حسن مجتبٰی

    اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ میں کچھ اموات میری دوستیوں کی  بھی ہیں۔ وہ دوست جو ملک پاکستان کے عالمی شہرت یافتہ سیانے اور لکھاری لوگ ہیں۔ برسوں سے بنے میرے اچھے دوست جنہوں نے مجھے انتباہ کیا تھا، سمجھایا تھا کہ، اگر تم اسرائیل گئے تو تو پھر ہماری اور تمہاری دوستیاں ختم۔ اور یہ کہ  اسرائیل غزہ میں بچے قتل کر رہا ہے.  میرے  گھر والوں کو فکر تھی کہ وہاں اس وقت جنگ چل رہی ہے، یہ وقت باالکل اسرائیل جانے کا نہیں۔ وہاں جنگ زوروں پر ہے۔ وہ پیارے جو وہاں حالیہ دنوں میں جا چکے ہیں وہ بتاتے ہیں وہاں کچھ نہیں بس سائرن بجتے ہیں، تین منٹ کا تمہیں وقت ہوتا ہے، راکٹ اور مزائل غزہ سے حماس اور ایران، لبنان سے آنے سے پہلے تم “بم شیلٹر” میں گھس جاؤ۔ اور وہاں دس منٹ تک رہنا ہے۔ مگر دل مانتا بھی تھا اور نہ بھی مانتا تھا۔ ایسے موقعوں پر شیخ ایاز نے بڑی بھلی بات کی تھی کہ

“دوسرے کی بیشک  بات سنو، مگر اپنا پیغمبر بن کر جیئو۔” یعنی کہ “پئنچوں کی بات سر آنکھوں پر لیکن نالی یہیں سے بہے گی۔”  میں کہ ٹھہرا ایک روحانی خانہ بدوش جلاوطن  شخص۔ ہمیشہ دل کا کہا مانا۔

تو جب امریکہ  میں یوم تشکر منایا جا رہا تھا تو میں نے نومبر کی اس ایک تنہا، تیز پت جھڑ کی ہواؤں والی شام سورج ڈھلے میں  اسرائیل کا سفر اختیار کیا۔

   اسرائیل کا یہ  میرا سفر نہ جانے کب سے شروع ہوتا ہے، شاید صدیوں سالوں سے۔  کیا اس دن سے جب سے پہلی بار میں نے قرت العین حیدر کے  الہامی ناول  “آگ کا دریا” میں ایک سطر پڑھی تھی، “اسرائیل کا نغمہ نواز۔”

  تم جرمنی جا رہے ہو تو وہاں لوگ تمہیں یہودی خانہ بدوش سمجھیں گے” میرے دوست جاوید بھٹو نے ایک دفعہ مجھے کہا تھا۔ جاوید بھٹو جو کچھ سال ہوئے امریکہ میں ایک شقی القلب پاگل شخص کی گولی کا شکار ہوا۔ یہ گولی سندھ کے شعور کو لگی تھی۔ لیکن جاوید بھٹو کے خواب تو بلٹ پروف  تھے۔

  یا پھر اسرائیل کی طرف میرا سفر اس دن سے شروع ہوا جب سے  ملک  پیارے  پاکستان کے سبز پاسپورٹ کے آخری پنے پر لکھا ہے “دنیا کے ہر ملک کیلئے ماسوائے اسرائیل کے۔” اور میں نے اقوام متحدہ میں دس جولائی دو ہزار آٹھ کو اس وقت کے پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی پریس کانفرنس کے دوران ان سے سوال کیا تھا کہ “پاکستان کب اسرائیل کو تسلیم کرے گا۔ کب سفارتی تعلقات قائم کرے گا؟ عرب ممالک تو اسرائیل کیساتھ بن گئے ہیں اور کیا آپ  عربوں  سے زیادہ عرب ہیں۔”  ان کا جواب مجھے اب یاد نہیں لیکن گول مول جواب تھا۔ دنیا گول ہے، شاہ محمود قریشی اب قیدی ہیں اپنے ضمیر کے۔ وہ ایک ایسے طبقے سے ہیں جو زمانوں سے  اسٹبلشمنٹ کا   تابعدار و برخودار رہا ہے۔ شاہ رکن عالم کے گنبد پر بیٹھے کبوتر وہی۔ میری ایک نظم کی سطر ہے۔

تو پس عزیزو پاکستان کے پاسپورٹ کے آخری ورق پر تحریر ہے “دنیا کے تمام ممالک کیلئے ماسوائے اسرائیل کے۔” اور پھر بھی پیارے پاکستانی اسرائیلی اپارتھائیڈ کی اصطلاح کہتے ہیں۔ اس سے بڑی اور کیا اپارتھائیڈ ہو سکتی ہے کہ ایک ملک کی طرف سفر پر ہی پابندی لگائی جائے جو کہ انسان کے بنیادی حقوق میں سے ایک ہے۔ یعنی سفر کی آزادی کا حق۔  تو میرے بھی اس بنیادی حق کو سب سے پہلے میرے ہی بہت پیارے دوستوں نے تلف کرنے کی کوشش کی کہ حسن مجتبی مت جاؤ اسرائیل۔ یعنی کہ آپ کریں تو رقص اور ہم کریں تو مجرا۔ اے دیوار گریہ! ہر کسی کا اپنا رنڈی رونا ہے۔

  دنیا کے دو ممالک میں سے ایک  ملک جو کہ مذہب کی بنیاد پر قائم ہوا۔ دوسرا پیارا پاکستان۔ اسلامک ریپبلک آف پاکستان۔ جسے میں پیار سے اسلامک ریپبلک آف غائبستان بھی کہتا ہوں۔ میں اس اسرائیل کو دیکھنا چاہتا تھا جسے ہونا تو پاکستان کی جڑواں بہن تھی کہ دونوں کی اساسیت مذہب کی بنیاد ایک وجہ ہے۔ دوسرا میں وہاں اندرون خانہ جمہوریت یا انر ڈیموکریسی  بھی دیکھنا چاہتا تھا۔ دیکھنا چاہتا تھا یروشلم جہاں کی  ہر اینٹ اور پتھر کے نیچے سانس لیتی ہو قدیم ازمنہ تواریخیں ہیں۔ خود اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتا تھا کہ تین بڑے مذاہب اور پیغمبروں کی دھرتی پر تینوں مذاہب کے ماننے والے آپس میں کس طرح رہتے ہیں کہ نہیں۔   بنی اسرائیل ایک چنی ہوئی قوم۔ اسرائیل  شہد، دودھ اور خون کی نہروں والا ملک۔ ویسے ایک اسرائیلی وہسکی  کا نام “ملک اینڈ ہنی” بھی ہے جو کہ کافی مہنگی ہے۔ ڈیڈھ سو امریکی ڈالر جبکہ ایک اسرائیلی سرخ شراب کا نام “پریزیڈنٹ ٹرمپ ” ہے جس کا ذکر اس سفرنامے میں  آگے چل کر ہوگا۔

پاکستان میں اگر شراب کی بھری ہوئی بوتل کسی سے برآمد ہو تو جرم قابل دست اندازی پولیس ہے۔ اور اگر پاکستان میں اسرائیلی شراب کی خالی بوتل بھی کسی سے  برآمد ہو تو شنید ہو کہ وہ بھی قابل دست اندازی پولیس جرم ہے۔ ایک ایسا ملک جہاں کوکاکولا کو بھی  اسرائیلی  مصنوعات سمجھ کر بائیکاٹ کیا جاتا ہو۔ اور اس کا نعم البدل مشروب  “خلافت” کی فخریہ پیشکش متعارف کرائی گئی ہے۔ کراچی بارایسوسی ایشن  سٹی کورٹ نے تو قرارداد منظور کی کہ سٹی کورٹ کی حدود میں پیپسی اور کوکاکولا جیسی “اسرائیلی مصنوعات” کی فروخت و استعمال پر پابندی اور جرمانہ عائد کیے جاتے ہیں۔ پیسی اور کوکوکولا اسرائیلی نہیں بلکہ کوکوکولا پیپسی، مارلبورو سگریٹ اور جینز  امریکی ایک ہٹی ہیں۔

 تو  میرا اسرائیل کا سفر امریکہ میں یوم تشکر والی اس شام اندھیرے اس وقت سے شروع ہو چکا تھا جب میں نے نیویارک کے جان ایف کینیڈی انٹرنیشنل ایئر پورٹ کے ٹرمینل فور پر اسرائیلی ایئرلائن ای ایل اے ایل یا  ایلال کیلئے اوبر ٹیکسی طلب کی  تھی۔ اوبر کا ڈرائیور مصری تھا۔ نیویارک کے علائقے اسٹوریا کا رہنے والا، جہاں ایک  بڑی تعداد میں کئی برسوں سے عرب کمیونٹی بھی آباد ہے۔

 “تم کہاں جا رہے ہو”

“تل ابیب” میں نے کہا

“وہاں ٹرانزٹ ہے یا قیام “ اس نے پوچھا

“کیا تم کبھی وہاں گئے ہو؟” میں نے اس سے پوچھا۔

“نہیں۔ لیکن ایک دن انشاءاللہ جب۔۔۔۔۔” 

میں ٹیکسی کی تھوڑی کھلی کھڑکی اور ہوا کے شور میں اس کا مکمل جملہ نہیں سن پایا۔

“سفر با سلامت ہو”اس نے یہ کہتے مجھے اسرائیلی ائیر لائین کے پاس  اتارا۔ جہاں  مسافروں کی لائنیں لگی تھیں، ڈھیروں سامانوں کیساتھ ، زیادہ تر بنی اسرائیلی لوگ۔ ایسا لگتا تھا کہ یا تو وہ چھٹیاں منانے جا رہے ہوں  یا پھر وعدہ کی ہوئی سرزمین کی طرف ہجرت۔ وہ “ایکسوڈس ” کی تصویر پیش کر رہے تھے۔

اسرائیلی ایئر لائن ای ایل اے ایل کے کیوسک پر کھڑے اس کے اہلکاروں  نے مجھے ایک طرف کیا اور ان کے سوالوں کی بوچھاڑ  نے مجھے اور میرے سوٹ کیس کو  آڑے ہاتھوں لیا۔  میرا سوٹ کیس، میرا سوٹ کیس میرا ملک ہے۔ جیسے محمود درویش نے کہا۔ میرے سوٹ کیس نے میرے ہمسفر  کتنے ہی ملک گھومے ہیں۔ ہر ملک کی اپنی ایک کہانی ہے۔ میرا سوٹ کیس زبوں  حالت میں ہے لیکن میں اسے کسی پرانے دوست کی طرح چھوڑنا نہیں چاہتا۔ یہ سوچ کر بھی کتنا نہ دکھ ہوتا ہے، جب یہ سوٹ  کسی کام کا نہیں رہے گا یا میں اس کے کام کا نہیں رہوں گا تو کسی کچرے میں پھینکا ہوا وہ کتنا غریب اور تنہا  لگے گا۔ یا سڑک کے کنارے پھینکا ہوا بارشوں اور دھوپ میں۔ ہر سفر شروع کرنے سے پہلے اداسی بھرا خیال یہ بھی آتا ہے کیا خبر یہ سفر میرا اور سوٹ کیس کا آخری سفرہو، خیر۔

  اب میرا یہ سوٹ کیس ہمراہ میرے زاد راہ اسرائیل کے سفر پر روانہ تھا۔ بیگیج کلیم پر اسے شناخت کرنے کیلئے میں نے اس کے ہینڈل میں سرخ تھگڑی باندھی ہوئی ہے، جیسی درگاہوں پر درختوں میں بندھی ہوتی ہے لیکن اسرائیلی ایئر لائن کے اہلکار میرے اس غریبانہ  سوٹ کیس پر چند لحظوں  متشکک نظریں  ڈالے ہوئے تھے۔ شاید ہم مسلمانوں نے دنیا کے ساتھ سلوک ہی ایسا کیا ہے۔

اسرائیلی ایئر لائن ای ایل اے ایل کی چیک ان پر متعین اس کے  اہلکار میرے جوابوں سے زیادہ اپنے  سوالات میں  دلچسپی رکھتے تھے۔

یہ کہ اسرائیل جانے کا مقصد کیا ہے؟

اسرائیل کتنی میعاد کیلئے جا رہے ہو؟

اسرائیل میں تمہارے کوئی عزیز و اقارب رہتے ہیں؟

اگر فیملی ہے تو پھر اکیلے کیوں جا رہے ہو؟

خاص طور پر ان ہی دنوں میں کیوں جا رہے ہو جب وہاں حالات ٹھیک نہیں ؟

کس کی دعوت پر جا رہے ہو؟

ان لوگوں کو تم کیسے جانتے  جنہوں  نے تمہیں مدعو کیا ہے؟

اور  انہیں کب سے جانتے ہو؟

تم دو دفعہ دبئی گئے تھے کس مقصد سے گئے تھے؟

حالانکہ میں دسیوں مرتبہ یورپ   کے ممالک اور کینیڈا  بھی گیا ہوں

کتنے عرصے سے امریکہ میں رہ رہے ہو؟

انہوں  نے میرے سوٹ کیس کی دستی تلاشی لی اور پھر اسے مشین سے گزارا۔

میرے پاسپورٹ پر ڈبل سیکورٹی کا اسٹیکر چسپاں کردیا۔

امریکی سیکورٹی چیک ان اور امیگریشن  سے بغیر سوالات کے گذر کر جب ای ایل اے ایل بورڈنگ ایریا پر آیا پھر ایک  طرح کے سوالات لیکن اس دفعہ مجھے زبانی اور جسمانی انٹرویو کیلے ایک کمرے میں لے جایا گیا۔ ایسے سوالات اور سامان کی تفصیلی تلاشی سے میری دوست اور اسرائیل کو ہمسفر ساتھی حنا اختر کو بھی گزرنا پڑا جو واشنگٹن سے آئی ہوئی تھیں اور ہمیں اسی اسرائیلی پرواز سے سفر کرنا تھا۔ ہماری نشستیں الگ الگ تھیں۔  میں نے دیکھا کہ ایسے سوالات اور سیکورٹی چیک وہ اپنے اسرائیلی  مسافران سے بھی  رینڈم کر رہے تھے۔  تقریبا ایک طرح کے ویزا انٹرویو جیسے سوالات۔

