا تالا کھولا تو اندر اوپر کو جانے والی سیڑھیوں کا طویل سلسلہ تھا۔ یہ سیڑھیاں جبل الزیتون، چار ہزار سالہ تاریخ  کو جاتی تھیں کہ یہاں سے اس مقام عظیم کا نظارہ درمیان میں تھا۔ چاروں اور عجب گجب مقامات محمودہ۔ ایک طرف سامنے سنہرا گنبذ یا ٹیمپل راک تھا تو اس کے دوسری طرف دنیا کا سب سے بڑا یہودی  قبرستان جہاں سوا لاکھ  تک قبریں بتائی جاتی ہیں۔ جن میں حضرت ذکریا سمیت کئی پیغمبروں کی قبریں موجود ہیں۔ اسرائیل کا سابق وزیراعظم  مینہام بیگن بھی یہاں دفن ہے۔ یہودی اپنی میتیں یہاں دفن کرتے ہیں۔ان کا عقیدہ ہے یہاں مسیحا موعود کی آمد ہوگی۔  

    یہی وہ جگہ ہے جہاں انجیل کے مطابق یسوع ٹھیک اسی جگہ پر سامنے سنہری گنبد کے دربار سے مخاطب ہوتے تھے۔ اور اپنے پیروکاروں کو تعلیمات بھی دیا کرتے۔ ایک روسی مہم جو اور لکھاری نکولس نکوٹوف کی ترجمہ کی ہوئی  کتاب “یسوع مسیح کی گمنام زندگی” کے مطابق سندھ کے تاجر یروشلم آئے تھے جو یسوع  کو اپنے ساتھ سندھ لے کر گئے تھے۔ یسوع کی اس وقت عمر چودہ سال تھی۔ اور انہوں نے چند سال ٹیکسلا کی بدھ مونٹیسوریز یا محرابوں  میں بھی گذارے اور ان کا گیان بھی حاصل کیا تھا، یاد رہے کہ نکولس نکوٹوف کا یہ دعویٰ کسی تحقیق سے ثابت نہیں ہوا ہے، گمان کیا جاتا ہے کہ ایک مفروضہ ہی ہے۔  اور روایت ہے کہ  وہ  جبل الزیتون کے پاس کے مقام پر وہ مصلوب ہونے کے بعد پھر سے زندہ ہوکر آسمانوں کی طرف چلے گئے تھے۔ یہ جبل الزیتون ایک پہاڑی سلسلہ ہے جسے زیتون کے ان باغات سے نسبت ہے جہاں یسوع  یا عیسٰی مسیح  نے اپنی زندگی کا ایک وقت گزارا۔ یہ جبل الزیتون یہودیوں، عیسائیوں اور مسلمانوں تینوں مذاہب کیلے ایک جتنی مقدس جگہ ہے کہ اسی مقام پر ایک طرف یہودی ٹیمپل ہے اور دوسری طرف عیسائی چرچ اور تیسری طرف سنہری گنبذ جہاں مسجد اقصیٰ ہے جس جگہ سے بیان کیا جاتا ہے کہ  پیغمبر اسلام محمد معراج کے سفر پر گئے تھے۔  قرآن کی یہ آیت میرے جیسے لایقین آدمی کی بھی پسندیدہ آیتوں میں سے ایک ہے کہ “پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے کو سیر کرائی مسجد الحرام سے لیکر مسجد الاقصیٰ تک”

     سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلاً مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ البَصِير

