
حسن مجتبٰی
کہانی بہوت لمبی ہے۔
مانا کہ چلو آفاق احمد کو پھر فوج نے ری لانچ کیا ہوگا لیکن کراچی کے مسئلے تو یہ جنوئین ہیں، نہ جن میں ٹرانسپورٹ، ڈمپر اور ٹینکر مافیاز بھی ہیں۔ وڈیروں کی حکومت اور اس میں مہاجر شہری وڈیروں کا ٹھیک ٹھاک حصہ بھی رہا ہے۔ مجنوں خان چانڈیو جیسے تھانیدار بھی کراچی پر مسلط ہیں۔ آئی جی پولیس بھی اصل میں سندھ کی فریال تالپور اپنی جگہ لیکن آفاق نے کراچی کے ہزاروں مسائل میں سے ایک کی دکھتی رگ پر ہاتھ تو رکھا۔ باقی سندھ میں جہاں تین قتلوں پر پولیس ایف آئی آر نہیں کاٹتی اور لوگ لاشیں ہائی وے پر رکھ کر بیٹھ جاتے ہیں۔وہاں کراچی میں ڈمپر جلنے کے کیس میں آفاق احمد کو گرفتار کیا جاتا ہے۔
یہ کراچی ہے، جہاں بشریٰ زیدی کے منی بس کے نیچے کچلے جانے پر کراچی کی شکل و تاریخ ہی بدل گئی،خیر۔
آفاق احمد کراچی کے نوجوانوں میں انیس سو اسی کی دہائی کے اوائلی برسوں میں جب ایم کیو ایم بنی یا بنوائی گئی تو الطاف حسین سے بھی زیادہ پاپولر تھا۔ زیادہ سیاسی اور لڑاکاکار بھی تھا کہ یہ انکم ٹیکس کلرک محکمے کی یونین کی عہدیدار ی سے آیا تھا۔ انکم ٹیکس محکمے کا سابق ملازم ۔
کراچی میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل کر مقبول ہوتی ایم کیوایم کے علاقوں میں آفاق احمد ایم کیو ایم کے لڑکوں میں “ڈی ایس پی صاحب” کے نام سے مشہور تھے۔ خاص طور پر کورنگی ،لانڈھی اور شاہ فیصل کالونی کے لڑکوں بالوں میں۔ یہ آرٹ فلموں کا زمانہ تھا۔ “میری آواز سنو” جیسی فلموں سے یاں کے بھائی لوگ خوب متاثر تھے۔کچھ دنوں کی بڑھی ہوئی شیو، زیرو نظر کا چشمہ، جاگرز اورجسم پر چادر یا شال لپیٹی ہوئی۔ یہ ایم کیو ایم کے ان نوجوانوں کا فیشن تھا۔ ایسے میں آفاق احمد کی دبنگ انٹری شاہ فیصل کالونی میں ہوئی، جب الطاف حسین جلسہ کرنے شاہ فیصل کالونی نمبر ون میں آئے اور آفاق احمد ان کی جیپ کے آگے آگے کلاشنکوف لیے دوڑ رہے تھے۔ یہ آفاق احمد عرف عام ڈی ایس پی صاحب کی شاہ فیصل کالونی اور کہیں بھی پہلی دبنگ انٹری تھی۔وہ الطاف حسین سے زیادہ تیز لیکن زیادہ انتہاپسند بھی ہیں باقی قومیتوں کی طرف۔

توجب جام صادق علی کی سندھ پر حکومت قائم ہوئی توصحیح کی گینگ وار تھیٹر شروع ہوا۔
جام کی حکومت میں ہی صحیح معنی میں ایم کیو ایم کے یہ لیڈر اور وزرا، مشرا ، منتخب ممبر شہری وڈیرے بنے۔ وہی پیجاروز، کاٹن کے جوڑے اور ریبن کے کالے چشمے۔ جام صادق علی نے بدر اقبال کو وزیر ٹرانسپورٹ بنایا اور ان کو سیکریٹ فنڈ سے کروڑوں روپے دے کرالطاف حسین کو بتادیا، پھر کیا تھا۔
کراچی کی دیوراریں “جو قائد کا غدار ہے وہ موت کا حقدار ہے” کے نعرے والی چاکنگ سے جل اٹھیں۔اور گلیوں میں اب اربن گینگ وارفیئر کا منظر تھا۔ کئی لاشیں گریں۔
نیوز لائن اور فرنٹیئر پوسٹ پہلے اخبار اور جریدہ تھے جنہوں نے ایم کیو ایم کی اس اندرونی جنگ کی تحقیقاتی رپورٹ شائع کی تھی۔فرنٹیئر پوسٹ میں یہ اسٹوری میں نے لکھی تھی۔
الطاف حسین نے دہلی کالونی میں ایم کیو ایم کے جلسے میں نیوزلائن کی مدیر ودیگر خواتین ایڈیٹرز اور دیگر عملے کو مغلظات بکیں اور دھمکیاں دی تھیں لیکن یہی نیوزلائن تھا، جب جون انیس سو بیانوے میں ایم اکو ایم مجازی یعنی ایم کیو ایم الطاف کیخلاف فوجی آپریشن ہوا تو اس پر آپریشن کیخلاف نیوزلائن نے سرورق اسٹوری شائع کی۔
لیکن ایم کیو ایم حقیقی اور مجازی میں بٹنے سے پہلے ایم کیو ایم کے اندر کی لڑائی کراچی کی گلیوں میں کھلی گروہی جنگ کی صورت لڑی جانے لگی ۔