یہ ان کا اسرائیل سمیت دنیا بھرکے ہوائی اڈوں پر ایک اپنا سیکیرٹی ضابطہ کار ہے اور اس کی ایک تاریخ اور اسباب ہیں ۔

ای ایل اے ایل کا قیام اتنا پرانا ہے جتنا اسرائیل ملک کا قیام۔ اوراسی طرح اس پر بھی ماضی میں حملے اور اس کے طیاروں کے مسافروں سمیت اغوا یا ہلاکتیں، یرغمالیت ابھی ماضی قریب کے قصے ہیں۔

  میں بہت دور بہت دور انیس سو ساٹھ ، ستراور اسی کی دہائیوں میں پہنچ گیا، جب لیلی خالد اور جارج حباش کی تنظیمیں ای ایل اے ایل کے طیاروں کو نشانہ بناتی تھیں۔ ان اغوا شدہ طیاروں اور یرغمال مسافروں کی منزل کیوبا میں سینتیاگو اور لیبیا کا تریپولی ہوا کرتے تھے۔ “فتح فتح تل ابیب یاسر یاسر یا حبیب” جیسے نعروں کی بازگشت میں نے سندھ کے صحرا میں بھی سنی۔

   ہمارے ہاں تو اردو میں اور پھر سندھی میں لیلی خالد کی آپ بیتی بھی چھپی ہے۔ کشور ناہید کے ہی لیلی خالد کی آپ بیتی والے اردو ترجمے کو سندھی میں بھی  منتقل کیا گیا ہے۔ “ہم زندہ رہیں گے” جس میں اس نے ای ایل  اے ایل کا طیارہ اغوا کرنے کے اپنے ارادے بتائے ہیں، شاید ذکر بھی کیا ہے جبکہ جارج حباش کی تنظیم پی ایف ایل پی یا پاپولر فرنٹ فار لبریشن آف پیلیسٹائین نے تل ایبیب اور لوڈ  سمیت کئی ایئرپورٹوں پر ای ایل اے ایل کے طیاروں اور ان کے مسافروں کے خون اور آگ کے  ڈرامے بھی کیے۔ بلیک ستمبر کسے یاد نہیں۔ ایک رپورٹ  کے مطابق انیس سو اڑسٹھ سے لیکر انیس سو چوراسی تک ای ایل اے ایل پر پچپن حملے ہوئے، اغوا اور اس کے مسافروں اور عملے کے قتل کے واقعات ہوئے۔ یہ سب میں بچپن سے ہی پڑھتا اور بلیک اینڈ وائٹ ٹیلیویژن پر دیکھتا آیا تھا۔

ای ایل اے ایل اتنا ہی پرانا ہے جتنا اسرائیل یعنی دونوں کے قیام کا سال انیس سو اڑتالیس ہے۔ اس پر ڈیزائن شدہ اسرائیلی پرچم ساری دنیا میں اسرائیل کا تعارف ہے۔ سفارتکاری بھی۔

آخرکار جہاز پر سوار ہونے کا مرحلہ آیا اورمیں  اپنی نشست پر جا بیٹھا۔ میرے ساتھ والی نشست پر ایک اسرائیلی  خاتون  تھیں۔ سارے جہاز میں زیادہ تر مسافر کپا یعنی سر کے بیچ چپکانے والی  یہودی ٹوپیوں، یا راسخ العقیدہ زلف دراز سیاہ پوش اور ٹوپلے پہنے  یہودی سوار تھے، جو اپنی نشتیں سنبھالتے جہاز ٹیک آف ہوتے ہی اپنی عبادات میں مصروف ہو گئے تھے- لیکن میں اب بھی گویا ایک حواس باختہ اجنبی مسافر۔ اپنی خود اعتمادی  بحال کرنے اور شرمیلا پن ختم کرنے کو میں نے پاس کی نشست پر بیٹھی خاتون سے فون چارجر کی تار  مانگی۔ اس خاتون نے مجھے یہ بتاکر اور بدحواس کردیا کہ میری نشست کے نیچے ہی فون چارج کرنے کے سوراخ لگے ہیں۔  لیکن ان سوراخوں یا ساکیٹ میں چارجر  لگائے کون۔ میں ایسے کاموں میں ہمیشہ ناقص ثابت ہوا ہوں۔ اس مہربان اسرائیلی عورت نے میرا فون چارجر لگانے میں میرے مدد کی۔

  نیویارک تا تل ابیب دس گھنٹوں کی براہ راست  پرواز میں گویا خوف کے کیپسول میں سفر کر رہا تھا۔ ماضی بعید کی ان تین دہائیوں میں جب ای ایل اے ایل کے اسرائیل کے علمبردار طیارے پی ایف ایل پی یا فلسطینی فدائین کی دہشتگردی کے نشانے پر ہوتے۔ یہ تو مجھے بعد میں معلوم ہوا کہ ای ایل اے ایل کے اکثر طیاروں میں اینٹی میزائل ڈیفنس سسٹم اور راڈار سسٹم نصب ہوتے ہیں۔

پرواز پر  فلمیں بہت ہی فارغ اور بچگانہ تھیں۔ گیمز میں نہیں جانوں، نہ ہی نیوز اور ٹی وی سے زیادہ  دلچسپی۔ ہینڈ کیری سامان کے کپڑے کا تھیلا یا ٹوتھ بیگ جس میں دس گھنٹوں کی پرواز کا ٹیم  پاس کرنے کو  اسٹرینڈ بوک اسٹور کے اس بیگ میں میرا زادراہ میری کتابیں تھیں: سلمان رشدی کی “ نائف،” سرمد صہبائی کا ناول “دی بلیسڈ کرس،” اور میرے دوست منان احمد آصف کی کتاب “ڈسرپٹیڈ سٹی،” میں گھر ہی بھول آیا تھا۔ رفاقت حیات کے “رولاک” کی پی ڈی ایف کاپی بھی میرے فون میں تھی۔ میں نے خود سے وعدہ لیا تھا کہ پرواز پر نشست سنبھالتے ہی میں کتابیں پڑھنا شروع کروں گا، جنہیں پڑھنے کا نیویارک  کی زمین پر تو زیادہ موقع نہیں ملتا۔ لیکن یہ نہ ہو سکا اب یہ عالم ہے والی بات تھی۔ رات کے کوشر کھانے اور اس سے قبل ایک ایک رکعت شراب کا مفتا دور بھی گذر چکا۔ لیکن دس گھنٹوں کی پرواز کا منٹ منٹ میری نشست کے سامنے مانیٹر میں پرواز کی رفتار باقی فاصلے پہ  جمائے آنکھوں میں کٹی۔ لگتا تھا کہ دل کی دھڑکن طیارے کے پروں پہیوں  سے بندھی ہے کہ پائلٹ نے لینڈ کرنے کو نچلی پرواز کا اعلان کیا۔ سر وادی سینا کے اوپر اٹھتے بگولوں کے درمیان طیارہ جھکورا کھاتا کبھی اورپر کبھی نیچے پروں پر اڑتا تل ابیب کے بن گورین انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اتر چکا تھا۔ یہ جمعہ تھا اور اسرائیل میں دوپہر کے سوا دو بجے تھے۔ میں وعدہ کی ہوئی سرزمین پر پہنچ چکا تھا۔

اسرائیل کا قائداعظم

تو پس عزیزو، ہم وعدہ کی ہوئی سرزمین پر پہنچ چکے تھے۔

“ویلکم ٹو اسرائیل” ایلائل کی پرواز میں سے، بن گورین انٹرنیشنل ایئر پورٹ کی راہداریوں میں پاسپورٹ کنٹرول کی طرف تیر کے اشاروں کو فالو کرنے سے بھی پہلے، جس بڑے بورڈ کی تحریر کے نیچے سے گزرے وہ یہ تھا۔

  *تل ابیب کے اس تاریخی انٹرنیشنل  ایئر پورٹ کا نام اسرائیل کے پہلے وزیر اعظم اور ریاست اسرائیل کے بانی اسحاق ڈیوڈ بن گورین کے نام پر رکھا گیا ہے۔ ڈیوڈ بن گورین اسرائیلی  پارلیمان یا کیسینٹ کا پہلا رکن تھا، جس نے اسرائیل کی آزادی کی دستاویز یا ڈیکلریشن آف انڈپینڈنس پر سب سے پہلے  دستخط کیے تھے۔ سمجھو کہ بن گورین اسرائیل کا قائداعظم تھا۔*

   دوسرے وسیع فرش کے دونوں کناروں سات اکتوبر کو حماس کے حملوں کے شکار لوگوں کی ان کے ناموں کیساتھ تصاویراور بڑے بینر جن پر لکھا تھا، “ان کو اب گھر واپس لائیں۔” لیکن ہم  میں سےجو فلسطین نواز سے زیادہ حماس نواز بنتے ہیں، انہوں نے سات اکتوبر کادن اپنے حافظے اور ضمیر  سے  کھرچ کر نکال دیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں سب کچھ گذشتہ ستر سال سے ہوا ہے اور اسرائیلی اور ان کے دوست سمجھتے ہیں یہ سب کچھ سات اکتوبر دو ہزار تئیس سے ہوا۔ اس سے قبل سب کچھ ٹھیک ٹھاک تھا۔ پر سات اکتوبر، دو ہزار تئیس کےکیلینڈر پر تو ہے خون میں نہلایا ہوا۔ اس قضیے کو  بھی اگلی قسطوں میں دیکھتے ہیں۔ ایک پھر اہلا و سہلا کی عربی اور اس کے عبرانی زبان میں خوش آمدید، جس کیساتھ کھجوروں کے درختوں والی تصاویر تھیں۔  میں پاسپورٹ کنٹرول کی مختصر سے لائن پر پہنچ چکا تھا۔ دو چند مسافر تھے مجھ سے آگے۔ میں نے سوچا جہاز تو کچھا کچھ بھرا ہوا تھا باقی لوگ کہاں گئے؟ پھر مجھے یاد آیا اسرائیلی شہریوں کیلئے الگ لائن تھی۔ وہ لائن بھگت کر گھر جا بھی چکے تھے۔

 “میں یروشلم میں پیدا ہوا۔ اردن میں بڑا ہوا۔ میرے پاس امریکی پاسپورٹ ہے پھر بھی مجھے چار پانچ گھنٹے اسرائیلی امیگریشن والے روکے رکھتے ہیں۔

 کل رات نیویارک میں  میری اوبر کا فلسطینی ڈرائیور مجھ  سے کہہ  رہا تھا۔

میں اپنی باری پر پاسپورٹ کنٹرول والے کاؤنٹر پر پہنچا۔

پھر وہی سوال۔

“اسرائیل امد کا مقصد؟”

نوجوان اسرائیلی امیگریشن افسر نے مجھ سے پوچھا۔

“میں ایک لکھاری ہوں اور یہاں کی ایک غیرسرکاری تنظیم”  شراکا”کی دعوت پر آیا ہوں ہولوکاسٹ ایجوکیشن پروگرام کے تحت۔

میں نے اس نوجوان اسرائیلی افسر کوبتایا۔

“کیا تمہارے پاس ان کا کوئی دعوت نامہ ہے؟” نوجوان افسر نے مجھ سے استفسار کیا۔

میں نے اس کو اپنے واٹس اپ پر میرے میزبان شراکا کا دعوت نامہ دکھانے کو اپنا سیل فون آگے بڑھایا۔

اس نے مجھ سے میرے اسرائیل میں قیام اور ہوٹل کا پوچھا

“آٹھ دن، ہوٹل راوت یروشلم اور ایک رات پرائم ہوٹل تل ابیب”

پھر اس نے اپنا فون اٹھایا اور کسی سے عبرانی میں بات کی۔

فون رکھ کر اس نے پوچھا کوئی اور بھی اس دورے میں تمہارے ساتھ ہے؟

میرے اس سفر میں ساتھی حنا اختر ساتھ والے کاؤنٹرپر اپنے سوال جواب سے فارغ ہو چکی تھی۔

نوجوان افسر نے کہا اسے بلاؤ اور پھر حنا سے بھی ایک آدھ سوالات کے بعد کہا

ویل کم ٹو اسرائیل، انجوائے۔”

اس افسر  نے ہماری تصاویر کھینچ کر ہمیں، ہماری  تصویر والا شناختی کارڈ دیا۔ جسے ہم ایک ٹرنسٹائیل سے مس کر کے پاسپورٹ کنٹرول ایریا سے باہر نکل آئے۔

وہ کارڈ ہمارے ہاتھ میں دیکھ کر وہاں کھڑے ہوئے ایک اجنبی شخص نے خوش مزاجی میں کہا،

“اب  آپ کو گرین کارڈ مل گیا۔” یہ  احساس ہوا کہ لوگ یہاں خوش مزاج اور دوستانہ رویہ رکھتے ہیں حالانکہ اسرائیل کی ٹور گائیڈ میں لکھا ہوا ہے کہ اسرائیلی فوج اور پولیس سے کبھی فنی نہیں ہونا، وہ حس مزاح سے عاری ہوتے ہیں۔ یعنی کہ ٹرگر ہیپی۔ جیسے کسی زمانے میں پاکستانی انگریزی اخبارات ایم کیو ایم کے بندوق بازوں کو  “ٹرگرہیپی یوتھ” لکھتے تھے۔

