پہلی قسط
حسن مجتبی
اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ میں کچھ اموات میری دوستیوں کی بھی ہیں۔ وہ دوست جو ملک پاکستان کے عالمی شہرت یافتہ سیانے اور لکھاری لوگ ہیں۔ برسوں سے بنے میرے اچھے دوست جنہوں نے مجھے انتباہ کیا تھا، سمجھایا تھا کہ، اگر تم اسرائیل گئے تو تو پھر ہماری اور تمہاری دوستیاں ختم۔ اور یہ کہ اسرائیل غزہ میں بچے قتل کر رہا ہے. میرے گھر والوں کو فکر تھی کہ وہاں اس وقت جنگ چل رہی ہے، یہ وقت باالکل اسرائیل جانے کا نہیں۔ وہاں جنگ زوروں پر ہے۔ وہ پیارے جو وہاں حالیہ دنوں میں جا چکے ہیں وہ بتاتے ہیں وہاں کچھ نہیں بس سائرن بجتے ہیں، تین منٹ کا تمہیں وقت ہوتا ہے، راکٹ اور مزائل غزہ سے حماس اور ایران، لبنان سے آنے سے پہلے تم “بم شیلٹر” میں گھس جاؤ۔ اور وہاں دس منٹ تک رہنا ہے۔ مگر دل مانتا بھی تھا اور نہ بھی مانتا تھا۔ ایسے موقعوں پر شیخ ایاز نے بڑی بھلی بات کی تھی کہ
“دوسرے کی بیشک بات سنو، مگر اپنا پیغمبر بن کر جیئو۔” یعنی کہ “پئنچوں کی بات سر آنکھوں پر لیکن نالی یہیں سے بہے گی۔” میں کہ ٹھہرا ایک روحانی خانہ بدوش جلاوطن شخص۔ ہمیشہ دل کا کہا مانا۔
تو جب امریکہ میں یوم تشکر منایا جا رہا تھا تو میں نے نومبر کی اس ایک تنہا، تیز پت جھڑ کی ہواؤں والی شام سورج ڈھلے میں اسرائیل کا سفر اختیار کیا۔
اسرائیل کا یہ میرا سفر نہ جانے کب سے شروع ہوتا ہے، شاید صدیوں سالوں سے۔ کیا اس دن سے جب سے پہلی بار میں نے قرت العین حیدر کے الہامی ناول “آگ کا دریا” میں ایک سطر پڑھی تھی، “اسرائیل کا نغمہ نواز۔”

تم جرمنی جا رہے ہو تو وہاں لوگ تمہیں یہودی خانہ بدوش سمجھیں گے” میرے دوست جاوید بھٹو نے ایک دفعہ مجھے کہا تھا۔ جاوید بھٹو جو کچھ سال ہوئے امریکہ میں ایک شقی القلب پاگل شخص کی گولی کا شکار ہوا۔ یہ گولی سندھ کے شعور کو لگی تھی۔ لیکن جاوید بھٹو کے خواب تو بلٹ پروف تھے۔
یا پھر اسرائیل کی طرف میرا سفر اس دن سے شروع ہوا جب سے ملک پیارے پاکستان کے سبز پاسپورٹ کے آخری پنے پر لکھا ہے “دنیا کے ہر ملک کیلئے ماسوائے اسرائیل کے۔” اور میں نے اقوام متحدہ میں دس جولائی دو ہزار آٹھ کو اس وقت کے پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی پریس کانفرنس کے دوران ان سے سوال کیا تھا کہ “پاکستان کب اسرائیل کو تسلیم کرے گا۔ کب سفارتی تعلقات قائم کرے گا؟ عرب ممالک تو اسرائیل کیساتھ بن گئے ہیں اور کیا آپ عربوں سے زیادہ عرب ہیں۔” ان کا جواب مجھے اب یاد نہیں لیکن گول مول جواب تھا۔ دنیا گول ہے، شاہ محمود قریشی اب قیدی ہیں اپنے ضمیر کے۔ وہ ایک ایسے طبقے سے ہیں جو زمانوں سے اسٹبلشمنٹ کا تابعدار و برخودار رہا ہے۔ شاہ رکن عالم کے گنبد پر بیٹھے کبوتر وہی۔ میری ایک نظم کی سطر ہے۔
