• ہمارا میزبان سعودی عرب میں تبدیلیوں اور محمد بن سلمان کی پالیسیوں کا معترف تھا۔ جس دن سعودی عرب نے اسرائیل کو تسلیم کیا، انہوں نے کہا، پاکستان سمیت کئی ممالک اس کی تقلید کریں گے۔ پاکستان کیساتھ ہماری کوئی دشمنی نہیں۔

    دوسری قسط

    حسن مجتبٰی

    اسرائیل کا قائداعظم

    تو پس عزیزو، ہم وعدہ کی ہوئی سرزمین پر پہنچ چکے تھے۔

    “ویلکم ٹو اسرائیل” ایلائل کی پرواز میں سے، بن گورین انٹرنیشنل ایئر پورٹ کی راہداریوں میں پاسپورٹ کنٹرول کی طرف تیر کے اشاروں کو فالو کرنے سے بھی پہلے، جس بڑے بورڈ کی تحریر کے نیچے سے گزرے وہ یہ تھا۔

      *تل ابیب کے اس تاریخی انٹرنیشنل  ایئر پورٹ کا نام اسرائیل کے پہلے وزیر اعظم اور ریاست اسرائیل کے بانی اسحاق ڈیوڈ بن گورین کے نام پر رکھا گیا ہے۔ ڈیوڈ بن گورین اسرائیلی  پارلیمان یا کیسینٹ کا پہلا رکن تھا، جس نے اسرائیل کی آزادی کی دستاویز یا ڈیکلریشن آف انڈپینڈنس پر سب سے پہلے  دستخط کیے تھے۔ سمجھو کہ بن گورین اسرائیل کا قائداعظم تھا۔*

       دوسرے وسیع فرش کے دونوں کناروں سات اکتوبر کو حماس کے حملوں کے شکار لوگوں کی ان کے ناموں کیساتھ تصاویراور بڑے بینر جن پر لکھا تھا، “ان کو اب گھر واپس لائیں۔” لیکن ہم  میں سےجو فلسطین نواز سے زیادہ حماس نواز بنتے ہیں، انہوں نے سات اکتوبر کادن اپنے حافظے اور ضمیر  سے  کھرچ کر نکال دیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں سب کچھ گذشتہ ستر سال سے ہوا ہے اور اسرائیلی اور ان کے دوست سمجھتے ہیں یہ سب کچھ سات اکتوبر دو ہزار تئیس سے ہوا۔ اس سے قبل سب کچھ ٹھیک ٹھاک تھا۔ پر سات اکتوبر، دو ہزار تئیس کےکیلینڈر پر تو ہے خون میں نہلایا ہوا۔ اس قضیے کو  بھی اگلی قسطوں میں دیکھتے ہیں۔ ایک پھر اہلا و سہلا کی عربی اور اس کے عبرانی زبان میں خوش آمدید، جس کیساتھ کھجوروں کے درختوں والی تصاویر تھیں۔  میں پاسپورٹ کنٹرول کی مختصر سے لائن پر پہنچ چکا تھا۔ دو چند مسافر تھے مجھ سے آگے۔ میں نے سوچا جہاز تو کچھا کچھ بھرا ہوا تھا باقی لوگ کہاں گئے؟ پھر مجھے یاد آیا اسرائیلی شہریوں کیلئے الگ لائن تھی۔ وہ لائن بھگت کر گھر جا بھی چکے تھے۔

     “میں یروشلم میں پیدا ہوا۔ اردن میں بڑا ہوا۔ میرے پاس امریکی پاسپورٹ ہے پھر بھی مجھے چار پانچ گھنٹے اسرائیلی امیگریشن والے روکے رکھتے ہیں۔

     کل رات نیویارک میں  میری اوبر کا فلسطینی ڈرائیور مجھ  سے کہہ  رہا تھا۔

    میں اپنی باری پر پاسپورٹ کنٹرول والے کاؤنٹر پر پہنچا۔

    پھر وہی سوال۔

    “اسرائیل آمد کا مقصد؟”

