چوتھی قسط
حسن مجتبٰی
اسرائیل میری سندھ کی طرح کتنے مختلف مذاہب کی جائے پیدائش یا تہاذیب کا گہوارہ ہے۔ مغرب کا وقت، جب زاہد معبد کو جاتا ہے اور رند میخانے کو۔
انہیں اندازہ نہیں تھا، ہم فلسطینیوں سے زیادہ فلسطینی، عربوں سے زیادہ عرب ہیں

یہ شبات کا ظہرانہ یہودیوں کا بڑا کھانا تھا۔ ہوٹل ورت کے وسیع بیسمینٹ طعام گاہ میں شبات کے ظہرانہ کی میزیں لگنے سے پہلے ہم نے، یعنی میں نے، حنا اور یشایا نے چوکڑی جمائے رکھی۔ اب ہمارے ساتھ سمیریا کے میئر کے معاون خاص بھی شریک ہوچکے تھے، دو سرخ شراب کی بوتلوں کے ساتھ۔ ان کا اصرار تھا کہ ہم سمیریا کے میئر کیساتھ والی میز پر شبات کے ظہرانے میں شریک ہوں۔ سمیریا کا میئر ہم سے ملنا چاہے گا۔ سمیریا دریائے اردن کے مغربی کنارے یا ویسٹ بینک پر فلسطینی شہر نابلس کے پاس شمال میں ہے اور انیس سو سڑسٹھ کے بعد اسرائیل کے زیر انتظام ہے لیکن سمیریا جس کا ذکر انجیل میں بھی ہے، میں ایک بڑی فلسطینی آبادی صدیوں سے آباد ہے۔ داؤد کی بادشاہت اور رومی سلطنت کے تلے کئی زمانوں سے آباد و مسمار پھر آباد شہر۔

اس شہر کا میئر آج شبات کے اس ظہرانے میں آیا ہوا تھا، اپنے نوجوان بچوں اور اہلیہ کیساتھ۔شبات کے اس بڑے کھانے یا ظہرانے میں یروشلم کے چھوٹے چھوٹے قصبوں یا دیہات سے چنے ہوئے نمائندگان اپنی فیملیوں سمیت یروشلم شہر کے اس ہوٹل میں شبات کے اس بڑے کھانے میں مدعو تھے۔ مجھے اسرائیلی دیہی زندگی اور قصباتی یہودیوں اور ان کی فیملیوں کو دیکھنے کا پہلا موقع ملا۔ وہی کئی بکھری ہوئی بڑی داڑھیوں والے نصرانی۔ کچھ تو کارل مارکس کی شکل سے ملتے جلتے تھے۔ قصباتی یہودی عورتیں رنگین لیکن دستکاری اور زیورات سے مزین۔ بچے جیسے داؤدی پینٹنگز میں سے نکل کر آئے ہوئے۔ کاسموپولیٹن شہری امیر اور متوسط طبقے کے یہودی مرد اور عورتیں، بچے یعنی کہ نہ کوئی بندہ رہا نہ بندہ نواز، کسان یہودی۔ ہم بھی سمیریا کے میئر شمرون یوسی دوگان کی میز پر جا براجمان ہوئے۔ میئر کا معاون خاص یوناتھن دوبود بھی ساتھ بیٹھا۔ میئر دوگان اس پر خوش تھا کہ ہم شراکا کی دعوت پر پاکستان سے آئے ہیں۔ وہ بھی ان حالات میں۔ وہ چاہتا تھا کہ ہم سمیریا کا بھی دورہ کریں۔ اسے یا اس کی طرح کئی اسرائیلیوں کو کوئی اندازہ نہیں تھا کہ ہم فلسطینیوں سے زیادہ فلسطینی اور عربوں سے زیادہ عرب ہیں۔ نہ یہ کہ ہمارا پیارے پاسپورٹ کا آخری پنا کہتا ہے دنیا کے تمام ممالک کیلئے ماسوائے اسرائیل۔ تاہم ہم بھی دنیا کے ان دو ممالک میں سے ایک ہیں جو مذہب کی بنیاد پر بنا ہے۔ میئر دوگان کی دعوت تھی کہ ہم وہاں چل کر خود دیکھیں کہ اس تقسیم اور جنگ کے دنوں میں بھی سمیریا میں یہودی اور فلسطینی کس طرح ساتھ رہ رہے ہیں۔ اسرائیل میں ہر سال بلدیاتی انتخابات ہوتے ہیں، جن میں رجسٹرڈ ووٹر اسرائیلی شہری ہوں کہ غیر شہری، ووٹ ڈالتے ہیں۔ آپ کو حیرت ہوگی کہ گذشتہ برس جنگ کے باوجود فروری میں اسرائیل میں بلدیاتی انتخابات منعقد ہوئے تھے۔ بلدیاتی انتخابات میں سمیریا کے ووٹرز نے میئر دوگان کو منتخب کیا اور وہ عرب ووٹروں کے ووٹوں کے بغیر شاید ہی آسکتے تھے۔ یہ شہر سمیریا اب ایک صنعتی شہر ہے اور وہاں زیادہ تر مزدور فلسطینی ہیں۔ حماس کے سات اکتوبر سے قبل کوئی روزانہ سترہ ہزار فلسطینی مزدور غزہ سے سفر کرکے اسرائیل کام پر آتے تھے اور کام کے بعد واپس گھر چلے جاتے تھے۔ وہ زیادہ تر کنسٹرکشن یا تعمیرات کے کام میں تھے۔ان کے جنگ کی وجہ سے اب نہ آنے سے اسرائیل میں تعمیرات اور ریئل اسٹیٹ مہنگے ہو چلے ہیں۔
میئر میٹھے کا شوقین تھا اور بچے بار بار اس کے سامنے کیک و مٹھائیوں کی پلیٹ رکھ رہے تھے اور وہ ہماری طرف بڑھا رہے تھے۔ وہاں میں نے دیکھا کہ نہ فقط یوناتھن دوبو مسلح ہے لیکن کئی، کیا جوان کیا پیر مرد، عورتوں چاہے مردوں کو اسرائیلی سب مشین گن اوزی لگی ہوئی تھی۔ میئر کے محافظ تو فاصلے پر تھے۔ میئر کا کوئی پروٹوکول نہیں تھا وہ ایک عوامی آدمی لگتا تھا۔ اب میئر دوگان کو موت کی دھمکیوں کے بعد پولیس کی بھاری سیکیورٹی حاصل ہے۔
ہماری میز پر تیز نشے والی روایتی تاریخی عرق کی چھوٹی چھوٹی گلاسڑیاں رکھے جاتی ہیں جو ہم نوش فرماتے ہیں۔ میں نے اور حنا نے اس کی پذیرائی میں کوئی کثر نہیں چھوڑی
شرب المشرقین شاید یہی عرق تھا۔ شرب المشرقین والشرب المغربین۔ اور تم کون کون سی نعمتوں کو ٹھکراؤ گے۔
اب حنا کو اور مجھے یشایا کے سنگ تھوڑی سی یروشلم کی آوارہ گردی مقصود تھی۔ جافا اسٹریٹ، جو کہ یروشلم کا مال ہے یا پھر جیسے برلن میں کودام اسٹریٹ۔ لیکن وہاں ہم نہیں گئے کہ شام بھی ہونے کو تھی۔ ہم یروشلم کے عرب علاقوں میں جانا چاہتے تھے۔ اگر تم عرب یا مسلمان نہیں لگتے پھر پٹائی کا امکان ہو سکتا ہے۔ کسی نے ہمیں ایک شام قبل متنبہ کیا تھا۔