“ہم وعدہ کی ہوئی سرزمین پر اتر چکے ہیں،” میں نے اپنے میزبان دوستوں یشایا اور ڈین کو واٹس اپ پر پیغامات بھیجے۔

اب تک مجھے معلوم نہیں تھا۔ یہ جمعے کی شام یہودیوں کے شبات کی شام ہے، تب سے دوسرے دن یعنی بڑے دن سنیچر کی شام تک وہ کسی بھی مشین یا ٹیکنالوجی کو ہاتھ نہیں لگاتے، جس میں فون بھی شامل ہے، بجلی بھی، کار یا گاڑی بھی۔ کافی مشین بھی، عمارت یا گھر میں لفٹ بھی، نہ وہ پیسے کو ہاتھ  لگاتے ہیں نہ کاروبار کو، نہ ایسے کسی کام کو جس میں پیسے کو ہاتھ لگانا پڑے، اور نہ ہی کیمرے کو۔ تو فوٹو کا تو اس دن سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ شبات سمجھو کہ اسرائیل میں یا یہودی سماج میں مکمل پہیہ جام ہوتا ہے۔ ابھی شبات شروع ہونے میں دو چند گھنٹے تو باقی تھے۔

میرے واٹس اپ پر ایک پیغام مجھے  نیویارک سے اسرائیل کیلئے ہوائی جہاز میں سوار ہونے سے پہلے مل چکا تھا، جو ساگی نام کے بندے کا تھا۔ پتہ نہیں کیوں یہ عبرانی نام ساگی مجھے فارسی یا اردو سندھی کا ساقی لگا۔

ساگی نے اپنے ٹیکسٹ میں لکھا تھا

“تل ابیب ایئرپورٹ پر امیگریشن کے بائیں ہاتھ پر بیگیج کلیم اور کسٹمز سے فارغ ہونے کے بعد جو ایگزٹ ستائیس ہے، وہاں سے لفٹ میں سوار ہونگے تو دوسرے فلور پر اتر جانا۔  یہ گراؤنڈ ٹرانسپورٹیشن ہے اور میں تمہیں سڑک کے پار کھڑا  ملوں گا۔

مجھے ساگی کا یہ پیغام میری اپنی ایک نظم کی سطروں سے ملتا جلتا لگا: 

 “زرد پھولوں سے اٹے رستے پر جب تم بائیں ہاتھ مڑو گی تو خواب تمہیں مرجھائے ہوئے ملیں گے مگر تم اپنا سفر جاری رکھنا۔”

تو جب ہم تل ابیب انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے باہر  نکل آئے تو سڑک کے پار ایک شخص دونوں ہاتھوں میں “شراکا” لکھا ہوا پلے کارڈ لیے کھڑا تھا۔ اور یہ بڑے تپاک سے ملنے والا شخص ساگی تھا۔ ساگی “شراکا” فیملی کا ایک برجستہ رکن اور ڈرائیور بھی ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ۔

ہم ساگی کی سیاہ رنگ  منی بس میں سوار ہوچکے تھے۔ ایک اور ساتھی کا بھی انتظار تھا لیکن وہ اس دن نہیں پہنچ سکا۔ یہ افغانستان کے صحافی احسان االلہ امیری تھے، جو ٹورنٹو کینیڈا میں رہتے ہیں لیکن ان کا اصل تعلق بامیان افغانستان سے ہے اور وہ ہزارہ کمیونٹی سے ہیں ۔ یاد ہے بامیان جہان طالبان ظالمان نے  بدھ  کے ہزاروں سالہ قدیم مجسمے توڑے تھے۔ اور ہزارہ کمیونٹی کے دو ہزار قتل شدہ افراد کی اجتماعی قبریں بھی برآمد ہوئی تھیں بامیان سے۔ ان کو تو  طالبان اور ایسے ظالمان کے نزدیک “دیکھتے ہی گولی مار دینے کا حکم” تھا

ساگی تل ایبیب کی جم پل ہے۔ وہ اس سے قبل اسرائیلی فوج میں تھا، اب ریٹائرڈ  ہے۔ ریٹائرڈ ہی سہی، میں پہلی بار اسرائیلی فوجی کو قریب سے مل  رہا تھا۔  اس کا بیٹا بھی فوج میں ہے اور وہ محاذ پر گیا ہوا ہے۔

ساگی بتا رہا تھا ٹھیک ہے، وہ یہودی خاندان میں پیدا ہوا لیکن وہ لامذہب ہے۔ ہم اسرائیلی پروا نہیں کرتے کہ تم کون ہو۔ مسلم ہو، یہودی ہو، عرب ہو کہ اسرائیلی۔

ساگی نے ہم سے کہا تم لوگوں  کے پاس دو آپشنز ہیں۔ سیدھا یروشلم ہوٹل چلییں۔ وہاں تازہ وازہ ہوکر پھر واپس شبات کے ڈنر میں ڈین کے گھر چلیں یا سیدھا یہاں سے ڈین کے گھر جائیں اور ڈنر کے بعد ہوٹل۔ وہاں بہت سارے لوگ آ رہے ہیں۔ ساگی کہہ رہا تھا ہمارے ہاں سمندر، پہاڑ، صحرا ایک ساتھ ہیں۔ پھر اس نے ساٹھ کے کانٹے پر رکھا۔

ہماری منزل ڈین کا شہر رہووت تھا۔ نارنگیوں اورسائنس کا شہر۔ فری وے پر لد یا الد شہر اس کے قریب ہی آٹھ منٹ کی ڈرائیو پر تھا جو ہزاروں سال قدیم شہر ہے، جس کا ذکر نئے عہدنامہ  میں بھی ہے اور اس کے کئی قصے قدیم مقدس کتابوں میں بھی ملتے ہیں۔  رمل شہر میں ایک بڑی اکثریت ان یہودیوں کی ہے جو ہندوستان کے بٹوارے کے دوران یا اس کے بعد ہندوستان اور کراچی سندھی سے آکر یہاں آباد ہوئے ہیں، انہیں انڈین جیوز کہا جاتا ہے۔  

رہووت  قدامت پسند اور مذہبی شہر ہے۔ یہاں کئی جدید اور قدیم سائناگاگ ہیں۔ ہم راہووت  پہنچ چکے تھے۔ یہ جدید عمارات پر مشتمل قدرے  قدامت پسند شہر تھا ۔ یہ  شبات کی شام تھی اور یہودی مرد، بچے اپنے روایتی لباس اور ٹوپیوں میں، ہاتھ میں کتاب لیے  ہر جگہ آتے جاتے دکھائی دیئے۔ اور ہم کہ  ٹھہرے فیض والے لبوں حمد لیے ہاتھ میں شراب لیے”

ڈین کے گھر پہنچ چکے تھے۔ شبات کی وجہ سے لفٹ بند تھی۔ آٹھویں منزل پر ڈین اس کی بیگم، بچوں اور ان کی پالتو کتیا جنجر نے ہمارے گلے لگ کر بلکہ ہونٹ چوم کر استقبال کیا۔ انہوں نے ہم دو پیچھے سے پاکستانیوں پر اپنے گھر اور دل کے دروازے کھول دیئے تھے۔

ڈین،ان کی بیگم اور بچے شبات کا عشائیہ تیار کرنے میں مصروف تھے لیکن ہم سے باتیں بھی کرتے رہے۔ اوپر کی منزل پر ان کا مہمان خانہ تھا۔

یہ ایک خوشگوار شام تھی۔ موسم کراچی یا سان ڈیاگو کیلیفورنیا  جیسا تھا، نمکین خشمگین۔ فری وے پر ٹریفک رواں  دواں تھی۔ یہاں نہ سائرن، نہ بم شیلٹر اور نہ ایران، لبنان، حماس سے آتے ہوئے راکٹ اور میزائل۔ جیسے سنا تھا اس کے برعکس ۔ کون کہتا ہے کہ یہ ملک  حالت جنگ میں ہے؟

 یہ میرا کہیں بھی، اور اسرائیل میں اور یہودی فیملی میں شبات یا عشائیہ تھا۔  ہمارے میزبان ڈین نے اسرائیل میں ہمارے پہنچتے ہی اپنے گھر شبات کے ڈنر پر مجھے اور حنا کو مدعو کیا تھا۔ حنا اور میں پہلے اشخاص تھے جو اسرائیل میں ہمارے وفد کے باقی اراکین میں  سب سے پہلے پہنچے تھے۔

  شبات یہودی مذہب کا پہلا رکن بھی ہے اور تہوار بھی جو ہر ساتویں دن آتا ہے۔ شبات کا تصور یہ ہے کہ خدا نے چھ دن میں کائنات بنائی اور ساتویں دن آرام کیا۔ تو شبات خدا کے آرام کے احترام میں جمعہ کے روز غروب آفتاب سے سنیچر کی شام غروب آفتاب تک ہوتا ہے۔ اس دوران یہودی کوئی بھی کام نہیں کرتے۔ بس آرام دہ سرگرمیاں کرتے ہیں۔ کاروبار نہیں  کرتے، آگ نہیں جلاتے، کھانا نہیں پکاتے، کوئی ایسی سرگرمی نہیں کرتے جس میں پیسے کا تبادلہ یا دخل ہو، آٹو موبائل یا کسی بھی مشینری کا استعمال نہیں کرتے، لفٹ یا ایلویٹر استعمال نہیں کرتے۔ عبادات کرتے ہیں۔ مناجات پڑھتے ہیں۔ میں نے کہا نہ شبات کے معنی مکمل پہیہ جام ۔ کافی مشین سے لیکر بس تک کوئی چیز نہیں چلتی۔

 تو یہ شبات والی ہماری شام ڈین کے گھر میں  مناجات سے شروع ہوئی، جس کیلئے ڈین نے ہمیں اپنے پڑوسی دوستوں کے گھر دستوری دعائیہ تقریب میں شرکت کرنے کو دعوت دی۔ ایک متمول پڑوس میں شبات کی اس شام ہم نکلے۔ جس گھر کے لان میں یہودی مرد ترنم کیساتھ پیغمبر و بادشاہ داؤد اور دیگر کی گیتوں والی کتابوں  سے مناجاتیں پڑھ رہے تھے۔ ہم بھی اس میں شامل ہوگئے۔ ہوں تو میں لامذہب و لاخدا صوفی، لیکن ایک روحانی خانہ بدوش جس کو اس نوعیت کے اجتماعات میں بھی سکون ملتا ہے۔ میں اس سے قبل دنیا بھر میں کئی مساجد، مندر، گرجا یا چرچ، گردواروں، امام بارگاہوں، بدھ پگوڈاؤں وغیرہ میں گیا ہوں۔  پولینڈ میں  کئی تاریخی یہودی عبادتگاہوں سائناگاگ میں میرا جانا ہوا تھا لیکن میرے لئے مناجات  وعبادات کا یہ پہلا موقع تھا۔ ایک تاریخی سائناگاگ تو نیویارک میں میرے گھر کے ساتھ ہی واقع ہے۔ اگر نہیں گیا تو پارسی آتش کدوں میں جانا نہیں ہوا۔ لیکن مجھے ایسی مقدس جگہوں اوران میں اپنے اپنے عقائد اور طرایق  و معرفت سے عبادات و ریاضت کرنے، ایسے ریچوئیلز اور خاص طور پر سنگیت و سر یا خاص شاعری والے حصے نے خاصا متاثر کیا ہے۔

 اسرائیل میں اس پہلی شام رہووت شہر میں شبات کے اس اجتماع میں جو شام شبات کے دعائیہ  گیتوں کی کتاب میرے ہاتھ میں ڈین نے دی تھی، اس میں عبرانی کا انگریزی میں ترجمہ بھی تھا جس کی ایک سطر یوں نکل کر میرے سامنے آگئی تھی:

“نیک لوگ اپنی نیکیوں سے یوں تناور ہیں

جیسے لبنان میں کھجور کے درخت

 جیسے وہ اپنے اعمال  میں سیب  کے شجر۔”

 ان سطروں میں لبنان کے انتہائی قدیمی ذکر پر میرا خیال حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان تب  دوسرا روز ہوئے جنگ بندی کی طرف گیا۔ اور اک خیال اس طرف بھی کہ جب حماس نے  سات اکتوبر کو اسرائیل پر حملہ شبات کے روز کیا۔ کہتے ہیں شاید اسی لیے اسرائیلی فوج نے حماس کو بروقت جواب نہیں دیا۔ شبات کے روز یہودی مذہب میں کوئی بھی جانفشاں  کام کرنے یا جنگ  کی ممانعت ہے

شبات کی مناجات باقاعدہ چل رہی تھیں، ایک شخص کی قیادت میں دعائیں پڑھی جا رہی تھیں۔  میں نے نوٹس کیا کہ ایک منزل  پر یہ دعائیہ رسمیں ایسی تھیں جیسے شیعہ مجلس کے بعد زیارت پڑھی جاتی ہے۔ بس وہی اقامت میں زیارت پڑھنے والے رہنما کے پیچھے سر کو اسی طرح مختلف سمت جھکایا جاتا ہے کھڑے کھڑے۔ فرق صرف یہاں یہ ہے کہ یہاں اشہد کی انگلی نہیں اٹھائی جاتی۔ میں نے  سوچا ہو سکتا ہے ابراہیمی مذاہب والوں نے یہ ایک دوسرے سے یا سب نے بنی اسرائیل سے مستعار لیا ہو۔ جیسے حلال کا نعم البدل یہودی کوشر۔ شبات اگر یہودی تہوار ہے تو عیسائیوں میں وہی ثبات ہے۔ اگر تورا یا توریت میں چھ دن دنیا کو بنانے کے بعد خدا کا ساتواں دن آرام کا ہے تو یہی بات بائبل میں بھی ہے۔  اگر شبات مصر میں یہودیوں کی غلامی یا جبری مشقت سے نجات کے دن سے منسوب ہے تو اس کا ذکر بائبل میں بھی ہے۔ نیز یہ بھی کہ موسیٰ کی قیادت میں جب یہودی مصر سے ہجرت کرکے نئے وطن کو نکلے تھے۔