    نوجوان اسرائیلی امیگریشن افسر نے مجھ سے پوچھا۔

    “میں ایک لکھاری ہوں اور یہاں کی ایک غیرسرکاری تنظیم”  شراکا”کی دعوت پر آیا ہوں ہولوکاسٹ ایجوکیشن پروگرام کے تحت۔

    میں نے اس نوجوان اسرائیلی افسر کوبتایا۔

    “کیا تمہارے پاس ان کا کوئی دعوت نامہ ہے؟” نوجوان افسر نے مجھ سے استفسار کیا۔

    میں نے اس کو اپنے واٹس اپ پر میرے میزبان شراکا کا دعوت نامہ دکھانے کو اپنا سیل فون آگے بڑھایا۔

    اس نے مجھ سے میرے اسرائیل میں قیام اور ہوٹل کا پوچھا

    “آٹھ دن، ہوٹل راوت یروشلم اور ایک رات پرائم ہوٹل تل ابیب”

    پھر اس نے اپنا فون اٹھایا اور کسی سے عبرانی میں بات کی۔

    فون رکھ کر اس نے پوچھا کوئی اور بھی اس دورے میں تمہارے ساتھ ہے؟

    میرے اس سفر میں ساتھی حنا اختر ساتھ والے کاؤنٹرپر اپنے سوال جواب سے فارغ ہو چکی تھی۔

    نوجوان افسر نے کہا اسے بلاؤ اور پھر حنا سے بھی ایک آدھ سوالات کے بعد کہا

    ویل کم ٹو اسرائیل، انجوائے۔”

    اس افسر  نے ہماری تصاویر کھینچ کر ہمیں، ہماری  تصویر والا شناختی کارڈ دیا۔ جسے ہم ایک ٹرنسٹائیل سے مس کر کے پاسپورٹ کنٹرول ایریا سے باہر نکل آئے۔

    وہ کارڈ ہمارے ہاتھ میں دیکھ کر وہاں کھڑے ہوئے ایک اجنبی شخص نے خوش مزاجی میں کہا

    “اب  آپ کو گرین کارڈ مل گیا۔” یہ  احساس ہوا کہ لوگ یہاں خوش مزاج اور دوستانہ رویہ رکھتے ہیں حالانکہ اسرائیل کی ٹور گائیڈ میں لکھا ہوا ہے کہ اسرائیلی فوج اور پولیس سے کبھی فنی نہیں ہونا، وہ حس مزاح سے عاری ہوتے ہیں۔ یعنی کہ ٹرگر ہیپی۔ جیسے کسی زمانے میں پاکستانی انگریزی اخبارات ایم کیو ایم کے بندوق بازوں کو  “ٹرگرہیپی یوتھ” لکھتے تھے۔

    “ہم وعدہ کی ہوئی سرزمین پر اتر چکے ہیں،” میں نے اپنے میزبان دوستوں یشایا اور ڈین کو واٹس اپ پر پیغامات بھیجے۔

    اب تک مجھے معلوم نہیں تھا۔ یہ جمعے کی شام یہودیوں کے شبات کی شام ہے، تب سے دوسرے دن یعنی بڑے دن سنیچر کی شام تک وہ کسی بھی مشین یا ٹیکنالوجی کو ہاتھ نہیں لگاتے، جس میں فون بھی شامل ہے، بجلی بھی، کار یا گاڑی بھی۔ کافی مشین بھی، عمارت یا گھر میں لفٹ بھی، نہ وہ پیسے کو ہاتھ  لگاتے ہیں نہ کاروبار کو، نہ ایسے کسی کام کو جس میں پیسے کو ہاتھ لگانا پڑے، اور نہ ہی کیمرے کو۔ تو فوٹو کا تو اس دن سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ شبات سمجھو کہ اسرائیل میں یا یہودی سماج میں مکمل پہیہ جام ہوتا ہے۔ ابھی شبات شروع ہونے میں دو چند گھنٹے تو باقی تھے۔