میوزیم آف اسرائیل کھلا ہوگا۔ یشایا نے رائے دی اور ہمارے ساتھ ہولیا۔ یہ جدید شہر یروشلم میں شبات کی سہ پہر تھی۔ جدید یروشلم کچھ کچھ اسلام آباد سے مشابہ لگتا تھا۔ سرکاری دفاتر، وزارتوں کی اس شام بند عمارات، جس علاقے کو پرنسنکٹ کہتے ہیں۔ یہیں اسرائیلی وزارت امور خارجہ، داخلہ اور کچھ فاصلے پر اسرائیلی پارلیمان یا کونسینٹ تھی، جہاں کا بہرحال ایک روز بعد ہمیں دورہ کرنا تھا۔ سڑک اور شاہراہ پر اکا دکا ٹریفک تو تھی لیکن ٹیکسی یا پبلک ٹرانسپورٹ مفقود تھی۔ یہاں جگہوں، شاہراہوں، بزنس وغیرہ کے سائن بورڈ عبرانی اور انگریزی کیساتھ لازمی طور عربی میں ہیں کہ یہ پارلیمان میں مانا گیا امر ہے۔

آٹھویں جماعت تک استاد سلیم سولنگی صاحب سے پڑھی ہوئی عربی کافی مددگار ثابت ہوئی۔
“ من ھو رئیس الباکستان؟”
“ ذوالفقار علی بوتو رئیس الباکستان”
تب میرے پسندیدہ رٹے ہوئے عربی جملوں میں سے ایک ہوتے۔ پھر جو قرآن کے کچھ پارے ترجمے کیساتھ پڑھے الاس، ذوالفقار علی بھٹو کا میری کلاس روم کی ایک دیوار پر فر کے کالر والے کوٹ والی تصویر والا فریم۔ واقعی وہ رئیس الباکستان لگتا لیکن میں نے پوری کوشش کی کہ عربی زبان نہ سیکھوں کہ مجھے واقعی بھی تب مشکل لگتی اور استاد سلیم سولنگی صاحب کی سر توڑ کوشش تھی کہ بذریعہ مولابخش یعنی ڈنڈا پیر میں عربی سیکھوں۔ایک دفعہ تو دوران عربی پیریڈ ، میں کلاس روم سے سبق یاد نہ ہونے پر بھاگ بھی گیا لیکن تازے موٹے میرے کلاس ہم کلاسی مجھے واپس ڈنڈا ڈولی کرکے پکڑ کر لائے۔

