تحریر حفیظ علی بلوچ

شام کا وقت ہے، کوشقلات کے رہائشی گھروں کے صحن میں بیٹھے خوش گپیاں کررہے ہیں۔ مسجد سے نعت کی مسحور کن آواز بلند ہوتی ہے۔ عصر اور مغرب کا وقت دن اور رات کے درمیان پل جیسا ہے جہاں سے دن تھکا ہارا لوٹ جاتا ہے اور تاریکی اس کو گود میں لے کر سُلاتی ہے۔ لوگوں کے معمولات میں اب اس پہر نعت خوانی سے مسحور ہونا بھی شامل ہوچکاہے۔ 

“ تمہاری آواز دل کو لگتی ہے۔ “ رفیق طبلہ نواز اپنے کزن سے کہتا ہے۔ جسے موسیقی سے شدید لگاؤ ہے۔ وہ اپنے نعت خوان کزن کو پابندی سے تربیت لینے کا مشورہ دیتا ہے۔ 

نعت خوان اس کا مشورہ سُنتا ہے اور طبلہ نواز کی شاگردی میں آکر روزانہ تربیت لیتا ہے۔ یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے۔ کچھ عرصہ گزرتا ہے جب طبلہ نواز ان کی صلاحیت پر اعتماد کرتا ہے اور ان کو میوزک البم کرنے کی صلاح دیتا ہے تاکہ یہ دلکش آواز عوام تک پہنچے۔

او کوہسری ماہیں جِنک، جالا ببو چی کوہ سر ءَ

 دیدار ءَ تئی بازیں فقیر ، اے کوہ بنا اوشتاتگ۔ 

مہر و وفا کے مریدوں کے مجمع میں ایک شخص اپنی آواز کا جادو جگا رہا ہے؛  جو فقیر کی صدا بنتا ہے، اسے لوگ عارف بلوچ کے نام سے جاننے لگتے ہیں۔ جو آواز شام کو نعت بن کر گونجتی تھی، وہ شاید تیس سال ہوئے یا اس سے زیادہ لیکن اس آواز کی مقبولیت میں ذرہ برابر کمی واقع نہیں ہوئی۔ 

موسیقی کی دنیا میں آواز اور شاعری کے سنگ دیگر انسٹرومنٹس مل کر کسی تخلیق میں اصلیت  پیدا کرتے ہیں۔ یہاں نقلی فن نہیں چلتا۔ جُز وقتی فنکار آتے ہیں، چند ایک گیت و گانے گاتے ہیں، ایک دو گانے ہفتے مہینے تیز ہواؤں کی مانند چلتے ہیں، پھر صداؤں کی تاریکی میں کہیں گہرائی میں دفن ہوجاتے ہیں۔ عارف بلوچ ان میں سے نہیں۔

عارف بلوچ نے ایک حقیقی فنکار کی طرح کبھی خاموش رہ کر، کبھی صدمے سہہ کر اور کبھی جواب دے کر آزمائشوں کا مقابلہ کیا۔ نور خان بزنجو ان کی زندگی سے جڑا ہوا تھا۔ شاید یہاں اس کا ذکر موزوں رہے۔ دونوں کو بلوچی زبان سے محبت کرنے والوں میں یکساں مقبولیت حاصل ہوئی۔ وہ فنکاروں کی ایک جوڑی بن گئے تھے۔ ایک دوسرے کیلئے لازم و ملزوم۔ 

شادی بیاہ، خوشی کے کسی موقع پر، کسی جشن پر اگر کہیں نور خان اکیلے عارف بلوچ کے بغیر شرکت کرتا، لوگ عارف کو یاد کرتے۔ اگر کہیں عارف بلوچ نور خان کے بغیر شرکت کرتا، محفل میں شریک لوگ کسی ایک کی کمی ضرور محسوس کرتے۔ وہ ایک دوسرے سے روٹھ جاتے تو چند دن میں ایک دوسرے کو منا لیتے تھے۔ فن و موسیقی کے علاوہ ان کے درمیان ذاتی دوستی بھی گہرائیوں میں پیوست تھی۔ 

نور خان ایک حقیقی فنکار تھا، ایک بڑا گلوکار۔ وہ آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے۔ وہ دن مجھے یاد آتے ہیں، جب وہ کسی محفل کے آغاز میں شاعری کے چند مصرعے کہتا اور سُننے والے، سامنے بیٹھے لوگ، سامعین کے دلوں سے جیسے آہ نکلتی۔ اس لمحہ لگتا تھا کہ اس نے اپنے سامعین پر جادو کردیا ہو۔ میں نے ان کیساتھ بہت وقت گزارا۔ وہ کراچی جب بھی آتے، میرے پاس ٹھہرتے۔ ان کیساتھ گزارے زندگی کے یہ دن اب میری یادوں کا حصہ بن چکے ہیں۔ وہ اپنے وقت سے پہلے گزر گئے۔ وہ بلوچی زبان کی موسیقی کو بہت کچھ نیا دینے کی صلاحیت رکھتے تھے البتہ ان کو وقت نہیں ملا۔ اس کی کمی کو بلوچی موسیقی آج تک محسوس کرتی ہے۔ 