    میرے واٹس اپ پر ایک پیغام مجھے  نیویارک سے اسرائیل کیلئے ہوائی جہاز میں سوار ہونے سے پہلے مل چکا تھا، جو ساگی نام کے بندے کا تھا۔ پتہ نہیں کیوں یہ عبرانی نام ساگی مجھے فارسی یا اردو سندھی کا ساقی لگا۔

    ساگی نے اپنے ٹیکسٹ میں لکھا تھا

    “تل ابیب ایئرپورٹ پر امیگریشن کے بائیں ہاتھ پر بیگیج کلیم اور کسٹمز سے فارغ ہونے کے بعد جو ایگزٹ ستائیس ہے، وہاں سے لفٹ میں سوار ہونگے تو دوسرے فلور پر اتر جانا۔  یہ گراؤنڈ ٹرانسپورٹیشن ہے اور میں تمہیں سڑک کے پار کھڑا  ملوں گا۔

    مجھے ساگی کا یہ پیغام میری اپنی ایک نظم کی سطروں سے ملتا جلتا لگا: 

     “زرد پھولوں سے اٹے رستے پر جب تم بائیں ہاتھ مڑو گی تو خواب تمہیں مرجھائے ہوئے ملیں گے مگر تم اپنا سفر جاری رکھنا۔”

    تو جب ہم تل ابیب انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے باہر  نکل آئے تو سڑک کے پار ایک شخص دونوں ہاتھوں میں “شراکا” لکھا ہوا پلے کارڈ لیے کھڑا تھا۔ اور یہ بڑے تپاک سے ملنے والا شخص ساگی تھا۔ ساگی “شراکا” فیملی کا ایک برجستہ رکن اور ڈرائیور بھی ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ۔

    ہم ساگی کی سیاہ رنگ  منی بس میں سوار ہوچکے تھے۔ ایک اور ساتھی کا بھی انتظار تھا لیکن وہ اس دن نہیں پہنچ سکا۔ یہ افغانستان کے صحافی احسان االلہ امیری تھے، جو ٹورنٹو کینیڈا میں رہتے ہیں لیکن ان کا اصل تعلق بامیان افغانستان سے ہے اور وہ ہزارہ کمیونٹی سے ہیں ۔ یاد ہے بامیان جہان طالبان ظالمان نے  بدھ  کے ہزاروں سالہ قدیم مجسمے توڑے تھے۔ اور ہزارہ کمیونٹی کے دو ہزار قتل شدہ افراد کی اجتماعی قبریں بھی برآمد ہوئی تھیں بامیان سے۔ ان کو تو  طالبان اور ایسے ظالمان کے نزدیک “دیکھتے ہی گولی مار دینے کا حکم” تھا

    ساگی تل ایبیب کی جم پل ہے۔ وہ اس سے قبل اسرائیلی فوج میں تھا، اب ریٹائرڈ  ہے۔ ریٹائرڈ ہی سہی، میں پہلی بار اسرائیلی فوجی کو قریب سے مل  رہا تھا۔  اس کا بیٹا بھی فوج میں ہے اور وہ محاذ پر گیا ہوا ہے۔

    ساگی بتا رہا تھا ٹھیک ہے، وہ یہودی خاندان میں پیدا ہوا لیکن وہ لامذہب ہے۔ ہم اسرائیلی پروا نہیں کرتے کہ تم کون ہو۔ مسلم ہو، یہودی ہو، عرب ہو کہ اسرائیلی۔

    ساگی نے ہم سے کہا تم لوگوں  کے پاس دو آپشنز ہیں۔ سیدھا یروشلم ہوٹل چلییں۔ وہاں تازہ وازہ ہوکر پھر واپس شبات کے ڈنر میں ڈین کے گھر چلیں یا سیدھا یہاں سے ڈین کے گھر جائیں اور ڈنر کے بعد ہوٹل۔ وہاں بہت سارے لوگ آ رہے ہیں۔ ساگی کہہ رہا تھا ہمارے ہاں سمندر، پہاڑ، صحرا ایک ساتھ ہیں۔ پھر اس نے ساٹھ کے کانٹے پر رکھا۔