شام یروشلم پر اترنے والی تھی اور پتھروں سے بنی عمارتیں اور ان کے بیچ ماحولیات کو متوازن رکھنے والے قدرتی چھوٹے بڑے پارک اور جنگل یروشلم کے جدید شہر کے پرزم سے دیکھے جانے والے مناظر پیش کر رہے تھے۔
ہم تیز قدموں سے تقریباً دوڑ لگاتے ہوئے میوزیم اسرائیل پہنچے جو کہ بند ہوا ہی چاہتا تھا۔ میوزیم اسرائیل میں داخلہ کیلئے کوئی داخلہ ٹکٹ نہیں تھا۔ یہاں کتابوں کا مقبرہ یا شرائین آف بوکس بھی قابل دید و انتہائی حیرت انگیز تھا
پارلیمان اور پرائم منسٹر ہاؤس کے سامنے پار سڑک پر سات اکتوبر کے یرغمالیوں کی واپسی میں تاخیر پر احتجاجی کیمپ لگائے ان یرغمالیوں کے گھر والے اس شہر کی شام کو سوگ کی دبیز دھن بنا رہے تھے۔
پتہ نہیں کیوں، جہاں بھی جاؤں، ہر شہر کی شام ایک اداسی اور سرخوشی ایک ساتھ لیے ہوتی ہے۔

میوزیم اسرائیل میں ہزاروں سال بند تھے۔ یہ تعمیرات کا نادر نمونہ جو انیس سو پینسٹھ میں ایک ہنگیرین مخیر یہودی کی مدد سے کھولا گیا ہے۔ جہاں ایک حصے پر سفید گنبد میں شرائین آف بوکس یا کتابوں کا مقبرہ ہے جہاں وہ عیسائی دو ہزار سالہ قدیم نسخے نمائش پر ہیں، جنہیں ڈیڈ سی یا بحیرہ مردار میں دبایا گیا تھا، جہاں وہ انیس سو سینتالیس تک گفاؤں میں چھپائے رکھے گئے تھے۔ یہ قدیم عہدنامے کے اسکرول سیاہ رنگ کے بڑے مرتبانوں میں رکھے گئے تھے، یہ مقام اس کے علاوہ چار ہزار سالوں کی تاریخ و تہذیب کا پتہ دیتا ہے۔ یروشلم یا سرزمین اسرائیل میری سندھ کی طرح کتنے مختلف مذاہب کی جائے پیدائش یا تہاذیب کا گہوارہ ہے۔ بادشاہ داؤد کے مجسمے، نمرود کا مجسمہ، توریت اور اس پر تاج، قدیم بیج جن سے پہلی کھیتی باڑی کی شروعات ہوئی سے لیکر مونالیزا اور سینٹ پیٹر قید میں سب تصاویر، نشانیاں و آرٹیفیکٹس موجود تھے لیکن پورا میوزیم گھومنے کو وقت بہت کم تھا۔
مغرب کا وقت عجیب وقت تھا اور میرے سامنے جدید یروشلم کسی کتاب کی طرح کھلا تھا۔ وہ وقت جب زاہد شام کی عبادت کو جاتا ہے اور رند میخانے کو۔ یشایا ایک یہودی معبد خانے میں شام کی عبادات کو رکا۔ جس کے باہر سوٹ کیس پڑے تھے۔ سوٹ کیس یہودی جلاوطنی کی نشانی ہے اور میں نے اور حنا نے ہوٹل کی راہ لی، جہاں ہمارے دوست عطا وسطڑو اور مبشر زیدی ایئر پورٹ سے آنے تھے۔ عطا امریکہ سے براستہ دبئی پہنچا تھا اور مبشر بھائی امریکہ سے براستہ ایتھیوپیا۔ آجکل متحدہ عرب امارات والے پاکستانی سبز پاسپورٹ والوں پر ناراض ہیں۔
یشیایا گھر سے فریش ہو کر ہوٹل آچکا تھا کہ اس کا گھر یہیں یروشلم میں ہے۔
اور ہم نے اس شب موشے دایان سینٹر کے تھنک ٹینک پروفیسر کے گھر پر ڈنر کو جانا تھا۔
جاری ہے۔
You must be logged in to post a comment.