تخلیق کائنات کے دلچسپ جرم پر

ہنستا تو ہوگا آپ بھی یزداں کبھی کبھی

“ ہم امریکہ سے آئے ہیں لیکن ہمارا تعلق پاکستان سے ہے” دعائیں ختم ہونے کے بعد ڈین کے پڑوسیوں سے ہم نے اپنا تعارف کرایا۔

ڈین کے گھر پر پرتکلف شبات ڈنر لیکن بے تکلف گفتگو کا آغاز ہوا ہی چاہتا تھا۔ وہاں ایک اور ان کے دوستوں کی فیملی بھی پہنچ چکی تھی، جن کا اصل تعلق نیویارک سے تھا۔ ڈین کا والد بغدادی جیو تھا۔ بغدادی جیو اسرائیل میں کافی متمول جانے جاتے ہیں جبکہ ڈین کی اہلیہ نیویارک کی ہیں اور اسکول ٹیچر ہیں۔ ڈین خود اسرائیل کی قومی سلامتی کا مشیر رہ چکا ہے اور اسرائیل میں ہماری میزبان غیرسرکاری  تنظیم شراکا (شراکا کا ذکر آگے چل کر ہوگا) کے شریک ڈائریکٹر بھی تھا۔ ان کا پڑوسی اسرائیل میں سیاحتی ایجنسی چلاتا ہے جو اپنی بیوی اور دو نوجوان بیٹوں سمیت شبات ڈنر میں شریک تھا۔ شبات ڈنر کی میز سج چکی تھی۔

لامذہب ساگی جیسا کہ تمام شراکا کے لوگوں کے گھر کا ایک فرد ہے جو گھر پر رہا لیکن دعاؤں میں شریک نہیں ہوا، ڈنر میں شریک تھا۔ ابھی شبات ڈنر کی دعائیں باقی تھیں۔  شبات کے ڈنر کی پہلی دعا تھی:

“سب تعریفیں تیری اے پالنہار تو جو کہ اس تمام کائنات کا پروردگار ہے، ہمیں زمین سے روٹی دیتا ہے۔”

شبات کا آغاز سرخ شراب اور اس پر دعا جسے “کدش” کہتے ہیں سے ہوتا ہے۔ گھر کا مالک ہاتھ میں سرخ شراب یا انگور کی رس کا پیالہ اوپر کرکے دعا مانگتا ہے:

اور شام تھی، صبح تھی، ساتواں دن تھا۔ چھ دن میں خدا نے زمین بنائی، آسمان بنائے اور وہ پھل  جس سے شراب کشید ہوتا ہے، اس نے ساتویں دن آرام کیا۔” یہ کوئی پانچ سات منٹ کی دعا ہے۔

 شراب کے اس پیالے سے ہر بالغ شخص گھونٹ بھرتا ہے۔ دعا کے بعد لازم ہے کہ ہر شخص نل یا سنک کی طرف رخ کرکے اپنے  ہاتھ دھوئے۔

اور  شبات کے عشائیہ میں سب سے پہلے توڑنے کو وہ خاص روٹی ہوتی ہے جسے “چلاہ”  کہا جاتا ہے جو اکثر گھر میں ہی بنائی جاتی ہے۔ چلاہ ڈین کی بیگم نے گھر پر بنائی تھی

سرخ شراب، چلاہ روٹی، سوپ، سالم مچھلی، بیف، مرغی، سبزیاں۔ یہ ہوتے ہیں شبات کے ڈنر کے لوازمات یا کل وشرب۔

   ڈین کے گھر مختلف انواع و اقسام کی شرابیں یعنی وائینز تھیں، جن میں آج کل اسرائیل میں مقبول شراب “پریزیڈنٹ ٹرمپ”ظاہر ہے، ہمارے امریکی صدر ٹرمپ کے نام پر ہے اور گولان وادی کی شرابیں تھیں۔ گولان وادی جو اسرائیل شام سرحد پر ہے۔ آج کے ملک شام پر بشارالاسد کے دھڑن تختے کے بعد اقتدار پر قبضہ کرنیوالا محمد البشیر گولانی کہلاتا ہے۔  

اسرائیل میں سرخ شراب گولان وادی کی بڑھیا ہے۔

شبات کا ڈنر شراب کے ہی گلاس پر ختم ہوتا ہے۔ جس کا اختتام بھی دعا پر ہوتا ہے۔ بچوں کی ماں باپ کی، ان کے سر پر ہاتھ رکھ کر بلائیں لینے کی دعائیں الگ ہیں۔ گھر کی مالکہ یا لیڈی آف دی ہاؤس کیلئے الگ۔ سر ڈھانپنے کو “کپا” پہنے میں نے بھی ان تمام رسومات اور دعاؤں یا شراب کے کئی دوروں میں بھرپور حصہ لیا۔ میں  نے ڈین اور وہاں موجود لوگوں سے کہا “ شاید میں اگلے جنم میں یہودی تھا۔”

مذاہب، اسرائیل، اسرائیلی، یہودی مذہب، اور تقابل ادیان کے متعلق متجسس حنا کے تیز و تند ذہین  سوالات ڈین اور وہاں موجود دیگر لوگوں سے جاری رہے۔ جن کا جواب وہ بہت ہی خندہ پیشانی سے دیتے رہے۔ اور اس جمعے ہماری مجلس رات گئے جاری رہی۔  وہ سعودی عرب میں آنیوالی  حالیہ تبدیلیوں اور محمد بن سلمان کی پالیسیوں کے بہت معترف تھے۔ پاکستان،سندھ بھی زیر بحث رہے۔ “ہماری تو پاکستان کیساتھ کوئی دشمنی نہیں” ڈین نے کہا۔ پھر کہا جس دن سعودی عرب نے اسرائیل کو تسلیم کیا، پاکستان سمیت کئی ممالک اس کی تقلید کریں گے۔ وہ اپنے گھر کے ایک کمرے میں گیا اور سندھی ٹوپی اور اجرک، اور چترالی ٹوپی ہاتھ میں لیے لوٹا۔ میرے ایک دوست نے چترالی ٹوپی کو ملالہ ٹوپی کہہ کر کئی امریکی سرکاری وسیاسی شخصیات کو یہاں نیویارک میں پہنائی تھی۔۔

 ڈین نے اپنے بیٹے کو بتایا کہ اجرک اور سندھی ٹوپی کس طرح پہنی جاتی ہے۔ ڈین سے ملنے والے کئی افراد یا وفود ان کو اس طرح کے تحفے تحائف دیتے رہتے ہیں۔ ڈین نے بتایا ایسے تحائف کا اس کے گھر ڈھیر لگ گیا ہے۔ جن میں پاکستانی اور سندھی تحفے بھی شامل ہیں۔

رات گئے ہماری یہ کچہری جاری رہی۔ ڈین کہہ رہا تھا کہ تم لوگ یروشلم کے عرب کوارٹر جاکر گھوم سکتے، باقی شہر تو شبات کی وجہ سے بند ہوگا۔ رات کافی ہوگئی تھی۔ اور اب ہم ساگی کے ساتھ یروشلم کو روانہ تھے۔ 

یروشلم پھر پکارتا ہے

ویسے تو ڈین کے نارنگیوں، سائنس اور سینیگاگز (یہودی عبادتگاہوں  (کے شہر رہووت یا تل ابیب سے یروشلم کا فاصلہ بذریعہ روڈ یا ٹرین بمشکل گھنٹہ ڈیڑھ ہوگا لیکن اب ہم چار ہزار سال کے سفر میں داخل ہوچکے تھے۔ پہلا میرا خیال جو اس مقدس شہر کی طرف جاتا ہے وہ  ہے یروشلم پیغمبروں کی سرزمین۔ جیسا میری دوست اور اسرائیل میں ہمسفر حنا نے یروشلم کے بارے میں کہا:

 اس  شہر کے ہر پتھر کے نیچے تاریخ سانس لیتی ہے۔ 

میں کہتا ہوں دوھ، شہد اور خون کی سرزمین۔

تو اس شبات والی رات دور پہاڑوں سے یروشلم کی بتیاں ایسی دکھائی دیں جیسے صحرائے سندھ کے شہر مٹھی کی “گڈی بھٹ” (ریت کے ایک بڑے ٹیلے) پر سے دیوالی کے ہزاروں لاکھوں جلتے دیپ دکھائی دیتے ہیں۔ فرق صرف یہ تھا کہ مٹھی کا منظر اونچائی سے نیچے کی طرف شہر کو روشنی کی وادی بناتا ہے اور یروشلم کی روشنیاں شاہ بلوط سے گھرے پہاڑوں کی اونچائیوں سے دکھائی دیتی ہیں۔ شاہراہ پر نیون بورڈز سائن بورڈز پر عبرانی، عربی کیساتھ انگریزی تینوں زبانوں میں عبارات اور تیر کے نشانات ایک ہی قریبی منزل مقصود بتاتے تھے اور وہ تھی یروشلم، یروشلم۔

پھر وہی مستیاں ہستیاں بستیاں

کہیں بلھے شاھ کا نگر ہے قریب

بلہے شاہ تو نہیں لیکن یروشلم کے کسی سرائے میں بابا فرید نے آکر قیام کیا تھا اور وہ آج تک سرائے بابا فرید کہلاتی ہے۔ اس سرائے کا ذکر تھوڑی دیر بعد لیکن اب ہم یروشلم شہر میں داخل ہوچکے تھے۔ آدھی رات کے قریب وقت تھا لیکن شہر کی سڑکوں پر اب بھی چہل پہل تھی۔ پتہ نہیں وہ جو مسافر کو اجنبی شہر میں داخل ہوتے یا اترتے ایک وسوسہ، خوف یا تردد ہوتا ہے، وہ مجھے یروشلم شہر میں داخل ہوتے نہیں لگا۔

 یروشلم میں شبات کی اس رات چہل پہل لگی ہوئی تھی۔ یہودی مرد و زن نوجوان لڑکے اور لڑکیاں، کئیوں کتاب ہاتھ میں لیے، جن میں بڑے ہیٹ والے سپاہ پوش گیسو دراز آرتھوڈاکس راسخ العقیدہ  یہودی مرد بچے، اور  وگز والی عورتیں بھی تھیں تو داڑھی یا بغیر داڑھیوں والے کپا یعنی چھوٹی ٹوپی والے بھی تھے تو کئی بغیر ٹوپی والے۔

ایسے میں ساگی کی ڈرائیونگ میں ہماری گاڑی ہماری ہوٹل “ورت ہوٹل” کی سیکورٹی کی پہلی چیک پوسٹ آٹومیٹک کارڈ کے بذریعہ عبور کرچکے تھے۔ ساگی کی سربراہی میں وین سے اپنا سامان لیے ہم یعنی میں اور حنا ہوٹل کی لابی میں داخل ہوچکے تھے۔ لابی کیا تھی، ایک چھوٹا سا شہر تھا۔ یا یہ ہوٹل ایک بڑا سا کئی منزلہ پانی کا جہاز۔ ہوٹل کے بار یا شراب خانے کا کاروبار رات کے اس سمے ابھی ماند نہیں پڑا تھا لیکن مے کش یہودی گوشئہ تسکین پکڑے بڑے شان نیازی سے دور چکا رہےتھے۔ لگتا تھا، زیادہ تر سرخ شراب کا دور دورہ تھا لیکن بقول شیخ ایاز:

“مگر بہ انداز عارفانہ۔”

 لابی کے بیچ ہوٹل کی گول رییسپشن تھی جس کے کاؤنٹر کے پیچھے  ایک سوٹ ٹائی، نظر کے چشمے، سفید مونچھوں سے ریسپشنسٹ ایسا ہی تھا جو اپنے سوٹ کوٹ اور وضع قطع سے کسی قدیم اسرائیلی آرکیسٹرا کا ڈائریکٹر لگتا تھا۔ جو میں نے فلموں میں دیکھے ہیں۔

تو یروشلم کے اس مشہور ہوٹل میں لگتا تھا، تمام اسرائیل بھر سے لوگ فیملیوں سمیت آئے ہوئے تھے۔ بچے ساری لابی میں دوڑتے پھرتے، کئی والدین کے ساتھ شبات کی دعائیں پڑھتے۔ شبات میں لفٹ استعمال نہیں کرتے تو سیڑھیوں پر رونق لگی رہی۔

ریسپشنسٹ نے ایئرپورٹ پر ہمیں جاری کیے گئے “گرین کارڈوں” کا اندراج ہمیں ہمارے بمعہ پاسپورٹ کرکے ہمیں گیارہویں منزل پر ہمارے کمروں کی چابیاں دیں۔ ویسے اس سبز رنگ کے کارڈ پر میرے دوست اور دوسرے ہمسفر عطا کو اس کے پڑوسی فلسطینی  نژاد امریکی واقف کار نے بتایا کہ اسرائیل میں تین ماہ قیام کی اجازت تھی۔ ہمارے وفد کے یہ دو ساتھی عطا اور مبشر دوسرے روز سنیچر کی شام  پہنچے تھے۔ میرا دوست عطا امریکی ریاست ورجینیا کے شہر رچمنڈ میں رہتا ہے۔ یہ فلسطینی نژاد امریکی کو بھی اپنے آبائی  فلسطین جانے کیلئے تل ابیب ایئرپورٹ پورٹ سے جانا پڑتا ہے اور اس کا گھر مسجد اقصیٰ سے سرحد پار کوئی وہ کہتا ہے، دس منٹ پر ہے۔   