    ہماری منزل ڈین کا شہر رہووت تھا۔ نارنگیوں اورسائنس کا شہر۔ فری وے پر لد یا الد شہر اس کے قریب ہی آٹھ منٹ کی ڈرائیو پر تھا جو ہزاروں سال قدیم شہر ہے، جس کا ذکر نئے عہدنامہ  میں بھی ہے اور اس کے کئی قصے قدیم مقدس کتابوں میں بھی ملتے ہیں۔  رمل شہر میں ایک بڑی اکثریت ان یہودیوں کی ہے جو ہندوستان کے بٹوارے کے دوران یا اس کے بعد ہندوستان اور کراچی سندھی سے آکر یہاں آباد ہوئے ہیں، انہیں انڈین جیوز کہا جاتا ہے۔  

    رہووت  قدامت پسند اور مذہبی شہر ہے۔ یہاں کئی جدید اور قدیم سائناگاگ ہیں۔ ہم راہووت  پہنچ چکے تھے۔ یہ جدید عمارات پر مشتمل قدرے  قدامت پسند شہر تھا ۔ یہ  شبات کی شام تھی اور یہودی مرد، بچے اپنے روایتی لباس اور ٹوپیوں میں، ہاتھ میں کتاب لیے  ہر جگہ آتے جاتے دکھائی دیئے۔ اور ہم کہ  ٹھہرے فیض والے لبوں حمد لیے ہاتھ میں شراب لیے”

    ڈین کے گھر پہنچ چکے تھے۔ شبات کی وجہ سے لفٹ بند تھی۔ آٹھویں منزل پر ڈین اس کی بیگم، بچوں اور ان کی پالتو کتیا جنجر نے ہمارے گلے لگ کر بلکہ ہونٹ چوم کر استقبال کیا۔ انہوں نے ہم دو پیچھے سے پاکستانیوں پر اپنے گھر اور دل کے دروازے کھول دیئے تھے۔

    ڈین،ان کی بیگم اور بچے شبات کا عشائیہ تیار کرنے میں مصروف تھے لیکن ہم سے باتیں بھی کرتے رہے۔ اوپر کی منزل پر ان کا مہمان خانہ تھا۔

    یہ ایک خوشگوار شام تھی۔ موسم کراچی یا سان ڈیاگو کیلیفورنیا  جیسا تھا، نمکین خشمگین۔ فری وے پر ٹریفک رواں  دواں تھی۔ یہاں نہ سائرن، نہ بم شیلٹر اور نہ ایران، لبنان، حماس سے آتے ہوئے راکٹ اور میزائل۔ جیسے سنا تھا اس کے برعکس ۔ کون کہتا ہے کہ یہ ملک  حالت جنگ میں ہے؟

     یہ میرا کہیں بھی، اور اسرائیل میں اور یہودی فیملی میں شبات یا عشائیہ تھا۔  ہمارے میزبان ڈین نے اسرائیل میں ہمارے پہنچتے ہی اپنے گھر شبات کے ڈنر پر مجھے اور حنا کو مدعو کیا تھا۔ حنا اور میں پہلے اشخاص تھے جو اسرائیل میں ہمارے وفد کے باقی اراکین میں  سب سے پہلے پہنچے تھے۔

      شبات یہودی مذہب کا پہلا رکن بھی ہے اور تہوار بھی جو ہر ساتویں دن آتا ہے۔ شبات کا تصور یہ ہے کہ خدا نے چھ دن میں کائنات بنائی اور ساتویں دن آرام کیا۔ تو شبات خدا کے آرام کے احترام میں جمعہ کے روز غروب آفتاب سے سنیچر کی شام غروب آفتاب تک ہوتا ہے۔ اس دوران یہودی کوئی بھی کام نہیں کرتے۔ بس آرام دہ سرگرمیاں کرتے ہیں۔ کاروبار نہیں  کرتے، آگ نہیں جلاتے، کھانا نہیں پکاتے، کوئی ایسی سرگرمی نہیں کرتے جس میں پیسے کا تبادلہ یا دخل ہو، آٹو موبائل یا کسی بھی مشینری کا استعمال نہیں کرتے، لفٹ یا ایلویٹر استعمال نہیں کرتے۔ عبادات کرتے ہیں۔ مناجات پڑھتے ہیں۔ میں نے کہا نہ شبات کے معنی مکمل پہیہ جام ۔ کافی مشین سے لیکر بس تک کوئی چیز نہیں چلتی۔