تو پس عزیزو پاکستان کے پاسپورٹ کے آخری ورق پر تحریر ہے “دنیا کے تمام ممالک کیلئے ماسوائے اسرائیل کے۔” اور پھر بھی پیارے پاکستانی اسرائیلی اپارتھائیڈ کی اصطلاح کہتے ہیں۔ اس سے بڑی اور کیا اپارتھائیڈ ہو سکتی ہے کہ ایک ملک کی طرف سفر پر ہی پابندی لگائی جائے جو کہ انسان کے بنیادی حقوق میں سے ایک ہے۔ یعنی سفر کی آزادی کا حق۔ تو میرے بھی اس بنیادی حق کو سب سے پہلے میرے ہی بہت پیارے دوستوں نے تلف کرنے کی کوشش کی کہ حسن مجتبی مت جاؤ اسرائیل۔ یعنی کہ آپ کریں تو رقص اور ہم کریں تو مجرا۔ اے دیوار گریہ! ہر کسی کا اپنا رنڈی رونا ہے۔
دنیا کے دو ممالک میں سے ایک ملک جو کہ مذہب کی بنیاد پر قائم ہوا۔ دوسرا پیارا پاکستان۔ اسلامک ریپبلک آف پاکستان۔ جسے میں پیار سے اسلامک ریپبلک آف غائبستان بھی کہتا ہوں۔ میں اس اسرائیل کو دیکھنا چاہتا تھا جسے ہونا تو پاکستان کی جڑواں بہن تھی کہ دونوں کی اساسیت مذہب کی بنیاد ایک وجہ ہے۔ دوسرا میں وہاں اندرون خانہ جمہوریت یا انر ڈیموکریسی بھی دیکھنا چاہتا تھا۔ دیکھنا چاہتا تھا یروشلم جہاں کی ہر اینٹ اور پتھر کے نیچے سانس لیتی ہو قدیم ازمنہ تواریخیں ہیں۔ خود اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتا تھا کہ تین بڑے مذاہب اور پیغمبروں کی دھرتی پر تینوں مذاہب کے ماننے والے آپس میں کس طرح رہتے ہیں کہ نہیں۔ بنی اسرائیل ایک چنی ہوئی قوم۔ اسرائیل شہد، دودھ اور خون کی نہروں والا ملک۔ ویسے ایک اسرائیلی وہسکی کا نام “ملک اینڈ ہنی” بھی ہے جو کہ کافی مہنگی ہے۔ ڈیڈھ سو امریکی ڈالر جبکہ ایک اسرائیلی سرخ شراب کا نام “پریزیڈنٹ ٹرمپ ” ہے جس کا ذکر اس سفرنامے میں آگے چل کر ہوگا۔
پاکستان میں اگر شراب کی بھری ہوئی بوتل کسی سے برآمد ہو تو جرم قابل دست اندازی پولیس ہے۔ اور اگر پاکستان میں اسرائیلی شراب کی خالی بوتل بھی کسی سے برآمد ہو تو شنید ہو کہ وہ بھی قابل دست اندازی پولیس جرم ہے۔ ایک ایسا ملک جہاں کوکاکولا کو بھی اسرائیلی مصنوعات سمجھ کر بائیکاٹ کیا جاتا ہو۔ اور اس کا نعم البدل مشروب “خلافت” کی فخریہ پیشکش متعارف کرائی گئی ہے۔ کراچی بارایسوسی ایشن سٹی کورٹ نے تو قرارداد منظور کی کہ سٹی کورٹ کی حدود میں پیپسی اور کوکاکولا جیسی “اسرائیلی مصنوعات” کی فروخت و استعمال پر پابندی اور جرمانہ عائد کیے جاتے ہیں۔ پیسی اور کوکوکولا اسرائیلی نہیں بلکہ کوکوکولا پیپسی، مارلبورو سگریٹ اور جینز امریکی ایک ہٹی ہیں۔

تو میرا اسرائیل کا سفر امریکہ میں یوم تشکر والی اس شام اندھیرے اس وقت سے شروع ہو چکا تھا جب میں نے نیویارک کے جان ایف کینیڈی انٹرنیشنل ایئر پورٹ کے ٹرمینل فور پر اسرائیلی ایئرلائن ای ایل اے ایل یا ایلال کیلئے اوبر ٹیکسی طلب کی تھی۔ اوبر کا ڈرائیور مصری تھا۔ نیویارک کے علائقے اسٹوریا کا رہنے والا، جہاں ایک بڑی تعداد میں کئی برسوں سے عرب کمیونٹی بھی آباد ہے۔