ساگی کو گھر واپس جانا تھا کیونکہ وہ تل ابیب کا ہی جم پل ہے اور اس کا گھر تل ابیب میں ہی ہے۔ جاتے جاتے ساگی ہمیں کہہ گیا کہ ہوٹل میں صبح سویر سے ملنے والا معرکتہ آرا ناشتہ کرنا مت بھولنا اور دوسرا جافا اسٹریٹ پر جاکر گھومنا جو ہوٹل کے قریب ہے۔ جافا اسٹریٹ یروشلم کا مال روڈ ہے یا اس سے بھی بڑا، جیسے برلن کی کوادم اسٹریٹ۔ جافا اسٹریٹ کا ذکر آگے چل کر کروں گا۔

کمرہ بہت آرامدہ تھا، جس کی سب سے بڑی بات یہ کہ کشادہ بالکونی تھی، جہاں سے  حد نظر تک یروشلم شہر دکھائی دیتا تھا۔ محو خواب یروشلم شہر بس روشنیاں جگمگارہی تھیں۔ میں نے تو سوچا تھا کہ یہاں تو جنگ کی وجہ سے بلیک   آؤٹ ہوگا،

تو بلیک آؤٹ کی راتوں اور کرفیو کے دنوں میں مجھ سے میرے پیار کی باتیں مت کرو۔” میری بہت سالوں پہلے لکھی ایک نظم ہے مگر یہاں تو ایسا کچھ بھی نہیں تھا۔

سپید سحر میں جاگتا یروشلم شہر۔ طلوع آفتاب کی ملگجی سرخی و سون رنگ میں بیدار ہوتا یروشلم شہر، شام کے ڈھلتے سورج میں سرخ شراب کی بارش جیسا یروشلم شہر۔ اندھیرے میں جگمگاتا یہ شہر۔ پیغمبروں کی کالی چادر میں خود کو ڈھانپتا یہ یروشلم۔ میں نے اپنے ہوٹل  کی گیارہویں منزل کے اس کمرے کی بالکونی سے، میں نے ان  پہاڑوں پر شاہ بلوط کے درختوں میں گھرے  قدیم اور جدید اس شہر  کے ہر پہر اپنے رنگ دیکھے لیکن میرے ہوٹل کے کمرے میں اس پہلی رات میرے بستر پر میری نیند روٹھی ہوئی تھی۔ حالانکہ میں توتب تک گذشتہ چوبیس گھنٹے سے جاگا ہوا تھا۔

نیند اک روٹھا سہیلا لاکھ تم چاہے بلالو

مگر وہ لوٹ کر آتا نہ تھا۔

مگر یہ میرے کمرے میں اک عجیب آواز کہاں سے آ رہی ہے۔ راکٹ حملے کے سائرن جیسی آواز ہے کہ کسی اور چیز کی؟ میں نے اپنے ہوٹل کا درواز کھول کر ہال وے پر نظر  دوڑائی لیکن وہاں تو خاموشی تھی جواس مقدس رات کی چادر اوڑھے بلا خوف رینگ رہی تھی، جیسے ابھی ابھی بند پانی کے نل سے گرتا قطرہ قطرہ۔

عمران خان، فلم زندہ بھاگ  اسرائیلی یونیورسٹی میں۔

اسرائیل میں، پاکستان دشمن نہیں

یہ ہوٹل “ورت” میں بلکہ یروشلم اور اسرائیل میں میری شبات کی پہلی صبح تھی۔ سنیچر، فرصت  ہی فرصت تھی کہ اس دن تو تورات و انجیل کے مطابق خدا بھی چھٹی پر ہوتا ہے۔ ساری رات بقول پروین شاکر کہ “وہ سویا ہے کہ کچھ کچھ جاگتا ہے،” ہو کر گزری۔ روم سروس کو کمرے میں عجیب و غریب آواز آنے کی شکایت کی۔ اس نے ایک سیکورٹی والا بھیجا، جس نے کمرے کا سرسری جائزہ لیکر کہا کہ یہ  کسی سائرن کی نہیں، منی بارفرج کی آواز تھی۔

صبح ناشتے کیلے اپنے “ورت” ہوٹل کی بیسمنٹ میں پہنچنے والا میں شاید تیسرا شخص تھا۔ مجھ سے پہلے وہاں ایک شخص اور اس کے ساتھ ایک بچہ ٹیبل پر بیٹھے تھے۔ ابھی ناشتے کے بوفے  کی میزوں پر سجاوٹ مکمل نہیں ہوئی تھی۔ مجھے اس ڈائننگ ہال کے کچن سے عربی میں پر شور گفتگو کانوں پڑی اور یہ ہوٹل کے عملے کے درمیان مجلس تھی۔ ہوٹل کے عملے کے اچھے خاصے ملازم مقامی عرب مرد اور عورتیں تھے۔

ہوٹل  میں جیسا کہ ساگی نے کہا تھا معرکتہ آرا اعزازی ناشتہ تھا۔ وہ تمام کھانے پینے کی چیزیں کہ جن کا وعدہ  جنتیوں کیساتھ قرآن سمیت تمام مقدس کتابوں میں کیا گیا ہے۔ ویسا من و سلوی جیسا جو اس چنی ہوئی قوم کو آسمانوں سے آتا تھا۔ جو پھل جو کوئی اور چیز  کھانے پینے کو ارادہ بھی کرو گے ہی وہ آپ کے منہ میں آن  پڑے گی، حوروں اور اغلاموں سمیت۔ عرب، اسرائیل ممالک کی کھجوروں جنہیں عبرانی میں تمرم کہتے ہیں۔ بین البراعظمی صبح کے کھانوں، بینگن مشترکہ  خوراک سمیت، تمام نعمتیں ان خوانچوں میں موجود تھیں۔ ملکوں ملکوں کی  کافی و مشروب( لیکن کافی آج ہاتھ سے بنانی تھی کہ شبات کے دن کافی مشین بند کردی گئی تھی) کئی سلاد، ڈیری،  دیگر سبزیاں، مچھلی مطلب کہ تم اسرائیل کی کون سی کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے کہ آئندہ پانچ دن گویا یہ سب کچھ آسمان سے ہم پر نازل ہوتا رہا۔

ناشتے کے بعد ابھی کچھ گھنٹے تھے تو کمرے میں آکر کس وقت صبح کے آخر آنکھ لگ گئی کہ اس آنکھ کی لگی نے سسی سے پنوں گنوایا تھا۔ جسے فیض نے یوں فرمایا:

تھک کر یونہی پل بھر کیلئے آنکھ لگی تھی

سو کر نہ اٹھیں گے یہ ارادہ تو نہیں تھا۔

یا پھر:

لگی والیاں دی اکھ نہیں لگدی

نی تیری کیوین اکھ لگ گئی۔

لیکن ارادہ ہو نہ ہو، ہم تو اٹھا لئے گئے۔ ہر صبح ان شکتیوں کا شکر کرتا ہوں جس نے پھر ایک نئی صبح اٹھالیا۔ ہمیں تو حنا نے فون پر آٹھانا چاہا لیکن ہم تب نہیں اٹھے۔ کچھ پل بعد جاگ گئے۔ جلدی تیار ہوکر ہم یعنی میں اور حنا آج ایسے شخص سے مل رہے تھے جو اہل یہود کے مردوں میں ایک نگینہ ہے۔ میرا دوست یشایا روزنمین  جو ہم میں سے ہر کوئی سمجھتا ہے کہ وہ اس کا دوست ہے اور وہ ہے بھی سب کا دوست۔ یشایا سے میں پہلے پولینڈ میں ملا تھا۔ جب وہ  شراکا کے جنوبی ایشیا سے آئے ہوئے ہم لوگوں کے وفد کی رہنمائی کررہا تھا۔ اس مذہبی لیکن وسیع المشرب نوجوان یہودی کو اس کی وضع قطع سے ہمارے دوست اور تب ہمسفر رحمان بنیری از راہ تفنن “مجاہد اسلام” کہہ کر بلاتے۔ یشایا پیدا یروشلم میں ہوا لیکن اس کے والدین جب وہ ایک سال کا تھا تو نیویارک نقل مکانی کرگئے تھے لیکن وہ ایک سال کے اندر ہی واپس اسرائیل یروشلم  آگئے  تھے۔ تب سے یشایا یروشلم میں ہے۔ وہ  یروشلم کے ہی محلوں اور گلیوں میں کھیلا کودا اور بڑا ہوا ہے۔

یشایا ہیبریو یا عبرانی یونیورسٹی میں ایشین اسٹڈیز یعنی ایشیائی علوم میں ایم اے کر رہا ہے۔ اس کی دلچسپی تقابل ادیان سے بھی  ہے۔ وہ برصغیر جنوبی ایشیا کے حالات و تواریخ پر بھی گہری نظر رکھتا ہے۔ شاعری، ادب، تاریخ، سیاست، سماجیات۔ وہ بہت کچھ جانتا ہے۔ بہت کچھ جاننا چاہتا ہے۔

  پولینڈ میں جب میں آشوٹز سے نکلا تو یہ شعر گنگنانے لگا “ قتل گاہوں  سے چن کر ہمارے علم اور نکلیں گے عشاق کے قافلے۔” تو اس پر یشایا نے مجھ سے پوچھا تم کیا اپنی شاعری گا رہے ہو؟ میں نے کہا “نہیں، یہ فیض احمد فیض کی شاعری ہے۔” تو اس پر اس نے کہا “بھلا یہ شاعری اس کی راولپنڈی سازش کیس سے پہلے کی ہے یا بعد کی؟”

  یشایا  ہیبریو یونیورسٹی یروشلیم میں پاکستان پر ماہر جرمن پروفیسر سائمن وولفگینگ  کا شاگرد ہے۔ پروفیسر سائمن وولفگینگ پاکستان بھی رہ چکے ہیں۔ انہوں نے شیعیت پر کتاب بھی  لکھی ہے جس کا عنوان ہے “مسلم لینڈ- شیعہ ازم پاکستان سے مشرق وسطیٰ تک۔” پاکستانی پاسپورٹ کے آخری پنے پر بھلے ہی لکھا ہو “دنیا کے تمام ممالک کیلئے  ماسوائے اسرائیل کے۔” لیکن یشیایا نے مجھے بتایا کہ ہیبریو یونیورسٹی میں اس کی کلاس میں پاکستان پڑھایا جاتا ہے۔ کچھ ماہ قبل  اسلامی جمہوری پاکستان کی کلاس میں تحریک پاکستان، عمران خان، اور افتخار ڈاڈی کی کتاب “لاہور میں نئی سینیما۔” پر پریزنٹیشن تھی۔ کلاس میں میرے دوستوں مینو گوڑ، فرجاد نبی اور مظہر زیدی کی فلم “زندہ بھاگ” بھی زیربحث آئی اور اس فلم میں میری لکھی ہوئی قوالی “پتہ یار دا” جس کو راحت فتح علی خان نے گایا اور اسی پر فلم میں ایکٹ بھی کیا ہے،  پر بھی دکھائی گئی۔

 یشایا تین مرتبہ بھارت اور بنگلہ دیش بھی جاچکے ہیں۔ رشی کیش، ممبئی اور پونا کے پرشوق سفر کی باتیں وہ بڑے شوق سے سناتے ہیں۔ ویسے بھی وہ نہایت ہی مجلسی آدمی ہے۔ ہمارے  درمیان ایک  حوالہ سندھ کا بھی ہے جو انہوں نے دیکھی تو کبھی نہیں لیکن اس کے متعلق انہوں نے ان کی پسندیدہ ایل کے آڈوانی کی لکھی  کتاب “مائی کنٹری  مائی لائف  یعنی میری زندگی میرا وطن میں پڑھی ہے۔ وہ پاکستان بھی جانا چاہتا ہے لیکن پیارے پاکستانی بھائی  اب تک بغیر دیکھے یہودیوں سے دشمنی پر ایمان لائے ہوئے ہیں۔  شاید کسی نے کوئی یہودی اور اسرائیلی دیکھا ہو۔ یشایا کا شوق کتابیں اور فلمیں بھی ہیں۔ اس نے پولینڈ میں بھی مجھے کتابیں تحفہ دی تھیں اور اب جب یروشلم میں شبات کے دن اس دوپہر ہم سے “ورت ہوٹل” کی لابی میں ملنے آئے تو میرے لئے کتابیں بھی لائے۔ عبرانی شاعری کی کتاب پینگوئن بک آف ہیبریو پوئٹری،” اور مشہور اسرائیلی  ناول نگار ایموس اوز  کا ناول “ایلس ویئر پرہیپس (“ شاید کہیں اور”) لایا۔ وہ ہر کسی کی مدد کرنے کو ہروقت تیار کامران رہتا  ہے۔ ایسے لوگ ہر پارٹی اور کمیونٹی میں  ہوتے ہیں۔ میرے دوست عطا کو یشایا دیکھ کر ان کی پارٹی کے بھورل شاہ یاد آئے اور مجھے میرا دوست غلام رسول سہتو۔ جس کو اگر آپ نے کوئی کام کہا یا پوچھا، پھر وہ کرکے ہی دم لیں گے۔ یشیایا مولانا مودودی کی تصنیفوں کا  بہت ہی معترف ہے اور وہ  انہیں صوفی اکابرو عالم  سمجھتا ہے۔

یشایا نے کہا “آج  مگر میں تمہیں کافی نہیں پلا سکتا کہ اس کیلئے مجھے پیسے دینے پڑیں گے جبکہ شبات کے دن ہم کسی بھی قسم کی لین دین نہیں کرتے۔” لابی میں میلے کا سا سماں تھا۔ بس لوگ آتے جاتے دیکھتے رہو۔ دنگ رہ جاؤ۔