     تو یہ شبات والی ہماری شام ڈین کے گھر میں  مناجات سے شروع ہوئی، جس کیلئے ڈین نے ہمیں اپنے پڑوسی دوستوں کے گھر دستوری دعائیہ تقریب میں شرکت کرنے کو دعوت دی۔ ایک متمول پڑوس میں شبات کی اس شام ہم نکلے۔ جس گھر کے لان میں یہودی مرد ترنم کیساتھ پیغمبر و بادشاہ داؤد اور دیگر کی گیتوں والی کتابوں  سے مناجاتیں پڑھ رہے تھے۔ ہم بھی اس میں شامل ہوگئے۔ ہوں تو میں لامذہب و لاخدا صوفی، لیکن ایک روحانی خانہ بدوش جس کو اس نوعیت کے اجتماعات میں بھی سکون ملتا ہے۔ میں اس سے قبل دنیا بھر میں کئی مساجد، مندر، گرجا یا چرچ، گردواروں، امام بارگاہوں، بدھ پگوڈاؤں وغیرہ میں گیا ہوں۔  پولینڈ میں  کئی تاریخی یہودی عبادتگاہوں سائناگاگ میں میرا جانا ہوا تھا لیکن میرے لئے مناجات  وعبادات کا یہ پہلا موقع تھا۔ ایک تاریخی سائناگاگ تو نیویارک میں میرے گھر کے ساتھ ہی واقع ہے۔ اگر نہیں گیا تو پارسی آتش کدوں میں جانا نہیں ہوا۔ لیکن مجھے ایسی مقدس جگہوں اوران میں اپنے اپنے عقائد اور طرایق  و معرفت سے عبادات و ریاضت کرنے، ایسے ریچوئیلز اور خاص طور پر سنگیت و سر یا خاص شاعری والے حصے نے خاصا متاثر کیا ہے۔

     اسرائیل میں اس پہلی شام رہووت شہر میں شبات کے اس اجتماع میں جو شام شبات کے دعائیہ  گیتوں کی کتاب میرے ہاتھ میں ڈین نے دی تھی، اس میں عبرانی کا انگریزی میں ترجمہ بھی تھا جس کی ایک سطر یوں نکل کر میرے سامنے آگئی تھی

    “نیک لوگ اپنی نیکیوں سے یوں تناور ہیں

    جیسے لبنان میں کھجور کے درخت

     جیسے وہ اپنے اعمال  میں سیب  کے شجر۔”

     ان سطروں میں لبنان کے انتہائی قدیمی ذکر پر میرا خیال حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان تب  دوسرا روز ہوئے جنگ بندی کی طرف گیا۔ اور اک خیال اس طرف بھی کہ جب حماس نے  سات اکتوبر کو اسرائیل پر حملہ شبات کے روز کیا۔ کہتے ہیں شاید اسی لیے اسرائیلی فوج نے حماس کو بروقت جواب نہیں دیا۔ شبات کے روز یہودی مذہب میں کوئی بھی جانفشاں  کام کرنے یا جنگ  کی ممانعت ہے

