• پانچویں قسط

    حسن مجتبٰی

    شبات شام  کے ملگجی اندھیرے میں  اختتام کو پہنچا تھا۔ ہوٹل میں اب ایک اور قسم کی افراتفری تھی۔ واپسی کی افراتفری، ان فیملیوں کی جو یروشلم میں شبات منانے کو اس ہوٹل میں ٹھہرے تھے۔ اب وہ اپنی واپسی کا رخت سفر  باندھے جانے کو تھے یعنی کہ کوچ کا نقارہ بج چکا تھا۔ ساری لفٹیں مصروف تھیں۔ بچے سارے جگ کے ایک جیسے ہوتے ہیں۔کئی تو اپنے والدین یا بڑوں کو سامان ہوٹل کی لابی تک لانے میں مدد کر رہے تھے اور کئی بغیر کسی مقصد لفٹ میں اوپر نیچے جا رہے تھے۔ ایسا بھی نہیں تھا کہ سارے لوگ ہوٹل میں رہنے ، باہر سے آئے تھے بلکہ کئی تو یروشلم شہر کے بھی لگتے تھے۔

    میں کبھی ہوٹل کی لابی میں آتا تو کبھی اپنے کمرے میں ہوٹل کی گیارہویں منزل پر کہ اس دن یروشلم کی اس شام پاکستان اور لندن وغیرہ سے لاپتہ لیکن اب پاکستانی فوجی تحویل میں قید اور خفیہ فوجی کورٹ سے سزایافتہ انسانی حقوق کے کارکن ادریس خٹک کی رہائی کیلے زوم پر ایک وسیع میٹنگ تھی۔ جس میں میرے دوستوں یعنی اس زوم اجلاس کی میزبان گلالہ اسماعیل نے مجھے نظم پڑھنے اور چند الفاظ بولنے کو کہا تھا۔ بولنے والوں کی فہرست بڑی طویل تھی اور اس زوم اجلاس کے تین حصے تھے، اور ایک سے ایک بڑے بھاری بھر کم نام یا ہیوی  ویٹس بولنے کو قطار میں تھے۔ پاکستانی یا پاکستانی منحرفین۔ وقاص گورایا، افراسیاب خٹک، گل بخاری اور ڈاکٹر عائشہ صدیقہ ایک ہی چھت کے نیچے، ادریس خٹک کی بیٹی، جگنو محسن اور دیگران۔ لگتا تھا کہ اتنے سارے لوگ بول رہے ہیں شاید ادریس خٹک رہا ہونے والا ہے۔ یا اب تو رہا ہونا چاہیے۔ وہ بھی جنہوں نے نافذ کی ہوئی گمشدگیوں  پر کبھی نہیں بولا۔ لیکن نہیں آئی نہیں آئی میری باری نہیں آئی۔  تاریخ چھوٹے  چہروں کو بھول جاتی ہے۔ شاید یہ بھی کہ  اب پروگرام کی میزبانی گلالہ کے ہاتھ میں بھی نہیں تھی۔  

    اب میرے دوست پیارا عطا اور مبشر زیدی بھی پہنچ چکے تھے۔ پارٹی تو اب شروع ہونی تھی۔ اب جاکر ہوٹل کے ریسٹورنٹ کی کافی مشینیں اور بار کا کاروبار شروع ہونا ہی چاہتے تھے۔

    ہم ساگی کی منی بس میں یروشلم کے راستوں روڈوں سے گزرتے ، عشائیے کو پروفیسر نر بامس کے گھر پر پہنچے۔ پروفیسر نر بامس نے اپنے گھر کی چھت پر یروشلم کی اس خنک شام ہمارا ایک استقبالیہ ٹائپ عشائیہ  کیا ہوا تھا۔ ہم شراکا کے دسمبر کے اس وفد کے اعزاز میں۔ یروشلم اور تل ابیب سے اپنے پڑوسیوں سمیت کیا معرکتہ آلارا لوگ بلائے ہوئے تھے ڈاکٹر نربامس نے۔

    ڈاکٹر نر بامس اسرائیل کے اہم دماغ اور تھنک ٹینک ہیں۔ وہ مشرق وسطیٰ اور افریقی علوم پر تھنک ٹینک ادارے موشے دایان سینٹر کے سینئر ریسرچ فیلو اور بین الاقوامی امور و تعلقات پر کئی کتابوں کے مصنف ہیں اور کئی اہم اداروں کے کرتا دھرتا بھی ہیں۔ مشرق وسطٰی کے منحرفین کی آن لائن ویب سائیٹ کے بھی بانی ہیں اور دنیا بھر کے اسکولوں میں پڑھائی جانی والی عدم برداشت اور جمہوریتوں میں انفارمیشن  ٹیکنالوجی کے استعمام پر بھی۔