اب حنا بھی آ چکی تھی۔ یہ ان دونوں کی ایک دوسرے سے پہلی ملاقات تھی لیکن حنا اور یشایا مجلس کے مور ہیں اور وہ حسب توقع یشایا کیلئے طویل زبانی سوالنامہ لائی تھی۔

ابھی ہم محو مجلس تھے کہ وہاں ایک خوش لباس شخص، ہمراہ اپنی بیگم کے آیا اور اس نے ہوٹل کی بار سے سرخ شراب کی دو بوتلیں اور وائن اوپنر پکڑے۔ وہ یشایا کا دوست تھا۔ یشایا کو شلوم یا دعا سلام  کیلئے رکا۔ اس کی کمر میں کوٹ کے نیچے پستول  بھی بندھا تھا (یہ اسرائیل میں کئی لوگوں کیساتھ ہوتا ہے)۔  یشایا نے اس سے  تعارف کروایا کہ ہم پاکستان سے آئے ہیں۔ جب اس نے یہ سنا تو وہ وہیں ہمارے ساتھ بیٹھ گیا۔ اور بوتل کھول کر ہم سے باتیں کرنے لگا۔ اس نے ہمارے لئے بھی دو گلاس منگوائے۔ یشایا نہیں پیتا۔ ایک اسرائیلی شراب کی بوتل پر درج تھا “ہم لوگوں کو نہیں وائن کو لیبل کرتے ہیں۔”یشایا نے اس کا تعارف ہم سے کرواتے کہا کہ یہ یونتان دبوف ہیں۔ سمیریہ شہر کے میئر یوسی دگان کے معاون خاص۔ عام اسرائیلی ہوں کہ اسرائیلی حکومت کے کئی لوگ پاکستان کو اپنا دشمن نہیں سمجھتے۔ میں اسے ان کی یکطرفہ محبت کہتا ہوں اور ہم ہیں کہ “اسرائیل کی بربادی تک جنگ رہے گی، جنگ رہے گی۔”  کے ہیجانی نعروں میں مبتلا ہیں۔ ابھی کچھ دیر بعد سمیریہ کے میئر کو بھی آنا تھا۔ اسی ہوٹل میں شبات کے روایتی لیکن خاص ظہرانے میں شرکت کرنے۔ جس میں یشایا اور ہمیں بھی شرکت کرنی تھی۔ یہ شبات کا بڑا کھانا ہوتا ہے۔

من ھو رئیس الباکستان؟ ذوالفقار علی بوتو رئیس الباکستان

اسرائیل میری سندھ کی طرح کتنے مختلف مذاہب کی جائے پیدائش یا تہاذیب کا گہوارہ ہے۔ مغرب کا وقت، جب زاہد معبد کو جاتا ہے اور رند میخانے کو۔

انہیں اندازہ نہیں تھا، ہم فلسطینیوں سے زیادہ فلسطینی، عربوں سے زیادہ عرب ہیں۔

 یہ شبات کا ظہرانہ یہودیوں کا بڑا کھانہ تھا۔ ہوٹل راوت کے وسیع بیسمینٹ طعام گاہ میں شبات کے ظہرانہ کی میزیں لگنے سے پہلے ہم نے، یعنی میں نے، حنا اور یشایا نے چوکڑی جمائے رکھی۔ اب ہمارے ساتھ  سمیریا کے میئر کے معاون خاص بھی شریک ہوچکے تھے دو سرخ شراب کی بوتلوں کے ساتھ۔ ان کا  اصرار تھا کہ ہم سمیریا کے میئر کیساتھ والی میز پر شبات کے ظہرانے میں شریک ہوں۔ سمیریا کا میئر ہم سے ملنا چاہے گا۔ سمیریا  دریائے اردن کے مغربی کنارے یا ویسٹ بینک پر فلسطینی شہر نابلس کے پاس شمال میں ہے اور انیس سو سڑسٹھ کے بعد اسرائیل کے زیر انتظام ہے لیکن سمیریا جس کا ذکر انجیل میں بھی ہے، میں ایک بڑی فلسطینی آبادی صدیوں سے آباد ہے۔ داؤد کی بادشاہت اور رومی سلطنت کے تلے کئی زمانوں سے آباد و مسمار پھر آباد شہر۔

اس شہر کا میئر آج شبات کے اس ظہرانے میں آیا ہوا تھا، اپنے نوجوان بچوں اور اہلیہ کیساتھ۔شبات کے اس بڑے کھانے یا ظہرانے میں یروشلم کے چھوٹے چھوٹے قصبوں یا دیہات  سے چنے ہوئے نمائندگان اپنی فیملیوں سمیت یروشلم شہر کے اس ہوٹل میں شبات کے اس بڑے کھانے میں مدعو تھے۔ مجھے اسرائیلی دیہی زندگی اور قصباتی یہودیوں اور ان کی فیملیوں کو دیکھنے کا  پہلا موقع ملا۔ وہی کئی  بکھری ہوئی بڑی داڑھیوں والے نصرانی۔ کچھ تو کارل مارکس کی شکل سے ملتے جلتے تھے۔ قصباتی یہودی عورتیں رنگین لیکن دستکاری اور زیورات سے مزین۔ بچے جیسے داؤدی  پینٹنگز میں سے نکل کر آئے ہوئے۔ کاسموپولیٹن شہری امیر اور متوسط طبقے کے  یہودی مرد اور عورتیں، بچے  یعنی کہ نہ کوئی بندہ رہا نہ بندہ نواز، کسان یہودی۔ ہم بھی سمیریا کے میئر شمرون یوسی دوگان کی میز پر جا براجمان ہوئے۔ میئر کا معاون خاص یوناتھن دوبود بھی ساتھ بیٹھا۔ میئر دوگان اس پر خوش تھا کہ ہم شراکا کی دعوت پر پاکستان سے آئے ہیں۔ وہ بھی ان حالات میں۔  وہ چاہتا تھا کہ ہم سمیریا کا بھی دورہ کریں۔ اسے یا اس کی طرح کئی اسرائیلیوں کو کوئی اندازہ نہیں تھا کہ ہم فلسطینیوں سے زیادہ فلسطینی اور عربوں سے زیادہ عرب ہیں۔ نہ یہ کہ ہمارا پیارے پاسپورٹ  کا آخری پنا کہتا ہے دنیا کے تمام ممالک کیلئے ماسوائے اسرائیل۔ تاہم ہم بھی دنیا کے ان دو ممالک میں سے ایک ہیں جو مذہب کی بنیاد پر بنا ہے۔  میئر دوگان کی دعوت تھی کہ ہم وہاں چل کر خود دیکھیں  کہ اس تقسیم اور جنگ کے دنوں میں بھی سمیریا میں یہودی اور فلسطینی کس طرح ساتھ رہ رہے ہیں۔ اسرائیل میں ہر سال بلدیاتی انتخابات ہوتے ہیں، جن میں رجسٹرڈ ووٹر اسرائیلی شہری ہوں  کہ غیر شہری، ووٹ ڈالتے ہیں۔ آپ کو حیرت ہوگی کہ گذشتہ برس جنگ کے باوجود فروری میں اسرائیل میں بلدیاتی انتخابات منعقد ہوئے تھے۔ بلدیاتی انتخابات میں سمیریا کے ووٹرز نے میئر دوگان کو منتخب کیا اور وہ عرب ووٹروں کے ووٹوں کے بغیر شاید ہی آسکتے تھے۔ یہ شہر سمیریا اب ایک صنعتی شہر ہے اور وہاں زیادہ تر مزدور فلسطینی ہیں۔ حماس کے سات اکتوبر سے قبل کوئی روزانہ سترہ ہزار فلسطینی مزدور غزہ سے سفر کرکے اسرائیل کام پر آتے تھے اور کام کے بعد واپس گھر چلے جاتے تھے۔ وہ زیادہ تر کنسٹرکشن یا تعمیرات کے کام میں تھے۔ان کے جنگ کی وجہ سے اب نہ آنے سے اسرائیل میں  تعمیرات اور ریئل اسٹیٹ مہنگے ہو چلے ہیں۔

  میئر میٹھے کا شوقین تھا اور بچے بار بار اس کے سامنے کیک و مٹھائیوں کی پلیٹ رکھ رہے تھے اور وہ ہماری طرف بڑھا رہے تھے۔ وہاں میں نے دیکھا کہ نہ فقط دوگان مسلح ہے لیکن کئی، کیا جوان کیا پیر مرد، عورتوں  چاہے مردوں کو اسرائیلی سب مشین گن اوزی لگی ہوئی تھی۔ میئر کے محافظ تو فاصلے  پر تھے۔ میئر کا کوئی پروٹوکول نہیں تھا وہ ایک عوامی آدمی لگتا تھا۔ اب میئر دوگان کو موت کی دھمکیوں  کے بعد پولیس کی بھاری سیکیورٹی  حاصل ہے۔

ہماری میز پر تیز نشے والی روایتی تاریخی عرق کی چھوٹی  چھوٹی  گلاسڑیاں  رکھے جاتی  ہیں جو ہم نوش  فرماتے ہیں۔ میں نے اور حنا نے اس کی پذیرائی میں کوئی کثر نہیں چھوڑی

شرب المشرقین شاید یہی عرق تھا۔ شرب المشرقین والشرب المغربین۔ اور تم کون کون سی نعمتوں کو ٹھکراؤ گے۔

اب حنا کو اور مجھے یشایا کے سنگ تھوڑی سی یروشلم کی آوارہ گردی مقصود تھی۔ جافا اسٹریٹ، جو کہ یروشلم کا مال ہے یا پھر جیسے برلن میں کودام اسٹریٹ۔ لیکن وہاں  ہم نہیں گئے کہ شام بھی ہونے کو تھی۔  ہم یروشلم کے عرب علاقوں میں جانا چاہتے تھے۔ اگر تم عرب یا مسلمان نہیں لگتے پھر  پٹائی  کا امکان ہو سکتا ہے۔ کسی نے ہمیں ایک شام قبل متنبہ کیا تھا۔

  میوزیم آف اسرائیل کھلا ہوگا۔ یشایا نے رائے دی اور ہمارے ساتھ ہولیا۔ یہ جدید شہر یروشلم میں شبات کی سہ پہر تھی۔ جدید یروشلم کچھ کچھ  اسلام آباد سے مشابہ لگتا تھا۔ سرکاری دفاتر، وزارتوں کی اس شام بند عمارات، جس علاقے کو پرنسنکٹ کہتے ہیں۔ یہیں اسرائیلی وزارت امور خارجہ، داخلہ اور کچھ فاصلے پر اسرائیلی پارلیمان یا کونسینٹ تھی، جہاں کا  بہرحال ایک روز بعد ہمیں  دورہ کرنا تھا۔ سڑک اور شاہراہ پر اکا دکا ٹریفک تو تھی لیکن ٹیکسی یا پبلک ٹرانسپورٹ مفقود تھی۔ یہاں جگہوں، شاہراہوں، بزنس وغیرہ کے سائن بورڈ عبرانی اور انگریزی کیساتھ لازمی طور عربی میں ہیں کہ یہ پارلیمان میں مانا گیا امر ہے۔

آٹھویں جماعت تک استاد سلیم سولنگی صاحب سے پڑھی ہوئی عربی کافی مددگار ثابت ہوئی۔

 “ من ھو رئیس الباکستان؟” 

“ ذوالفقار علی بوتو رئیس الباکستان” 

تب  میرے پسندیدہ رٹے ہوئے عربی جملوں میں  سے ایک ہوتے۔ پھر جو قرآن کے کچھ پارے ترجمے کیساتھ پڑھے الاس، ذوالفقار علی بھٹو کا میری کلاس روم کی ایک دیوار پر  فر کے کالر والے کوٹ والی تصویر والا فریم۔ واقعی وہ رئیس الباکستان لگتا لیکن میں نے پوری کوشش کی کہ عربی زبان نہ سیکھوں کہ مجھے واقعی بھی تب مشکل لگتی اور استاد سلیم سولنگی صاحب کی سر توڑ کوشش تھی کہ بذریعہ مولابخش یعنی ڈنڈا پیر میں  عربی سیکھوں۔ایک دفعہ تو دوران عربی پیریڈ ، میں کلاس روم سے سبق یاد نہ ہونے پر بھاگ بھی گیا لیکن تازے موٹے میرے کلاس ہم کلاسی مجھے واپس ڈنڈا ڈولی کرکے پکڑ کر لائے۔

شام یروشلم پر اترنے والی تھی اور پتھروں سے بنی عمارتیں اور ان کے بیچ ماحولیات کو متوازن رکھنے والے قدرتی چھوٹے بڑے پارک اور جنگل یروشلم کے جدید شہر کے پرزم سے دیکھے جانے والے  مناظر پیش کر رہے تھے۔  

ہم تیز قدموں سے تقریباً دوڑ لگاتے ہوئے میوزیم اسرائیل پہنچے جو کہ بند ہوا ہی چاہتا تھا۔ میوزیم اسرائیل میں داخلہ کیلئے کوئی داخلہ ٹکٹ نہیں تھا۔ یہاں کتابوں کا مقبرہ یا شرائین آف بوکس بھی قابل دید و انتہائی حیرت انگیز تھا

پارلیمان اور پرائم منسٹر ہاؤس کے سامنے پار سڑک پر سات اکتوبر کے یرغمالیوں کی واپسی میں تاخیر پر احتجاجی کیمپ لگائے ان یرغمالیوں  کے گھر والے اس شہر کی شام کو سوگ کی دبیز دھن بنا رہے تھے۔

     پتہ نہیں کیوں، جہاں بھی جاؤں، ہر شہر کی شام ایک اداسی اور سرخوشی ایک ساتھ لیے ہوتی ہے۔