    ُ

    اور ہم جبل الزیتون کے نظارے کے بعد یہودا اسٹریٹ سے گزرتے تاریخی یہودی علاقے حروا یا حروات  پلازا کے اسکوائر میں آگئے جہاں قدیم تاریخی مسجد سیدنا عمر اور تاریخی قدیم آرتھوڈاکس یہودی  یا اشکنزئی سئناگاگ ساتھ ساتھ ہیں۔ قدیم یروشلم شہر کے سیاحتی  مرکز میں یہ  یہودی علاقہ اب تو جدید کیفیز، ریستورانوں اور سووینئر و جیولری کی دکانوں کا  مزکر ہے لیکن اس کی سب سے بڑی کشش یہ تاریخی سائناگاگ ہے جو دو سو سالوں  سے کئی ایک سے زیادہ بار کھنڈرات میں بدلا ہے اور پھر سے تعمیر ہوا ہے۔ اصل میں حروا کی عبرانی میں مطلب ہی ہے کھنڈر۔ یہ سائناگاگ  انیسویں صدی کے اوائل میں عثمانی ترکوں کے زمانے میں ترک سلطان کے معمار خاص اسد آفندی نے تعمیر کیا تھا جبکہ سیدنا عمر مسجد مملوکوں کے زمانے  چودھویں صدی عیسوی میں تعمیر کی  گئی تھی۔ کہتے ہیں کہ یہ مسجد ایک یہودی نے بنوائی تھی جس نے مذہب اسلام قبول کیا تھا۔ اس سے قبل ایک دفعہ اس سائناگاگ کو خود یہودی قرضہ دینے والوں کی آپس میں قرضوں پر جنگ میں بھی تباہی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بازنطینی، مسلمان، یہودی ،عثمانی ترک، انیس سو اڑتالیس کی عرب اسرائیل جنگ، اور انیس سو سڑسٹھ کی سات دن والی جنگ میں اولڈ سٹی یروشلم کو اسرائیل نے پھر سے حاصل کرلیا تھا۔انیس سو ستتر میں حراوا سائناگاگ کو جدید طرز پر تعمیر کیا گیا۔ اس کے  ایک طرف یہودی اور دوسری طرف مسلمان آباد ہیں۔ مسلم کوارٹرز میں داخل ہونے کو دمشق گیٹ اور یہودی علاقے میں داخل ہونے کو زیون  گیٹ۔ ہم زیون گیٹ سے یروشلم کے مرکز پر یہودی علاقے حروا اسکوائر میں داخل ہوئے تھے۔ یہ یہودی فن و ہنر چاہے بزنس و تفریح و سیاحت کا مزکز ہے۔ جیسا پرانا صدر کراچی بشمول ایمپریس  مارکیٹ۔  ہم یہاں شاہ بلوط کے درختوں کے سائے تلے دسمبر کی دھوپ میں تھوڑی دیر سستائے اور سووینیئر شاپ سے میں نے ایک بریسلیٹ اور ایک قدیم یروشلم شہر کی تصویر خریدی۔ بریسلیٹ  پر عبرانی میں کندہ تھا “دس شل پاس آن ٹو” ( یہ وقت بھی گذر جائے گا )۔ یروشلم کی اب گلیوں میں یہودی اور عرب بچے اکٹھے کھیل رہے تھے۔ شرارتیں کر رہے تھے۔ ہم نے ایک مشہور عرب فلافل کی دکان پر رک کر لنچ کیا، جہاں عرب اور یہودی گاہک کھچا  کچھ بھرے تھے۔ اور اب ہم دمشق گیٹ سے مسلم کوارٹرز  میں داخل ہو رہے تھے۔ تاریخی دمشق گیٹ جس کا ذکر فلسطینی ادب اور شاعری میں بھی آیا ہے۔ یروشلم کے ایک اس دروازے دمشق گیٹ سے جاتے اب عرب کوارٹرز شروع ہوتا تھا جو ایک گنجان بازاروں اور گھروں پر مشتمل علاقہ ہے۔ شکارپور کی ڈھک بازار یا حیدرآباد کی شاہی بازار کی طرح جاتا یہ علاقہ۔ عرب ہنر و فن و دستکاری کے علاوہ کپڑوں، لتوں، دستکاری، الیکٹرانک، چینی مال، جوتوں، قالینوں، گھریلو ڈیکور کی دکانوں اور چھوٹے بڑے اسٹالوں کا طویل و گنجان سلسلہ ہے۔سمجھو کہ زینب مارکیٹ۔ یہاں میں نے اپنی بیگم کی فرمائش پر مسجد اقصیٰ کا ماڈل خریدا اور اس کا ہدیہ عرب مسلمان بھائی  ڈالر میں اسرائیلی شیکل  کا کچھ گنا حساب لگا کر کچھ زیادہ ہی لینا چاہتا تھا کہ میرے دوست و میزبان یشایا نے مجھے بچالیا۔ یعنی کہ برادر اسلام کا اقصیٰ کے ماڈل پر بھی ناجائز منافع۔ مسجد اقصی کمپاؤنڈ سے زیاد دور نہیں اور اب ہم چلتے چلتے اس گلی پر پہنچ چکے تھے جہاں مسجد اقصی کا کمپاؤنڈ تھا اور ہم مسجد اقصیٰ کے اندر داخل ہونے کو اب پہلی محافظ چوکی پر تھے جو اسرائیلی پولیس کی چوکی تھی۔ اسرائیلی پولیس مسجد اقصی کی بیرونی سیکورٹی کا انتظام سنبھالتی ہے۔ 

    جاری ہے۔

Design a site like this with WordPress.com
Get started