سلوان مومیکا

سلوان مومیکا، عراق سے تعلق رکھنے والے اڑتیس سالہ پناہ گزین کو، گزشتہ رات اسٹاک ہوم کے جنوب میں واقع سودرتالیہ کے علاقے میں واقع اس کے اپارٹمنٹ میں گولیاں مار کر قتل کردیا گیا۔ پولیس نے شک کی بنیاد پر پانچ افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ سویڈش میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بدھ کی رات گیارہ بجے – خطرناک صورتحال پر بجنے والی الارم پر – پولیس کو واردات کی اطلاع ملی تھی۔ دو سال قبل 2033 کے موسمِ گرما کے دوران سلوان مومیکا  کو اس وقت میڈیا پر شہرت حاصل ہوئی جب انہوں نے سویڈش دارالحکومت اسٹاک ہوم میں قرآن کے نسخے نذر آتش کئے تھے۔ جس کے ردعمل میں اسلامی ملکوں سے سویڈن کے سفارتی تعلقات میں کشیدگی دیکھنے میں آئی تھی اور سویڈن کو سفارتی محاذ پر  شدید بحران کا سامنا کرنا پڑا تھا جبکہ اردوگان کی قیادت میں ترکی نے سویڈن کی ملٹری الائنس نیٹو میں بطور رکن شمولیت کیخلاف قرآن سوزی پر شدید غصے کا اظہار کیا تھا۔ دوسری جانب سلوان مومیکا کے آبائی ملک عراق کے دارالحکومت بغداد میں سویڈش کے سفارتخانہ پر مشتعل ہجوم نے حملہ کیا تھا۔ سلوان مومیکا ایک کرسچین خاندان میں پیدا ہوئے تھے۔ 

Posted in

Leave a comment

Design a site like this with WordPress.com
Get started