“تم کہاں جا رہے ہو”
“تل ابیب” میں نے کہا
“وہاں ٹرانزٹ ہے یا قیام “ اس نے پوچھا
“کیا تم کبھی وہاں گئے ہو؟” میں نے اس سے پوچھا۔
“نہیں۔ لیکن ایک دن انشاءاللہ جب۔۔۔۔۔”
میں ٹیکسی کی تھوڑی کھلی کھڑکی اور ہوا کے شور میں اس کا مکمل جملہ نہیں سن پایا۔
“سفر با سلامت ہو”اس نے یہ کہتے مجھے اسرائیلی ائیر لائین کے پاس اتارا۔ جہاں مسافروں کی لائنیں لگی تھیں، ڈھیروں سامانوں کیساتھ ، زیادہ تر بنی اسرائیلی لوگ۔ ایسا لگتا تھا کہ یا تو وہ چھٹیاں منانے جا رہے ہوں یا پھر وعدہ کی ہوئی سرزمین کی طرف ہجرت۔ وہ “ایکسوڈس ” کی تصویر پیش کر رہے تھے۔
اسرائیلی ایئر لائن ای ایل اے ایل کے کیوسک پر کھڑے اس کے اہلکاروں نے مجھے ایک طرف کیا اور ان کے سوالوں کی بوچھاڑ نے مجھے اور میرے سوٹ کیس کو آڑے ہاتھوں لیا۔ میرا سوٹ کیس، میرا سوٹ کیس میرا ملک ہے۔ جیسے محمود درویش نے کہا۔ میرے سوٹ کیس نے میرے ہمسفر کتنے ہی ملک گھومے ہیں۔ ہر ملک کی اپنی ایک کہانی ہے۔ میرا سوٹ کیس زبوں حالت میں ہے لیکن میں اسے کسی پرانے دوست کی طرح چھوڑنا نہیں چاہتا۔ یہ سوچ کر بھی کتنا نہ دکھ ہوتا ہے، جب یہ سوٹ کسی کام کا نہیں رہے گا یا میں اس کے کام کا نہیں رہوں گا تو کسی کچرے میں پھینکا ہوا وہ کتنا غریب اور تنہا لگے گا۔ یا سڑک کے کنارے پھینکا ہوا بارشوں اور دھوپ میں۔ ہر سفر شروع کرنے سے پہلے اداسی بھرا خیال یہ بھی آتا ہے کیا خبر یہ سفر میرا اور سوٹ کیس کا آخری سفرہو، خیر۔

اب میرا یہ سوٹ کیس ہمراہ میرے زاد راہ اسرائیل کے سفر پر روانہ تھا۔ بیگیج کلیم پر اسے شناخت کرنے کیلئے میں نے اس کے ہینڈل میں سرخ تھگڑی باندھی ہوئی ہے، جیسی درگاہوں پر درختوں میں بندھی ہوتی ہے لیکن اسرائیلی ایئر لائن کے اہلکار میرے اس غریبانہ سوٹ کیس پر چند لحظوں متشکک نظریں ڈالے ہوئے تھے۔ شاید ہم مسلمانوں نے دنیا کے ساتھ سلوک ہی ایسا کیا ہے۔
اسرائیلی ایئر لائن ای ایل اے ایل کی چیک ان پر متعین اس کے اہلکار میرے جوابوں سے زیادہ اپنے سوالات میں دلچسپی رکھتے تھے۔
یہ کہ اسرائیل جانے کا مقصد کیا ہے؟
اسرائیل کتنی میعاد کیلئے جا رہے ہو؟
اسرائیل میں تمہارے کوئی عزیز و اقارب رہتے ہیں؟
اگر فیملی ہے تو پھر اکیلے کیوں جا رہے ہو؟
خاص طور پر ان ہی دنوں میں کیوں جا رہے ہو جب وہاں حالات ٹھیک نہیں ؟
کس کی دعوت پر جا رہے ہو؟
ان لوگوں کو تم کیسے جانتے جنہوں نے تمہیں مدعو کیا ہے؟
اور انہیں کب سے جانتے ہو؟
تم دو دفعہ دبئی گئے تھے کس مقصد سے گئے تھے؟
ٰٰحالانکہ میں دسیوں مرتبہ یورپ کے ممالک اور کینیڈا بھی گیا ہوں
کتنے عرصے سے امریکہ میں رہ رہے ہو؟