میوزیم اسرائیل میں ہزاروں سال  بند تھے۔ یہ تعمیرات کا نادر نمونہ جو انیس سو پینسٹھ میں ایک ہنگیرین مخیر یہودی کی مدد سے کھولا گیا ہے۔ جہاں ایک حصے پر سفید گنبد میں شرائین آف بوکس یا کتابوں کا مقبرہ ہے جہاں وہ عیسائی دو ہزار سالہ قدیم نسخے نمائش پر ہیں، جنہیں ڈیڈ سی یا بحیرہ مردار میں دبایا گیا تھا، جہاں وہ انیس سو سینتالیس تک گفاؤں میں چھپائے رکھے گئے تھے۔ یہ قدیم عہدنامے کے اسکرول سیاہ رنگ کے بڑے مرتبانوں میں رکھے گئے تھے، یہ مقام اس کے علاوہ چار ہزار سالوں کی تاریخ و تہذیب کا پتہ دیتا ہے۔ یروشلم یا سرزمین اسرائیل میری سندھ کی طرح  کتنے مختلف مذاہب کی جائے پیدائش یا تہاذیب کا گہوارہ ہے۔  بادشاہ داؤد کے مجسمے،  نمرود کا مجسمہ، توریت اور اس پر تاج، قدیم بیج جن سے پہلی کھیتی باڑی کی شروعات ہوئی سے لیکر مونالیزا اور سینٹ  پیٹر قید میں سب تصاویر، نشانیاں و آرٹیفیکٹس موجود تھے لیکن پورا میوزیم گھومنے کو وقت بہت کم تھا۔  

مغرب کا وقت عجیب وقت تھا اور میرے سامنے جدید یروشلم کسی کتاب کی طرح کھلا تھا۔ وہ وقت جب زاہد شام کی عبادت کو جاتا ہے اور رند میخانے کو۔ یشایا ایک یہودی معبد خانے میں شام کی عبادات کو رکا۔ جس کے باہر سوٹ کیس پڑے تھے۔ سوٹ کیس یہودی جلاوطنی کی نشانی ہے اور میں نے اور حنا نے ہوٹل کی راہ لی، جہاں ہمارے دوست عطا وسطڑو اور مبشر زیدی ایئر پورٹ سے آنے تھے۔ عطا امریکہ سے براستہ دبئی پہنچا تھا اور مبشر بھائی امریکہ سے براستہ ایتھیوپیا۔ آجکل متحدہ عرب امارات  والے پاکستانی سبز پاسپورٹ والوں پر ناراض ہیں۔  

یشیایا گھر سے فریش ہو کر ہوٹل آچکا تھا کہ اس کا گھر یہیں یروشلم میں ہے۔

اور ہم نے اس شب موشے دایان سینٹر کے تھنک ٹینک پروفیسر  کے گھر پر ڈنر کو جانا تھا۔

اصلی قائد اعظم باچا خان ہیں۔

شبات شام  کے ملگجی اندھیرے میں  اختتام کو پہنچا تھا۔ ہوٹل میں اب ایک اور قسم کی افراتفری تھی۔ واپسی کی افراتفری، ان فیملیوں کی جو یروشلم میں شبات منانے کو اس ہوٹل میں ٹھہرے تھے۔ اب وہ اپنی واپسی کا رخت سفر  باندھے جانے کو تھے یعنی کہ کوچ کا نقارہ بج چکا تھا۔ ساری لفٹیں مصروف تھیں۔ بچے سارے جگ کے ایک جیسے ہوتے ہیں۔کئی تو اپنے والدین یا بڑوں کو سامان ہوٹل کی لابی تک لانے میں مدد کر رہے تھے اور کئی بغیر کسی مقصد لفٹ میں اوپر نیچے جا رہے تھے۔ ایسا بھی نہیں تھا کہ سارے لوگ ہوٹل میں رہنے ، باہر سے آئے تھے بلکہ کئی تو یروشلم شہر کے بھی لگتے تھے۔

میں کبھی ہوٹل کی لابی میں آتا تو کبھی اپنے کمرے میں ہوٹل کی گیارہویں منزل پر کہ اس دن یروشلم کی اس شام پاکستان اور لندن وغیرہ سے لاپتہ لیکن اب پاکستانی فوجی تحویل میں قید اور خفیہ فوجی کورٹ سے سزایافتہ انسانی حقوق کے کارکن ادریس خٹک کی رہائی کیلے زوم پر ایک وسیع میٹنگ تھی۔ جس میں میرے دوستوں یعنی اس زوم اجلاس کی میزبان گلالہ اسماعیل نے مجھے نظم پڑھنے اور چند الفاظ بولنے کو کہا تھا۔ بولنے والوں کی فہرست بڑی طویل تھی اور اس زوم اجلاس کے تین حصے تھے، اور ایک سے ایک بڑے بھاری بھر کم نام یا ہیوی  ویٹس بولنے کو قطار میں تھے۔ پاکستانی یا پاکستانی منحرفین۔ وقاص گورایا، افراسیاب خٹک، گل بخاری اور ڈاکٹر عائشہ صدیقہ ایک ہی چھت کے نیچے، ادریس خٹک کی بیٹی، جگنو محسن اور دیگران۔ لگتا تھا کہ اتنے سارے لوگ بول رہے ہیں شاید ادریس خٹک رہا ہونے والا ہے۔ یا اب تو رہا ہونا چاہیے۔ وہ بھی جنہوں نے نافذ کی ہوئی گمشدگیوں  پر کبھی نہیں بولا۔ لیکن نہیں آئی نہیں آئی میری باری نہیں آئی۔  تاریخ چھوٹے  چہروں کو بھول جاتی ہے۔ شاید یہ بھی کہ  اب پروگرام کی میزبانی گلالہ کے ہاتھ میں بھی نہیں تھی۔  

اب میرے دوست پیارا عطا اور مبشر زیدی بھی پہنچ چکے تھے۔ پارٹی تو اب شروع ہونی تھی۔ اب جاکر ہوٹل کے ریسٹورنٹ کی کافی مشینیں اور بار کا کاروبار شروع ہونا ہی چاہتے تھے۔

ہم ساگی کی منی بس میں یروشلم کے راستوں روڈوں سے گزرتے ، عشائیے کو پروفیسر نر بامس کے گھر پر پہنچے۔ پروفیسر نر بامس نے اپنے گھر کی چھت پر یروشلم کی اس خنک شام ہمارا ایک استقبالیہ ٹائپ عشائیہ  کیا ہوا تھا۔ ہم شراکا کے دسمبر کے اس وفد کے اعزاز میں۔ یروشلم اور تل ابیب سے اپنے پڑوسیوں سمیت کیا معرکتہ آلارا لوگ بلائے ہوئے تھے ڈاکٹر نربامس نے۔

ڈاکٹر نر بامس اسرائیل کے اہم دماغ اور تھنک ٹینک ہیں۔ وہ مشرق وسطیٰ اور افریقی علوم پر تھنک ٹینک ادارے موشے دایان سینٹر کے سینئر ریسرچ فیلو اور بین الاقوامی امور و تعلقات پر کئی کتابوں کے مصنف ہیں اور کئی اہم اداروں کے کرتا دھرتا بھی ہیں۔ مشرق وسطٰی کے منحرفین کی آن لائن ویب سائیٹ کے بھی بانی ہیں اور دنیا بھر کے اسکولوں میں پڑھائی جانی والی عدم برداشت اور جمہوریتوں میں انفارمیشن  ٹیکنالوجی کے استعمام پر بھی۔

موشے دایان سینٹر اسرائیل کے سابق وزیر دفاع اور لیڈر کے نام پر ہے جو انیس سو انسٹھ میں تل ابیب میں قائم کیا گیا تھا۔ اب کئی سال ہوئے کہ یہ سینٹر تل ابیب یونیورسٹی سے بھی ملحقہ ہے۔

موشے دایان کا نام  پہلی بار میں نے بچپن میں ذوالفقار علی بھٹو کی زبان کے حوالے سے پڑھا یا سنا تھا، جب انہوں نے کہا تھا “ہم موشے دایان کی دوسری بھی آنکھ نکال دیں گے۔” کیونکہ موشے دایان کی

ایک آنکھ پر کالی پٹی یا پیچ لگا تھا۔ یہ ہمارے برکلے اور آکسفورڈ کے تعلیم یافتہ لیڈر تھے جو کسی انسان کی کسی بھی جسمانی معذوری پر ایسا بیان داغتے تھے۔ یعنی تشدد سے بھرپور۔ بھٹو لیڈر نہ ہوئے گویا گوجرانوالہ یا لاہور کے پہلوان ہوئے۔ یا وہ موچی گیٹ والوں سے موچی گیٹ کی ہی زبان میں آکر بات کرتے تھے۔ لیاری والوں سے لیاری والوں  کی زبان میں کہ” اگر شیرک اور دادل غنڈے ہیں تو مجھ سے بڑا غنڈہ کون ہوگا” انہوں نے اپنے لیاری کے ایک جلسے میں کہا تھا۔

پھر یہ کہ بھٹو کی موشے دایان کے متعلق ایسی بڑھک ان دنوں شاہ عالم مارکیٹ میں آٹھ آنے یا ایک روپے والی  دیوار پر ٹانگنے والے کیلینڈر نما پوسٹر شائع ہوکر پورے پاکستان میں بکے تھے۔ ایک طرف مکا لہراتے ہوئے غصیلے منہ والے بھٹو کی تصویر اور دوسری طرف ایک آنکھ پر پیچ پہنے موشے دایان کی تصویر، اس تحریر کے ساتھ کہ “ہم موشے دایان کی دوسری بھی آنکھ نکال دیں گے۔” موشے دایان جب وہ فوج میں تھے  ان کی ایک آنکھ کسی  بندوق باز  کی اس گولی سے نکلی تھی،  جب اس کی گولی کے اثر سے پتھر اور شیشے  کے ذرے اڑ کر  موشے  دایان کی ایک آنکھ میں لگے تھے، جس سے آنکھ کو ضائع ہو گئی تھی۔

ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کے وہ لیڈر تھے جو اسرائیل اور انڈیا دشمنی والے  بیانیہ کو اور زیادہ انتہاؤں  پر لے گئے،  جیسا کہ “ہم ہزار سال تک انڈیا سے لڑتے رہیں گے۔” اور اسرائیل کیخلاف تو اس نے تمام مسلم چاہے عرب قومپرستی کو ایکسپلائیٹ کیا،خیر۔ یہ تو ہوا برسبیل تذکرہ ۔

ڈاکٹر نر بامس نے اپنے گھر کی چھت پر دیکھو کس کس کو بلایا ہوا تھا۔ اسرائیلی مصنف اور عالمی امور کے ماہر جوزف  کاکس، اسرائیلی ٹیلیویژن  کے سابقہ نیوز کاسٹر اور صحافی لارا کارن فیلڈ، اور اس یہودی ربی کا دوست بھی جو تازہ دبئی میں قتل ہوا۔ ان دونوں کا تعلق یروشلم سے ہے۔ مقتول ربی کا یہ دوست اب بھی بہت عرصے سے دبئی میں مقیم  ہے۔ ہمارے میزبانوں میں سے یشایا روزمین اور شراکا کے  الیسا اور امیت بھی  تھے ۔ ہر وقت مستعد اور توانائی سے بھرپور۔ عشائیے کے لوازمات میں سرخ شراب کی صرف ایک ہی بوتل تھی، سو بھی بھلا ہو لارا کارن فیلڈ لائی تھیں۔ لارا کارن فیلڈ وائن، وہسکی اور کافی سے پیار کرنے والی ہیں۔ لارا کی لائی ہوئی وائن کی بوتل ہم سدا کے پیاسوں  کیلئے حلق تر کرنے کو کافی تھی۔ ویسے بھی ہمیں نیند نے آ لیا تھا۔

ڈاکٹر نر اور مبشر زیدی نے ڈاکخانہ ملایا کہ ڈاکٹر نر  کی پی ایچ ڈی میری لینڈ یونیورسٹی سے تھی ۔ وہ واشنگٹن میں اسرائیلی سفارتخانے میں تعلیمی رابطہ کا ر بھی رہے ہیں۔ ڈاکٹر نر نے مبشر کو اپنی کتاب “ایکسپیٹ۔ آنگ ڈیموکریسی- ڈسیئڈنس،  انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ڈیموکریسی ان مڈل ایسٹ” بھی تحفے میں دی۔

ڈاکٹر نر نے مجھ سے پوچھا تم پولینڈ میں آشوٹز میں گائیڈ اگاتھا سے ملے تھے- وہ میری بیوی ہے اور اس کا پورا خاندان ہولوکاسٹ میں مارا گیا تھا۔

ڈاکٹر نر نے کہا اگر اس وقت کہا جاتا  کہ “نہیں پھر کبھی نہیں” (“نیور آگین”) تو پھر شاید دنیا نسل کشیوں سے بچ جاتی۔

وہ بتا رہے تھے  ادھر اس جگہ جہاں تم بیٹھے ہو، کئی بار فلسطینی لیڈروں سے مذاکرات ہوئے لیکن امن قائم ہوا بھی تو لیکن زیادہ دیر نہیں۔ وہ مبشر زیدی کے اس سوال کا جواب دے رہے تھے کہ “آخر کچھ لوگ تو اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان ہونگے جو جنگ نہیں چاہتے ہونگے؟” مبشر زیدی یہ سوال تقریباً  ہر اس اسرائیلی سے پوچھا کرتے جو کہ کچھ نہ کچھ  پوزیشن میں تھے۔

پروفیسر نر نے پوچھا کہ دنیا میں کون سی پارٹی اچھی پارٹی ہے۔ پھر کہا “سی جی پی”  ہم نے کہا “سی جی پی؟” انہوں نے کہا “ہاں  سی  پی جی۔ معنی کولیشن آف گڈ پیپل۔

Coalition of Good People (CGP)