    شبات کی مناجات باقاعدہ چل رہی تھیں، ایک شخص کی قیادت میں دعائیں پڑھی جا رہی تھیں۔  میں نے نوٹس کیا کہ ایک منزل  پر یہ دعائیہ رسمیں ایسی تھیں جیسے شیعہ مجلس کے بعد زیارت پڑھی جاتی ہے۔ بس وہی اقامت میں زیارت پڑھنے والے رہنما کے پیچھے سر کو اسی طرح مختلف سمت جھکایا جاتا ہے کھڑے کھڑے۔ فرق صرف یہاں یہ ہے کہ یہاں اشہد کی انگلی نہیں اٹھائی جاتی۔ میں نے  سوچا ہو سکتا ہے ابراہیمی مذاہب والوں نے یہ ایک دوسرے سے یا سب نے بنی اسرائیل سے مستعار لیا ہو۔ جیسے حلال کا نعم البدل یہودی کوشر۔ شبات اگر یہودی تہوار ہے تو عیسائیوں میں وہی ثبات ہے۔ اگر تورا یا توریت میں چھ دن دنیا کو بنانے کے بعد خدا کا ساتواں دن آرام کا ہے تو یہی بات بائبل میں بھی ہے۔  اگر شبات مصر میں یہودیوں کی غلامی یا جبری مشقت سے نجات کے دن سے منسوب ہے تو اس کا ذکر بائبل میں بھی ہے۔ نیز یہ بھی کہ موسیٰ کی قیادت میں جب یہودی مصر سے ہجرت کرکے نئے وطن کو نکلے تھے۔

    تخلیق کائنات کے دلچسپ جرم پر

    ہنستا تو ہوگا آپ بھی یزداں کبھی کبھی

    “ ہم امریکہ سے آئے ہیں لیکن ہمارا تعلق پاکستان سے ہے” دعائیں ختم ہونے کے بعد ڈین کے پڑوسیوں سے ہم نے اپنا تعارف کرایا۔

    ڈین کے گھر پر پرتکلف شبات ڈنر لیکن بے تکلف گفتگو کا آغاز ہوا ہی چاہتا تھا۔ وہاں ایک اور ان کے دوستوں کی فیملی بھی پہنچ چکی تھی، جن کا اصل تعلق نیویارک سے تھا۔ ڈین کا والد بغدادی جیو تھا۔ بغدادی جیو اسرائیل میں کافی متمول جانے جاتے ہیں جبکہ ڈین کی اہلیہ نیویارک کی ہیں اور اسکول ٹیچر ہیں۔ ڈین خود اسرائیل کی قومی سلامتی کا مشیر رہ چکا ہے اور اسرائیل میں ہماری میزبان غیرسرکاری  تنظیم شراکا (شراکا کا ذکر آگے چل کر ہوگا) کے شریک ڈائریکٹر بھی تھا۔ ان کا پڑوسی اسرائیل میں سیاحتی ایجنسی چلاتا ہے جو اپنی بیوی اور دو نوجوان بیٹوں سمیت شبات ڈنر میں شریک تھا۔ شبات ڈنر کی میز سج چکی تھی۔

    لامذہب ساگی جیسا کہ تمام شراکا کے لوگوں کے گھر کا ایک فرد ہے جو گھر پر رہا لیکن دعاؤں میں شریک نہیں ہوا، ڈنر میں شریک تھا۔ ابھی شبات ڈنر کی دعائیں باقی تھیں۔  شبات کے ڈنر کی پہلی دعا تھی

    “سب تعریفیں تیری اے پالنہار تو جو کہ اس تمام کائنات کا پروردگار ہے، ہمیں زمین سے روٹی دیتا ہے۔”

    شبات کا آغاز سرخ شراب اور اس پر دعا جسے “کدش” کہتے ہیں سے ہوتا ہے۔ گھر کا مالک ہاتھ میں سرخ شراب یا انگور کی رس کا پیالہ اوپر کرکے دعا مانگتا ہے

    اور شام تھی، صبح تھی، ساتواں دن تھا۔ چھ دن میں خدا نے زمین بنائی، آسمان بنائے اور وہ پھل  جس سے شراب کشید ہوتا ہے، اس نے ساتویں دن آرام کیا۔” یہ کوئی پانچ سات منٹ کی دعا ہے۔

     شراب کے اس پیالے سے ہر بالغ شخص گھونٹ بھرتا ہے۔ دعا کے بعد لازم ہے کہ ہر شخص نل یا سنک کی طرف رخ کرکے اپنے  ہاتھ دھوئے۔

    اور  شبات کے عشائیہ میں سب سے پہلے توڑنے کو وہ خاص روٹی ہوتی ہے جسے “چلاہ”  کہا جاتا ہے جو اکثر گھر میں ہی بنائی جاتی ہے۔ چلاہ ڈین کی بیگم نے گھر پر بنائی تھی