انہوں نے میرے سوٹ کیس کی دستی تلاشی لی اور پھر اسے مشین سے گزارا۔
میرے پاسپورٹ پر ڈبل سیکورٹی کا اسٹیکر چسپاں کردیا۔
امریکی سیکورٹی چیک ان اور امیگریشن سے بغیر سوالات کے گذر کر جب ای ایل اے ایل بورڈنگ ایریا پر آیا پھر ایک طرح کے سوالات لیکن اس دفعہ مجھے زبانی اور جسمانی انٹرویو کیلے ایک کمرے میں لے جایا گیا۔ ایسے سوالات اور سامان کی تفصیلی تلاشی سے میری دوست اور اسرائیل کو ہمسفر ساتھی حنا اختر کو بھی گزرنا پڑا جو واشنگٹن سے آئی ہوئی تھیں اور ہمیں اسی اسرائیلی پرواز سے سفر کرنا تھا۔ ہماری نشستیں الگ الگ تھیں۔ میں نے دیکھا کہ ایسے سوالات اور سیکورٹی چیک وہ اپنے اسرائیلی مسافران سے بھی رینڈم کر رہے تھے۔ تقریبا ایک طرح کے ویزا انٹرویو جیسے سوالات۔
یہ ان کا اسرائیل سمیت دنیا بھرکے ہوائی اڈوں پر ایک اپنا سیکیرٹی ضابطہ کار ہے اور اس کی ایک تاریخ اور اسباب ہیں ۔
ای ایل اے ایل کا قیام اتنا پرانا ہے جتنا اسرائیل ملک کا قیام۔ اوراسی طرح اس پر بھی ماضی میں حملے اور اس کے طیاروں کے مسافروں سمیت اغوا یا ہلاکتیں، یرغمالیت ابھی ماضی قریب کے قصے ہیں۔
میں بہت دور بہت دور انیس سو ساٹھ ، ستراور اسی کی دہائیوں میں پہنچ گیا، جب لیلی خالد اور جارج حباش کی تنظیمیں ای ایل اے ایل کے طیاروں کو نشانہ بناتی تھیں۔ ان اغوا شدہ طیاروں اور یرغمال مسافروں کی منزل کیوبا میں سینتیاگو اور لیبیا کا تریپولی ہوا کرتے تھے۔ “فتح فتح تل ابیب یاسر یاسر یا حبیب” جیسے نعروں کی بازگشت میں نے سندھ کے صحرا میں بھی سنی۔
ہمارے ہاں تو اردو میں اور پھر سندھی میں لیلی خالد کی آپ بیتی بھی چھپی ہے۔ کشور ناہید کے ہی لیلی خالد کی آپ بیتی والے اردو ترجمے کو سندھی میں بھی منتقل کیا گیا ہے۔ “ہم زندہ رہیں گے” جس میں اس نے ای ایل اے ایل کا طیارہ اغوا کرنے کے اپنے ارادے بتائے ہیں، شاید ذکر بھی کیا ہے جبکہ جارج حباش کی تنظیم پی ایف ایل پی یا پاپولر فرنٹ فار لبریشن آف پیلیسٹائین نے تل ایبیب اور لوڈ سمیت کئی ایئرپورٹوں پر ای ایل اے ایل کے طیاروں اور ان کے مسافروں کے خون اور آگ کے ڈرامے بھی کیے۔ بلیک ستمبر کسے یاد نہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق انیس سو اڑسٹھ سے لیکر انیس سو چوراسی تک ای ایل اے ایل پر پچپن حملے ہوئے، اغوا اور اس کے مسافروں اور عملے کے قتل کے واقعات ہوئے۔ یہ سب میں بچپن سے ہی پڑھتا اور بلیک اینڈ وائٹ ٹیلیویژن پر دیکھتا آیا تھا۔
ای ایل اے ایل اتنا ہی پرانا ہے جتنا اسرائیل یعنی دونوں کے قیام کا سال انیس سو اڑتالیس ہے۔ اس پر ڈیزائن شدہ اسرائیلی پرچم ساری دنیا میں اسرائیل کا تعارف ہے۔ سفارتکاری بھی۔

