حسن مجتبٰی

آج کل معرکے  پیپسی کولا کو اسرائیل سے نتھی کرکے اس کا بائیکاٹ کر رہے ہیں یا لوٹ رہے ہیں۔ اور یہ کہتے ہوئے کہ پیپسی کا مطلب ہے پریزرو ایوری پینی سیوڈ  فار اسرائیل ۔خیر میں تو کوئی بھی سافٹ ڈرنک یا سوڈا اکثر نہیں پیتا۔ لیکن تاریخی سچائیاں بہت بہت مختلف ہیں۔  پیپسی نہ اسرائیلی مصنوعات ہے اور نہ ہی اسرائیل میں بکتی ہے۔ بلکہ  پیپسی نے اسرائیل کا بائیکاٹ کر رکھا ہوا تھا ۔اسرائیل میں پیپسی نہیں پی جاتی۔ 

میرا اسرائیلی دوست جو تاریخ اور سیاست کا گہرا مطالعہ کار بھی ہے کہتا ہے یہ کہانی انیس سو ستر کی دہائی کو جاتی ہے، جب اسرائیل سے جنگ کے بعد عربوں نے تیل کی سیاست کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا تھا اور اسرائیل سے سیاسی چاہے کاروباری تعلقات رکھنے والے ممالک سے لین دین ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ جس پر  جاپان جیسے ملک نے بھی اسرائیل کا بائیکاٹ کیا تھا۔ جاپان جو کاروں کی صنعت میں دنیا میں اپنا مقابل شاید ہی رکھتا ہو، اس کی کاریں تب  سے اسرائیل شاذ و نادر ہی آئیں کیونکہ کاروں کی صنعت اور تیل کا تعلق گھاس اور گھوڑے جیسا ہے۔ ادھر ذوالفقار علی بھٹو نے بھی عربوں  کی اسرائیل سے اس وقت خراب تعلقات اور تیل کو مشرق وسطیٰ میں ہتھیار والے نعرے  اور سیاست کو خوب ایکسپلائٹ کیا۔ نیز اس نے لاہور میں دوسری مسلم سربراہ کانفرنس منعقد کروائی۔ جس پر ایک الگ بلاگ ہو سکتا ہے، تو کوکاکولا کے مقابلے میں پیپسی نے بھی اسرائیل کے بائیکاٹ کا اعلان کیا اور ایک عرب ممالک کی  دوست مشروب کہلائی۔

تب سے آج تک اسرائیل میں پیپسی فروخت نہیں ہوتی۔ یہ اور بات  ہے کہ پاکستانی میوہ جات بشمول آم اسرائیل کی مارکیٹ میں پہنچ جاتے ہیں۔لیکن  بھائی لوگ ہیں کہ سر والوں کے کہنے پر  پیپسی، کوکاکولا، کے ایف سی ، میکڈونالڈ کا  متشدد بوائے کاٹ جاری رکھا ہوا ہے جبکہ میکڈونالڈ کا جو سی ای او ہے ، اسرائیل میں وہ یہودی سیٹل منٹس کیخلاف  اور لبرل گردانا جاتا ہے ۔

جہاں میں آگ لگاتی پھرے گی بولہبی

Posted in

Leave a comment

Design a site like this with WordPress.com
Get started