    سرخ شراب، چلاہ روٹی، سوپ، سالم مچھلی، بیف، مرغی، سبزیاں۔ یہ ہوتے ہیں شبات کے ڈنر کے لوازمات یا کل وشرب۔

       ڈین کے گھر مختلف انواع و اقسام کی شرابیں یعنی وائینز تھیں، جن میں آج کل اسرائیل میں مقبول شراب “پریزیڈنٹ ٹرمپ”ظاہر ہے، ہمارے امریکی صدر ٹرمپ کے نام پر ہے اور گولان وادی کی شرابیں تھیں۔ گولان وادی جو اسرائیل شام سرحد پر ہے۔ آج کے ملک شام پر بشارالاسد کے دھڑن تختے کے بعد اقتدار پر قبضہ کرنیوالا محمد البشیر گولانی کہلاتا ہے۔  

    اسرائیل میں سرخ شراب گولان وادی کی بڑھیا ہے۔

    شبات کا ڈنر شراب کے ہی گلاس پر ختم ہوتا ہے۔ جس کا اختتام بھی دعا پر ہوتا ہے۔ بچوں کی ماں باپ کی، ان کے سر پر ہاتھ رکھ کر بلائیں لینے کی دعائیں الگ ہیں۔ گھر کی مالکہ یا لیڈی آف دی ہاؤس کیلئے الگ۔ سر ڈھانپنے کو “کپا” پہنے میں نے بھی ان تمام رسومات اور دعاؤں یا شراب کے کئی دوروں میں بھرپور حصہ لیا۔ میں  نے ڈین اور وہاں موجود لوگوں سے کہا “ شاید میں اگلے جنم میں یہودی تھا۔”

    مذاہب، اسرائیل، اسرائیلی، یہودی مذہب، اور تقابل ادیان کے متعلق متجسس حنا کے تیز و تند ذہین  سوالات ڈین اور وہاں موجود دیگر لوگوں سے جاری رہے۔ جن کا جواب وہ بہت ہی خندہ پیشانی سے دیتے رہے۔ اور اس جمعے ہماری مجلس رات گئے جاری رہی۔  وہ سعودی عرب میں آنیوالی  حالیہ تبدیلیوں اور محمد بن سلمان کی پالیسیوں کے بہت معترف تھے۔ پاکستان،سندھ بھی زیر بحث رہے۔ “ہماری تو پاکستان کیساتھ کوئی دشمنی نہیں” ڈین نے کہا۔ پھر کہا جس دن سعودی عرب نے اسرائیل کو تسلیم کیا، پاکستان سمیت کئی ممالک اس کی تقلید کریں گے۔ وہ اپنے گھر کے ایک کمرے میں گیا اور سندھی ٹوپی اور اجرک، اور چترالی ٹوپی ہاتھ میں لیے لوٹا۔ میرے ایک دوست نے چترالی ٹوپی کو ملالہ ٹوپی کہہ کر کئی امریکی سرکاری وسیاسی شخصیات کو یہاں نیویارک میں پہنائی تھی۔۔

     ڈین نے اپنے بیٹے کو بتایا کہ اجرک اور سندھی ٹوپی کس طرح پہنی جاتی ہے۔ ڈین سے ملنے والے کئی افراد یا وفود ان کو اس طرح کے تحفے تحائف دیتے رہتے ہیں۔ ڈین نے بتایا ایسے تحائف کا اس کے گھر ڈھیر لگ گیا ہے۔ جن میں پاکستانی اور سندھی تحفے بھی شامل ہیں۔

    رات گئے ہماری یہ کچہری جاری رہی۔ ڈین کہہ رہا تھا کہ تم لوگ یروشلم کے عرب کوارٹر جاکر گھوم سکتے، باقی شہر تو شبات کی وجہ سے بند ہوگا۔ رات کافی ہوگئی تھی۔ اور اب ہم ساگی کے ساتھ یروشلم کو روانہ تھے۔ 

    جاری ہے۔

Design a site like this with WordPress.com
Get started