فنکار کو عوام جتنا بلند مقام دیتا ہے، اس سے اُن کی توقعات اور مطالبات اتنے بڑھتے جاتے ہیں۔ ہر گروہ، ہر حلقہ ، ہر طبقہ ان کو اپنی توقعات اور خواہشات کا پابند کرنا چاہتا ہے البتہ یہاں ایک چیز اور پائی جاتی ہے جسے ہر گروہ اور ہر طبقہ یکسر نظرانداز کر دیتا ہے؛ وہ ہے فنکار کی ذات اور اس کے فن کی آزادی۔ فنکار کی ذات ہر انسان کی طرح  آزاد ہے۔ وہ جہاں چاہے، جس اسٹیج پر چاہے، جس محفل میں چاہے، اپنے فن کے اظہار میں آزاد ہے۔ 

 مجھے کبھی کبھی لگتا ہے کہ جس طرح بلوچ گلوکاروں ، موسیقاروں اور بلوچ شاعروں نے اپنی زبان کو زندہ رکھنے کیلئے قربانی دی ہے، اس قربانی کا ہرجانہ ممکن نہیں۔ یہ شاعر ، گلوکار، موسیقار ، جن کو مال و متاع رکھنے والے لوگ، بڑے عہدوں پر بیٹھے افراد، اعلیٰ تعلیم یافتہ حلقے، اپنی ناک اونچی سمجھنے والے، موٹی توند رکھنے والے شاید مفلس، ناکارہ اور دریدہ دامن سمجھتے ہوں لیکن ان ہی گلوکاروں، فنکاروں ، ادیبوں ، شاعروں کی زبان کو زندہ رکھنے کی جدوجہد نے کمال کر دکھایا ہے۔ موسیقاروں اور گلوکاروں نے اس شاعری کو اپنا کندھا پیش کردیا ہے۔ ادیب و شاعر ، موسیقار اور گلوکار نے جُڑ کر بلوچی زبان کی درسگاہ کی شکل اختیار کرلی ہے۔ جو لفظ مٹنے، غائب ہونے، اپنی موت کے قریب تھے، شاعر نے جب  کوئی گہرا خیال سوچا۔ اور یہ بھی خیال اسے آیا کہ کیسے اس خیال ، اس کے معنی و مفہوم کو اپنے لوگوں تک پہنچایا جائے۔ وہ کون سا لفظ کہاں اور کیسے اپنائے کہ معنی و مفہوم تک پہنچنے کیلئے شاعر اور اس کے لوگوں تک ایک زینہ ، کوئی سیڑھی، کوئی راستہ نکل آئے لہٰذا وہ اپنی زبان کی جڑوں کو کھودنا شروع کرتا ہے، ایک کان کن بن کر۔ موسیقار ، شاعر کے خیال سے سامنے آنیوالے لفظوں کیلئے لے و تال کا پُل تعمیر کرتا ہے۔ گلوکار پُل کے اِس پار سے اُس پار، اپنی آواز کے زیر و بم سے رابطے کا ذریعہ بنتا ہے۔ 

ہماری زبان نے دوسری اور بڑی زبانوں کے بے شمار شدید حملے سہے ہیں۔ وہ زخمی بھی ہوئی۔ چیخی چِلائی بھی۔ درد نے اسے بے قرار بھی کیا۔ شہری زندگی میں زبان پر ہونے والے حملوں کے زخم ابھی بھی خشک نہیں ہوئے ہیں کہ عارف بلوچ کے گھر پر فائرنگ کی خبر آتی ہے۔ خدا خیر کرے۔ ہم عارف بلوچ کو کھونے کا زخم برداشت نہیں کرسکتے۔ ہم اب تک نور خان بزنجو کی ناگہاں جدائی کا سوگ منا رہے ہیں۔ فنکار کی جدائی کا درد قوم کیلئے بے دوا ہوتا ہے۔ کیا عارف بلوچ کے گھر پر حملہ کرنے والے لوگوں کو یہ خیال نہیں آیا تھا؟ 

نوٹ: حفیظ علی بلوچ بلوچی زبان کے گلوکار ہیں۔ وہ عارف بلوچ کے قریبی دوست ہیں۔ 

Posted in

Leave a comment

Design a site like this with WordPress.com
Get started