    موشے دایان سینٹر اسرائیل کے سابق وزیر دفاع اور لیڈر کے نام پر ہے جو انیس سو انسٹھ میں تل ابیب میں قائم کیا گیا تھا۔ اب کئی سال ہوئے کہ یہ سینٹر تل ابیب یونیورسٹی سے بھی ملحقہ ہے۔

    موشے دایان کا نام  پہلی بار میں نے بچپن میں ذوالفقار علی بھٹو کی زبان کے حوالے سے پڑھا یا سنا تھا، جب انہوں نے کہا تھا “ہم موشے دایان کی دوسری آنکھ بھی نکال دیں گے کیونکہ موشے دایان کی ایک آنکھ پر کالی پٹی یا پیچ لگا تھا۔ یہ ہمارے برکلے اور آکسفورڈ کے تعلیم یافتہ لیڈر تھے جو کسی انسان کی کسی بھی جسمانی معذوری پر ایسا بیان داغتے تھے۔ یعنی تشدد سے بھرپور۔ بھٹو لیڈر نہ ہوئے گویا گوجرانوالہ یا لاہور کے پہلوان ہوئے یا وہ موچی گیٹ والوں سے موچی گیٹ کی ہی زبان میں آکر بات کرتے تھے۔ لیاری والوں سے لیاری والوں کی زبان میں کہ” اگر شیرک اور دادل غنڈے ہیں تو مجھ سے بڑا غنڈہ کون ہوگا”

    پھر یہ کہ بھٹو کی موشے دایان کے متعلق ایسی بڑھک ان دنوں شاہ عالم مارکیٹ میں آٹھ آنے یا ایک روپے والی  دیوار پر ٹانگنے والے کیلینڈر نما پوسٹر شائع ہوکر پورے پاکستان میں بکے تھے۔ ایک طرف مکا لہراتے ہوئے غصیلے منہ والے بھٹو کی تصویر اور دوسری طرف ایک آنکھ پر پیچ پہنے موشے دایان کی تصویر، اس تحریر کے ساتھ کہ “ہم موشے دایان کی دوسری بھی آنکھ نکال دیں گے۔” موشے دایان جب وہ فوج میں تھے  ان کی ایک آنکھ کسی  بندوق باز  کی اس گولی سے نکلی تھی،  جب اس کی گولی کے اثر سے پتھر اور شیشے  کے ذرے اڑ کر  موشے  دایان کی ایک آنکھ میں لگے تھے، جس سے آنکھ کو ضائع ہو گئی تھی۔

    ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کے وہ لیڈر تھے جو اسرائیل اور انڈیا دشمنی والے  بیانیہ کو اور زیادہ انتہاؤں  پر لے گئے،  جیسا کہ “ہم ہزار سال تک انڈیا سے لڑتے رہیں گے۔” اور اسرائیل کیخلاف تو اس نے تمام مسلم چاہے عرب قومپرستی کو ایکسپلائیٹ کیا،خیر۔ یہ تو ہوا برسبیل تذکرہ ۔

    ڈاکٹر نر بامس نے اپنے گھر کی چھت پر دیکھو کس کس کو بلایا ہوا تھا۔ اسرائیلی مصنف اور عالمی امور کے ماہر جوزف  کاکس، اسرائیلی ٹیلیویژن  کے سابقہ نیوز کاسٹر اور صحافی لارا کارن فیلڈ، اور اس یہودی ربی کا دوست بھی جو تازہ دبئی میں قتل ہوا۔ ان دونوں کا تعلق یروشلم سے ہے۔ مقتول ربی کا یہ دوست اب بھی بہت عرصے سے دبئی میں مقیم  ہے۔ ہمارے میزبانوں میں سے یشایا روزمین اور شراکا کے  الیسا اور امیت بھی  تھے ۔ ہر وقت مستعد اور توانائی سے بھرپور۔ عشائیے کے لوازمات میں سرخ شراب کی صرف ایک ہی بوتل تھی، سو بھی بھلا ہو لارا کارن فیلڈ لائی تھیں۔ لارا کارن فیلڈ وائن، وہسکی اور کافی سے پیار کرنے والی ہیں۔ لارا کی لائی ہوئی وائن کی بوتل ہم سدا کے پیاسوں  کیلئے حلق تر کرنے کو کافی تھی۔ ویسے بھی ہمیں نیند نے آ لیا تھا۔