آخرکار جہاز پر سوار ہونے کا مرحلہ آیا اورمیں اپنی نشست پر جا بیٹھا۔ میرے ساتھ والی نشست پر ایک اسرائیلی خاتون تھیں۔ سارے جہاز میں زیادہ تر مسافر کپا یعنی سر کے بیچ چپکانے والی یہودی ٹوپیوں، یا راسخ العقیدہ زلف دراز سیاہ پوش اور ٹوپلے پہنے یہودی سوار تھے، جو اپنی نشتیں سنبھالتے جہاز ٹیک آف ہوتے ہی اپنی عبادات میں مصروف ہو گئے تھے- لیکن میں اب بھی گویا ایک حواس باختہ اجنبی مسافر۔ اپنی خود اعتمادی بحال کرنے اور شرمیلا پن ختم کرنے کو میں نے پاس کی نشست پر بیٹھی خاتون سے فون چارجر کی تار مانگی۔ اس خاتون نے مجھے یہ بتاکر اور بدحواس کردیا کہ میری نشست کے نیچے ہی فون چارج کرنے کے سوراخ لگے ہیں۔ لیکن ان سوراخوں یا ساکیٹ میں چارجر لگائے کون۔ میں ایسے کاموں میں ہمیشہ ناقص ثابت ہوا ہوں۔ اس مہربان اسرائیلی عورت نے میرا فون چارجر لگانے میں میرے مدد کی۔

نیویارک تا تل ابیب دس گھنٹوں کی براہ راست پرواز میں گویا خوف کے کیپسول میں سفر کر رہا تھا۔ ماضی بعید کی ان تین دہائیوں میں جب ای ایل اے ایل کے اسرائیل کے علمبردار طیارے پی ایف ایل پی یا فلسطینی فدائین کی دہشتگردی کے نشانے پر ہوتے۔ یہ تو مجھے بعد میں معلوم ہوا کہ ای ایل اے ایل کے اکثر طیاروں میں اینٹی میزائل ڈیفنس سسٹم اور راڈار سسٹم نصب ہوتے ہیں۔
پرواز پر فلمیں بہت ہی فارغ اور بچگانہ تھیں۔ گیمز میں نہیں جانوں، نہ ہی نیوز اور ٹی وی سے زیادہ دلچسپی۔ ہینڈ کیری سامان کے کپڑے کا تھیلا یا ٹوتھ بیگ جس میں دس گھنٹوں کی پرواز کا ٹیم پاس کرنے کو اسٹرینڈ بوک اسٹور کے اس بیگ میں میرا زادراہ میری کتابیں تھیں: سلمان رشدی کی “ نائف،” سرمد صہبائی کا ناول “دی بلیسڈ کرس،” اور میرے دوست منان احمد آصف کی کتاب “ڈسرپٹیڈ سٹی،” میں گھر ہی بھول آیا تھا۔ رفاقت حیات کے “رولاک” کی پی ڈی ایف کاپی بھی میرے فون میں تھی۔ میں نے خود سے وعدہ لیا تھا کہ پرواز پر نشست سنبھالتے ہی میں کتابیں پڑھنا شروع کروں گا، جنہیں پڑھنے کا نیویارک کی زمین پر تو زیادہ موقع نہیں ملتا۔ لیکن یہ نہ ہو سکا اب یہ عالم ہے والی بات تھی۔ رات کے کوشر کھانے اور اس سے قبل ایک ایک رکعت شراب کا مفتا دور بھی گذر چکا۔ لیکن دس گھنٹوں کی پرواز کا منٹ منٹ میری نشست کے سامنے مانیٹر میں پرواز کی رفتار باقی فاصلے پہ جمائے آنکھوں میں کٹی۔ لگتا تھا کہ دل کی دھڑکن طیارے کے پروں پہیوں سے بندھی ہے کہ پائلٹ نے لینڈ کرنے کو نچلی پرواز کا اعلان کیا۔ سر وادی سینا کے اوپر اٹھتے بگولوں کے درمیان طیارہ جھکورا کھاتا کبھی اورپر کبھی نیچے پروں پر اڑتا تل ابیب کے بن گورین انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اتر چکا تھا۔ یہ جمعہ تھا اور اسرائیل میں دوپہر کے سوا دو بجے تھے۔ میں وعدہ کی ہوئی سرزمین پر پہنچ چکا تھا۔ جاری ہے۔
تصاویر بشکریہ حنا بی بی
You must be logged in to post a comment.