اب رات کی خنکی اور نیند ہم پر اپنے بازوئے پھیلانے لگی تھیں ۔اس پر وہ شعر یاد آیا

یہ سرد رات یہ آوارگی اور نیند کا بوجھ

اپنے شہر میں ہوتے تو گھر گئے ہوتے

اب تو یاد بھی نہیں رہا،  اپنے شہر کو یاد رکھتے ہوئے ،  دنیا کے جس شہر بھی جاؤں، اس کو اپنا ہی شہر سمجھا ہے اور خود کو گلوبل سٹیزن۔

واپس ہوٹل  پہنچے اور لابی میں ایک جنٹلمین اور اسکالر ایک عظیم الشان شخص رات گئے ہمارا انتظار کر رہا تھا، اپنی کتاب کی ساتھ۔ یہ یروشلم کے عالم و محقق اور مصنف ڈاکٹر عیال بری ہیں۔ جن کی تحقیق بھارت میں پٹھانوں یا پختونوں پر برسہا برس رہی ہے۔ نیز ان کی اس تحقیق کا نچوڑ ان کی کتاب “پٹھانس یا پختونس ان انڈیا” ہے۔ ڈاکٹر عیال بری ہم سے بڑی گرمجوشی سے ملے۔ مل کر خوش تھے۔ اور ہم بھی۔ انہوں نے ہمیں یعنی مجھے، حنا اور مبشر کو اپنی دستخط شدہ کتاب عنایت کی۔ دو ہزار سولہ میں بھارت کے پشتونوں کا ایک وفد بھی اسرائیل لیکر آئے تھے۔

یہ تو آپ کو پتہ ہے کہ پٹھان نہ فقط انڈیا میں چھائے ہوئے ہیں بلکہ ہمارے اصل قائد اعظم باچا خان عبدالغفار خان کو “سرحدی گاندھی” بھی کہا جاتا  تھا۔

شاید یہ کم لوگوں کو پتہ ہو کہ باچا خان کی اہلیہ کی قبر یروشلم میں ہے۔ ہوا یہ تھا کہ باچا خان اپنی اہلیہ کے ہمراہ اسرائیل کے دورے اور یروشلم کی زیارت  پر آئے تھے۔ یروشلم میں ان کی اہلیہ سیڑھیوں سے گر کر فوت ہوگئیں۔ جنہیں  یروشلم میں ہی دفن کیا گیا تھا۔  کل کا دن بڑا دن ہے کہ اسی قدیم یروشلم شہر کی سیڑھیوں  پر ہی ہمارا اتار چڑھاؤ ہے۔

اب وقت ہے دیدار کا۔

یروشلم شہر قصص الانبیا سے نکل کر آیا تھا

عمر بن خطاب کو اب بھی یروشلم میں اچھےالفاظ میں یاد کیا جاتا ہے

اسرائیل میں سندھی کلچر ڈے

سندھی کلچر ڈے کی صبح ہم پر یروشلم میں آئی۔ یہ سوچ کر بھلا لگا کہ یروشلم کی سرزمین پر ہم لوگ، میں اور میرا دوست پیارا دوست عطا اجرک پہنے  ہوئے تھے۔

وہ اجرک جو موہن جو دڑو کے  پریسٹ کنگ کے بھی کاندھوں پر تھی۔  کبھی نہیں سوچا تھا، پانچ ہزار سالہ موہن جو دڑو کی ثقافت کے دن کا سواگت ہم  چار ہزار سالہ اسرائیل کی سرزمین پر کریں گے۔

اس دن ہم یروشلم کی شاہراہ جافا روڈ سے  جبل صہیون  کی جانب عازم سفر  ہوئے تھے۔ یہ جافا روڈ جو نئے پرانے یروشلم سے گذرتی جافا شہر تک جاتی ہے۔ صہیون جبل پر جاتی طویل دیوار  کی اس طرف  ہماری منزل قدیم اورعظیم شہر یروشلم تھا۔ اولڈ  جیروسیلم سٹی یا ایہاالناس  چلو کوہ ندا کی جانب۔ 

  ساگی کی وین میں سوار ہم، ہمارے اس سفر کا گائیڈ  یشائی شولومن تھا جو کہ خود یروشلم پر ایک چلتی پھرتی تاریخ ہے۔اس کا ابا بھی یروشلم میں گائیڈ تھا۔ یشائی شلومون ہمیں بتا رہا تھا “کئی بار یروشلم شہر تباہ ہوا اور پھر تعمیر ہوا۔ نیز یہ کہ صہیون جبل پر ہی پہلے یروشلم شہر قائم ہوا تھا جو پیغمبر،شاعر اور بادشاہ داؤد نے قائم کیا تھا۔ بادشاہ داؤد کا مقبرہ  بھی جبل صہیون پر ہے۔ اب جبل صہیون موجودہ قدیم شہر یروشلم کی دیواروں سے باہر ہے۔ لفظ صہیون جو کئی بار عہدنامہ قدیم، زبور اور انجیل میں استعمال ہوا ہے۔ 

اب قدیم اورعظیم یروشلم میں داخل ہونے کو باب الخلیل،ہمارے سامنے تھا بلکہ ہم  باب الخلیل کےسائے میں  تھے ۔ اس دروازے کی پیشانی پر پتھر کے کتبے پر عربی  اور عبرانی میں لکھا تھا “باب الخلیل۔”

قدیم یروشلم شہر کے سات دروازے ہیں (مجھے سندھ کا شکارپور شہر یاد آیا) لیکن  یہ دروازہ تینوں مذاہب، یہودیت، عیسائیت اور اسلام کے  جد امجد  پیغمبر ابراہیم کی نسبت سے ہے۔

  باب الخلیل کی ایک دیوار پر عربی میں ابراہیمی امت کا کلمہ لکھا تھا۔” 

لا الٰہہ الا اللہ ابراہیم خلیل اللہ”۔ 

باب  خلیل عبور کر کے آگے آ گئے تو ایک  مصروف چوک آیا جہاں ایک قدیم دیوار پر جلی حروف میں پتھر پر کندہ تھا  “میدان عمر بن خطاب۔” اس شاہراہ پر جہاں مسلم  کاروباری اور رہائشی آبادی ہے۔ یہ   چوک عمر بن خطاب  سے منسوب ہے۔ یروشلم کے مشہور ٹورسٹ گائیڈ  شمیوئیل برام نے اخبار ٹائم آف اسرائیل میں لکھا تھا: مسلمانوں کے اس انتہائی روادار خلیفہ دوئم نے جب ساتویں صدی میں یروشلم فتح کیا تو اس نے یہودی عبادتگاہوں اور مقدس مقامات کا انتہائی احترام کیااور رواداری اختیار کی بلکہ تباہ حال یہودی مقامات کی بحالی کے اقدمات کیے۔ جیسے یروشلم کے  سب سے بڑے چرچ مقدس کے گرد گندگی کے ڈھیر جمع ہوگئے تھے۔ جب عمر بن خطاب نے اس کا دورہ کیا تو اسے صاف کرنے کا حکم دیا بلکہ خود اپنے ہاتھوں سے اس کی صفائی کی۔ عمر بن خطاب کو اس وقت کے یروشلم کے بشپ سوفورونس نے بڑے گرجا گھر  میں آنے کی دعوت دی، انہوں نے  یہ کہہ کر معذرت کی کہ میں آؤں  تو سہی لیکن اس کے بعد مسلمان اس گرجا گھرکو تباہ کر کر اس کی جگہ مسجد بنالیں گے۔  

عمر بن خطاب چوک کی بائیں جانب عیسائی کوارٹرز یا مسیحی علاقہ تھا۔شاہراہ عمر بن خطاب پر کئی فینسی اور سوینیر کی شاپس اور فلافل اور شوارمہ سمیت کئی دکانیں عربوں کی تھیں۔ حقے پیتے کفایا پہنے عرب بزرگ یا پھر دکانوں کے آگے دسمبر میں یرشلم کی دھوپ سینکتے۔ گلی کے کونوں نکڑ پر ٹولیوں میں کھڑے عرب نوجوان۔ گپیں ہانکتے، سگریٹ پھونکتے

تو اب ہم پیغمبروں کی سرزمین اور وہاں سے چاروں جانب نظر آنے والے سنہری گنبد کے اطراف تینوں مذاہب یہودیت، عیسائیت اور اسلام کے ماننے والوں کی ایک جگہ اپنے محلوں یا کورارٹرز میں بسنے والے یروشلم میں تھے۔ قدیم اورعظیم یروشلم کی گلیوں میں ہمارے قدم پڑ چکے تھے۔

جب میں قدیم یروشلم کی ان تنگ تاریخی گلیوں محلوں میں گھوم رہا تھا تو نہ فقط سوچ رہا تھا کہ کتنے ہی  پیغامبر کے  پاؤں ان گلیوں میں صبح شام و شب  پڑتے ہونگے۔ ایسا لگتا ہے یہ قدیم و عظیم شہر یروشلم قصص الانبیا سے باہر نکل کر میری آنکھوں کےسامنے کھڑا ہو گیا تھا۔ جو قصے بچپن میں میری ماں  مجھےسنایا  کرتی تھی۔ نہ جانے کس جگہ، کون سی گلی مگر کتنے انسانی تاریخ کے خونی ڈرامے اس شہر میں کھیلے گئے۔ یونانی آئے، مملوک آئے، رومی آئے، اوائلی اسرائیلی، عثمانی سلطان آئے، جنہوں نے آرمینیوں کا قتل عام کیا، باب الخلیل کے سامنے پھانسیوں کے پھندے لٹکائے۔ انگریز آئے اور عرب، ترک جنگ و جدل، کشت خون ان پتھروں کی دیواروں اور گلیوں نے دیکھے، وقت کہے میں سب سے بڑا سلطان۔

 ہمارا گائیڈ یشائی شلومن نادر تصاویر اور نقشے لئے یروشلم کی تاریخ کے اوراق پلٹتا جاتا تھا۔اس نے کہا وہ بھی اب سات اکتوبر دوہزار  تئیس کے بعد اپنے ساتھ پستول رکھتا ہے۔ جب سے یروشلم میں ایک ٹورسٹ گائیڈ مارا گیا تھا۔ُلیکن میں قدیم یروشلم  کو اپنی آنکھوں سے دیکھنااور پیروں سے چھونا چاہتا تھا۔ 

اب ہم میدان عمر بن خطاب کے اس پہاڑی میدان سے کئی پتھر  کی سیڑھیاں اتر کر شہر قدیم یروشلم کی تنگ تاریخی گلیوں میں گھوم رہے تھے۔ یروشلم کی یہ گلیاں مٹیاری، حیدرآباد سندھ ، سیوھن اور اندرون شہر لاہور سے مماثلت رکھتی اور ملتی جلتی  ہیں۔ یروشلم شہر بھی والڈ سٹی ہے۔

 اب یہاں اس سرزمین پر پیغمبر جا آرامی  ہوئے اوراس جگہ  دنیا بھر کے جدید سیاح جوڑے، سندھی اخبارات کے الفاظ میں: پریمی جوڑے۔مقامی عرب، یہودی، عیسائی  گھوم اور گذر رہے تھے۔ گھروں، دکانوں بازاروں میں ان کی آوت جاوت لگی تھی۔ قدیم عظیم یروشلم کی ان گلیوں میں راوی واقعی سب چین لکھتا تھا۔ کچھ گلیاں اور چوبارے خاموش تھے۔ جن کے باہر لگے فانوس مجھے بڑے پرفسوں لگے اور رومان انگیز بھی۔ اور کہیں کہیں  دروازوں، محرابوں سے لپکتی لپٹتی  بیگن  بیلیں، امر بیلیں مجھے ہمشہ اچھی لگتی ہیں۔ ایک گلی میں گھر کے باہر ویسپا موٹر سائیکل اور ایک میں چنگچی نما سواری کھڑی تھی۔ 

مجھے اس اندرون یروشلم شہر میں کھلے قہوہ خانوں، ریستورانوں کے باہر قدیم دیواروں پر کوکاکولا کے کمرشل کچھ عجیب سے لگے لیکن ایک جگہ ہم  ایک بڑے ہال وے نما اسپیس پر رک گئے  تو ایک دیوار پر بنا  کئی فٹ لمبا ایک شاہکار فن میورل دیکھا۔ یہ میورل  قدیم ترین یروشلم کی زندگی، سماج اور وہاں بسنے والی عورتوں، مردوں، مویشیوں  کی عکاسی کررہا تھا۔ اف مائی گڈ نیس! اس میورل میں دکھائی گئی عورتوں کے کرتوں پر بنے گج (کشیدہ کاری) مجھے بلوچ، بروہی،سندھی عورتوں کے لباسوں جیسے لگے اور مرد بھی بروہی اور بلوچ خانہ بدوشوں سے ملتے جلتے ہیں۔  

(ہماری دوست اور اس سفر میں ساتھی حنا اختر  کے نوٹس میں ناموں کی  یادداشت کی توثیق کیلئے مدد لی گئی کہ میں  شاذ نادر ہی کبھی نوٹ  لیتا ہوں۔ کچھ تصاویر بشکریہ حنا اختر،  پیارو عطا اور مبشر زیدی بھائی اور باقی میری کھنچی ہوئی ہیں)۔

Posted in

2 responses to “اسرائیل : سرزمینِ موعودہ کا سفر”

  1. ام حیا Avatar

    اتنی لمبی تحریر ؟🤔

    Like

  2. The Balochistan Journal Avatar

    پڑھنے کیلئے آپ کا شکریہ! قارئین کی سہولت اور دلچسپی کیلئے چند قسطیں ساتھ ملا کر ایک قسط ترتیب دی گئی ہے، اس لئے تحریر کچھ طویل ہو گئی۔ ہم آپ سے معذرت خواہ ہیں۔

    Like

Leave a comment

Design a site like this with WordPress.com
Get started