حسن مجتبٰی

ہم بلوچ عورتیں
اب پہاڑ بن چکی ہیں
تم پر چیختا صحرا
دھاڑتا سمندر
جس میں ہمارے گمشدہ بیٹوں، بھائیوں، شوہروں کے دکھ تمہیں بہا لے جائیں گے
وطن ہمارا ہے
گوادر ہمارا، پسنی جیونی ہمارا،
ہمارا مستونگ قلات،جھالاوان، ساراوان ہمارا،
چاغی، چاہ بہار ہمارا
تہمارے ہاتھ میں بندوق
ہمارے ہاتھوں میں اب بھی پھول ہے
تمہاری بندوقیں ہمارے بلٹ پروف خواب کے سامنے بے معنی ہیں
بے معنی ہیں تمہارے سب جھوٹ
جیل، ویگو شیگو، کالی پٹیاں، ٹارچر سیل، پھانسیاں، فائرنگ اسکواڈ
ہم ہمارے صحرا سے اٹھنے والے بگولے ہیں
ہمارا وطن غائبستان نہیں
یہ بلوچستان ہے
اب آزادی بس کچھ کوس دور ہے
تاریخ کے آگے دیر ہے اندھیر نہیں
یہ ہمارے پہاڑ ہمارے صحرا ، ہمارے
سمندر،

ہم پر ہمارے بچوں بھائیوں اور شوہروں، محبوبوں پر ڈھائے ہوئے تمہارے مظالم، تمام گمشدگیوں، ماراماری کے چشم دید گواہ ہیں، فریاد کناں ہیں
ہم بلوچ عورتیں
تمہارے لانگ بوٹوں اور بندوقوں سنگینوں تلے آئی ہوئی مادر سرزمین
پر ہم بلوچ عورتیں سونامی ہیں
آزادی کی بارات ہیں
جنہوں نے اپنے کاندھوں سے اپنے پیاروں کے جنازے دفن کیے ہیں
ہم بلوچ عورتیں
ہم بلوچ بچیاں
ہم سب ماہ رنگ
ہم سب کریمہ

ہم سب سّمی
پریس کلبوں کے سامنے اپنے پیاروں کی تصویریں اٹھانے کا وقت گذرنے والا ہے
تم اب گیا ہوا وقت بننے والے ہو
بس کچھ دنوں کی بات ہے
کیا کوئی بہار کو روک سکا ہے
کیا دنیا میں کوئی بھی چھاؤنی
آزادی کو روک سکی ہے
کیا تمہاری بندوقیں ہمارے ہاتھ میں ان کھلنے والے پھولوں کو روک سکتی ہیں
نہیں ہر گز نہیں
آزادی ہمارا مقدر ہے
خواری تاریخی خواری
تمہارا مقدر

Posted in

Leave a comment

Design a site like this with WordPress.com
Get started