بہت سے ایم کیو ایم آفاق کے کارکن مارے گئے یا پھر روپوش یا جلاوطنی میں چلے گئے۔ جام صادق علی کی ہی سفارش پر آفاق احمد، بدر اقبال اور عامر خان نے راتوں رات غیر ملک کا ویزہ حاصل کیا اور پردیس پدھارے۔
جام صادق علی اپنی نجی محفلوں میں اپنے دوستوں سے کہتا تھا، “میں جانتا ہوں کہ سندھی کیا کوئی ان کی کتیا بھی میری قبر پر پیشاب کرنے نہیں آئے گی لیکن جو کام میں ایم کیو ایم کیساتھ کرکے جا رہا ہوں وہ عمر بھر قوالیاں گاتے پھریں گے۔
ایم کیو ایم کے حوالے سے ایک بات جو جوش ملیح آبادی سےمنسوب کی جاتی ہے کہ منہ میں پان کی گلوری لیکر سات بار ایک دوسرے کو آداب کہنے والی قوم اب ایک دوسرے کے نرخرے کاٹ رہی ہے۔
یہ جام صادق علی، جنرل آصف نواز نواز شریف اور انٹیلی جنس بیورو کے تب ڈی جی برگیڈیئر ریٹائرڈ امتیاز بلے کا جومشترکہ وینچر تھا کہ اب ایم کیو مجازی الطاف حسین کیخلاف فوجی آپریشن کی باری تھی۔ شنید ہے کہ جام ہر بار امتیاز بلے کو کہتا تھا میری ان سے یعنی ایم کیو ایم والوں سے جان چھڑوائیں۔ میں روز روز کی ان کی بلیک میلنگ سے تنگ آچکا ہوں۔

الطاف حسین شہید عباسی اسپتال میں داخل تھا یا نائن زیرو پر جب ان کے تکیے کے نیچے سےایک رقعہ ملا جس پر لکھا تھا،
“ہم تمہارے اتنے قریب ہی جتنا یہ خط”۔
یہ رقعہ ایم کیو ایم آفاق والوں کی طرف سے تھا تب انہیں منحرفین کہا جاتا تھا۔
ادھر جام نے بھی الطاف حسین پر یہ احسان کیا کہ اسے بتادیا کہ ملٹری آپریشن کررہی ہے وہ نہ تمہیں چھوڑی گی نہ مجھے۔ جام کی اپنی زبان میں جملہ تھا “فوج تمہارے ساتھ “ دوجہا کام” کرے گی میرے ساتھ بھی۔”
بس پھر الطاف حسین عمرہ کے بہانے پہلے سعودی عرب گئے اور پھر تا حال لندن۔

وہ قائد بھی لندن سے بلائے گئے تھے جن کی معرفت انگریزوں کو پاکستان بنوانا تھا۔
بقول راشد ارشد
.لندن سے قائد کو بلایا پاکستان بنایا
ادھر کراچی کے برنس روڈ پر واقع مشہور نہاری کی دکان پر عامر خان اور بدر اقبال کو کراچی آپریشن کی ایک رات پہلے دیکھا گیا تھا۔
اور پھر کراچی کے لوگوں نے دیکھا جب یہ لوگ آفاق احمد کی سرکردگی میں فوج کی لاریوں سے اترے۔
پھر لانڈھی میں ایم کیو ایم حقیقی نے اپنا ہیڈ کوارٹر وائٹ ہاؤس کے نام سے قائم کیا
ایک مرکز پی ای سی ایچ سوسائٹی میں ایم کیو ایم کے نائب چیف عظیم احمد طارق نے بھی قائم کیا۔ وہ پریس کانفرنس کراچی کے صحافیوں کو یاد ہوگی جس میں وہ دھاڑیں مارکر روئے تھے۔ کچھ دنوں بعد کن “نامعلوم افراد” نے ان کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا اور اندر سے کہتے ہیں مصطفی کمال نے دروازہ کھولا، جسے عظیم احمد طارق نے اپنا منہ بولا بیٹا بنایاہواتھا۔دروازہ کھلنے پر اندر آنیوالے افر اد جو مسلح تھے، انہوں نے اپنے ہتھیاروں سے عظیم احمد طارق پر فائر کھول کر انہیں موقع پر ہی ہلاک کر ڈالا۔
اب ریاستی عتاب حقیقی کی مدد سے ایم کیو ایم مجازی پر اترا ہوا تھا اعظم اسکوائر اور دیگر الطاف کے اثر کے علاقوں میں اب الطاف حسین کے قد آدم پورٹریٹ یا کٹ آؤٹس (تب پینا فلیکس نہیں تھے) کیساتھ وہی ہوا تھا جو اب بنگالیوں نے شیخ مجیب اور حسینہ واجد کے مجسموں اور تصویروں کیساتھ بنگلا دیش میں کیا ( کہتے ہیں کہ یہ دونوں پاک فوج کی مشترکہ پیشکش تھیں)۔
تو پس عزیزو کہاں تک سنو گے کہانی
Leave a comment