    ڈاکٹر نر اور مبشر زیدی نے ڈاکخانہ ملایا کہ ڈاکٹر نر  کی پی ایچ ڈی میری لینڈ یونیورسٹی سے تھی ۔ وہ واشنگٹن میں اسرائیلی سفارتخانے میں تعلیمی رابطہ کا ر بھی رہے ہیں۔ ڈاکٹر نر نے مبشر کو اپنی کتاب “ایکسپیٹ۔ آنگ ڈیموکریسی- ڈسیئڈنس،  انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ڈیموکریسی ان مڈل ایسٹ” بھی تحفے میں دی۔

    ڈاکٹر نر نے مجھ سے پوچھا تم پولینڈ میں آشوٹز میں گائیڈ اگاتھا سے ملے تھے- وہ میری بیوی ہے اور اس کا پورا خاندان ہولوکاسٹ میں مارا گیا تھا۔

    ڈاکٹر نر نے کہا اگر اس وقت کہا جاتا  کہ “نہیں پھر کبھی نہیں” (“نیور آگین”) تو پھر شاید دنیا نسل کشیوں سے بچ جاتی۔

    وہ بتا رہے تھے  ادھر اس جگہ جہاں تم بیٹھے ہو، کئی بار فلسطینی لیڈروں سے مذاکرات ہوئے لیکن امن قائم ہوا بھی تو لیکن زیادہ دیر نہیں۔ وہ مبشر زیدی کے اس سوال کا جواب دے رہے تھے کہ “آخر کچھ لوگ تو اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان ہونگے جو جنگ نہیں چاہتے ہونگے؟” مبشر زیدی یہ سوال تقریباً  ہر اس اسرائیلی سے پوچھا کرتے جو کہ کچھ نہ کچھ  پوزیشن میں تھے۔

    پروفیسر نر نے پوچھا کہ دنیا میں کون سی پارٹی اچھی پارٹی ہے۔ پھر کہا “سی جی پی”  ہم نے کہا “سی جی پی؟” انہوں نے کہا “ہاں  سی  پی جی۔ معنی کولیشن آف گڈ پیپل۔

    Coalition of Good People (CGP)

    اب رات کی خنکی اور نیند ہم پر اپنے بازوئے پھیلانے لگی تھیں ۔اس پر وہ شعر یاد آیا

    یہ سرد رات یہ آوارگی اور نیند کا بوجھ

    اپنے شہر میں ہوتے تو گھر گئے ہوتے

    اب تو یاد بھی نہیں رہا،  اپنے شہر کو یاد رکھتے ہوئے ،  دنیا کے جس شہر بھی جاؤں، اس کو اپنا ہی شہر سمجھا ہے اور خود کو گلوبل سٹیزن۔

    واپس ہوٹل  پہنچے اور لابی میں ایک جنٹلمین اور اسکالر ایک عظیم الشان شخص رات گئے ہمارا انتظار کر رہا تھا، اپنی کتاب کی ساتھ۔ یہ یروشلم کے عالم و محقق اور مصنف ڈاکٹر عیال بری ہیں۔ جن کی تحقیق بھارت میں پٹھانوں یا پختونوں پر برسہا برس رہی ہے۔ نیز ان کی اس تحقیق کا نچوڑ ان کی کتاب “پٹھانس یا پختونس ان انڈیا” ہے۔ ڈاکٹر عیال بری ہم سے بڑی گرمجوشی سے ملے۔ مل کر خوش تھے۔ اور ہم بھی۔ انہوں نے ہمیں یعنی مجھے، حنا اور مبشر کو اپنی دستخط شدہ کتاب عنایت کی۔ دو ہزار سولہ میں بھارت کے پشتونوں کا ایک وفد بھی اسرائیل لیکر آئے تھے۔

    یہ تو آپ کو پتہ ہے کہ پٹھان نہ فقط انڈیا میں چھائے ہوئے ہیں بلکہ ہمارے اصل قائد اعظم باچا خان عبدالغفار خان کو “سرحدی گاندھی” بھی کہا جاتا  تھا۔

    شاید یہ کم لوگوں کو پتہ ہو کہ باچا خان کی اہلیہ کی قبر یروشلم میں ہے۔ ہوا یہ تھا کہ باچا خان اپنی اہلیہ کے ہمراہ اسرائیل کے دورے اور یروشلم کی زیارت  پر آئے تھے۔ یروشلم میں ان کی اہلیہ سیڑھیوں سے گر کر فوت ہوگئیں۔ جنہیں  یروشلم میں ہی دفن کیا گیا تھا۔  کل کا دن بڑا دن ہے کہ اسی قدیم یروشلم شہر کی سیڑھیوں  پر ہی ہمارا اتار چڑھاؤ ہے۔

    جاری ہے۔

Design a site like this with WordPress.com
Get started