تیسری قسط

حسن مجتبٰی

ویسے تو ڈین کے نارنگیوں، سائنس اور سینیگاگز (یہودی عبادتگاہوں )کے شہر رہووت یا تل ابیب سے یروشلم کا فاصلہ بذریعہ روڈ یا ٹرین بمشکل گھنٹہ ڈیڑھ ہوگا لیکن اب ہم چار ہزار سال کے سفر میں داخل ہوچکے تھے۔ پہلا میرا خیال جو اس مقدس شہر کی طرف جاتا ہے وہ  ہے یروشلم پیغمبروں کی سرزمین۔ جیسا میری دوست اور اسرائیل میں ہمسفر حنا نے یروشلم کے بارے میں کہا:

 اس  شہر کے ہر پتھر کے نیچے تاریخ سانس لیتی ہے۔ 

میں کہتا ہوں دوھ، شہد اور خون کی سرزمین۔

تو اس شبات والی رات دور پہاڑوں سے یروشلم کی بتیاں ایسی دکھائی دیں جیسے صحرائے سندھ کے شہر مٹھی کی “گڈی بھٹ” (ریت کے ایک بڑے ٹیلے) پر سے دیوالی کے ہزاروں لاکھوں جلتے دیپ دکھائی دیتے ہیں۔ فرق صرف یہ تھا کہ مٹھی کا منظر اونچائی سے نیچے کی طرف شہر کو روشنی کی وادی بناتا ہے اور یروشلم کی روشنیاں شاہ بلوط سے گھرے پہاڑوں کی اونچائیوں سے دکھائی دیتی ہیں۔ شاہراہ پر نیون بورڈز سائن بورڈز پر عبرانی، عربی کیساتھ انگریزی تینوں زبانوں میں عبارات اور تیر کے نشانات ایک ہی قریبی منزل مقصود بتاتے تھے اور وہ تھی یروشلم، یروشلم۔

پھر وہی مستیاں ہستیاں بستیاں

کہیں بلھے شاھ کا نگر ہے قریب

بلہے شاہ تو نہیں لیکن یروشلم کے کسی سرائے میں بابا فرید نے آکر قیام کیا تھا اور وہ آج تک سرائے بابا فرید کہلاتی ہے۔ اس سرائے کا ذکر تھوڑی دیر بعد لیکن اب ہم یروشلم شہر میں داخل ہوچکے تھے۔ آدھی رات کے قریب وقت تھا لیکن شہر کی سڑکوں پر اب بھی چہل پہل تھی۔ پتہ نہیں وہ جو مسافر کو اجنبی شہر میں داخل ہوتے یا اترتے ایک وسوسہ، خوف یا تردد ہوتا ہے، وہ مجھے یروشلم شہر میں داخل ہوتے نہیں لگا۔

 یروشلم میں شبات کی اس رات چہل پہل لگی ہوئی تھی۔ یہودی مرد و زن نوجوان لڑکے اور لڑکیاں، کئیوں کتاب ہاتھ میں لیے، جن میں بڑے ہیٹ والے سپاہ پوش گیسو دراز آرتھوڈاکس راسخ العقیدہ  یہودی مرد بچے، اور  وگز والی عورتیں بھی تھیں تو داڑھی یا بغیر داڑھیوں والے کپا یعنی چھوٹی ٹوپی والے بھی تھے تو کئی بغیر ٹوپی والے۔

ایسے میں ساگی کی ڈرائیونگ میں ہماری گاڑی ہماری ہوٹل “ورت ہوٹل” کی سیکورٹی کی پہلی چیک پوسٹ آٹومیٹک کارڈ کے بذریعہ عبور کرچکے تھے۔ ساگی کی سربراہی میں وین سے اپنا سامان لیے ہم یعنی میں اور حنا ہوٹل کی لابی میں داخل ہوچکے تھے۔ لابی کیا تھی، ایک چھوٹا سا شہر تھا۔ یا یہ ہوٹل ایک بڑا سا کئی منزلہ پانی کا جہاز۔ ہوٹل کے بار یا شراب خانے کا کاروبار رات کے اس سمے ابھی ماند نہیں پڑا تھا لیکن مے کش یہودی گوشئہ تسکین پکڑے بڑے شان نیازی سے دور چکا رہےتھے۔ لگتا تھا، زیادہ تر سرخ شراب کا دور دورہ تھا لیکن بقول شیخ ایاز:

“مگر بہ انداز عارفانہ۔”

 لابی کے بیچ ہوٹل کی گول رییسپشن تھی جس کے کاؤنٹر کے پیچھے  ایک سوٹ ٹائی، نظر کے چشمے، سفید مونچھوں سے ریسپشنسٹ ایسا ہی تھا جو اپنے سوٹ کوٹ اور وضع قطع سے کسی قدیم اسرائیلی آرکیسٹرا کا ڈائریکٹر لگتا تھا۔ جو میں نے فلموں میں دیکھے ہیں۔

تو یروشلم کے اس مشہور ہوٹل میں لگتا تھا، تمام اسرائیل بھر سے لوگ فیملیوں سمیت آئے ہوئے تھے۔ بچے ساری لابی میں دوڑتے پھرتے، کئی والدین کے ساتھ شبات کی دعائیں پڑھتے۔ شبات میں لفٹ استعمال نہیں کرتے تو سیڑھیوں پر رونق لگی رہی۔

ریسپشنسٹ نے ایئرپورٹ پر ہمیں جاری کیے گئے “گرین کارڈوں” کا اندراج ہمیں ہمارے بمعہ پاسپورٹ کرکے ہمیں گیارہویں منزل پر ہمارے کمروں کی چابیاں دیں۔ ویسے اس سبز رنگ کے کارڈ پر میرے دوست اور دوسرے ہمسفر عطا کو اس کے پڑوسی فلسطینی  نژاد امریکی واقف کار نے بتایا کہ اسرائیل میں تین ماہ قیام کی اجازت تھی۔ ہمارے وفد کے یہ دو ساتھی عطا اور مبشر دوسرے روز سنیچر کی شام  پہنچے تھے۔ میرا دوست عطا امریکی ریاست ورجینیا کے شہر رچمنڈ میں رہتا ہے۔ یہ فلسطینی نژاد امریکی کو بھی اپنے آبائی  فلسطین جانے کیلئے تل ابیب ایئرپورٹ پورٹ سے جانا پڑتا ہے اور اس کا گھر مسجد اقصیٰ سے سرحد پار کوئی وہ کہتا ہے، دس منٹ پر ہے۔   

ساگی کو گھر واپس جانا تھا کیونکہ وہ تل ابیب کا ہی جم پل ہے اور اس کا گھر تل ابیب میں ہی ہے۔ جاتے جاتے ساگی ہمیں کہہ گیا کہ ہوٹل میں صبح سویر سے ملنے والا معرکتہ آرا ناشتہ کرنا مت بھولنا اور دوسرا جافا اسٹریٹ پر جاکر گھومنا جو ہوٹل کے قریب ہے۔ جافا اسٹریٹ یروشلم کا مال روڈ ہے یا اس سے بھی بڑا، جیسے برلن کی کوادم اسٹریٹ۔ جافا اسٹریٹ کا ذکر آگے چل کر کروں گا۔

کمرہ بہت آرامدہ تھا، جس کی سب سے بڑی بات یہ کہ کشادہ بالکونی تھی، جہاں سے  حد نظر تک یروشلم شہر دکھائی دیتا تھا۔ محو خواب یروشلم شہر بس روشنیاں جگمگارہی تھیں۔ میں نے تو سوچا تھا کہ یہاں تو جنگ کی وجہ سے بلیک   آؤٹ ہوگا،

تو بلیک آؤٹ کی راتوں اور کرفیو کے دنوں میں مجھ سے میرے پیار کی باتیں مت کرو۔” میری بہت سالوں پہلے لکھی ایک نظم ہے مگر یہاں تو ایسا کچھ بھی نہیں تھا۔

سپید سحر میں جاگتا یروشلم شہر۔ طلوع آفتاب کی ملگجی سرخی و سون رنگ میں بیدار ہوتا یروشلم شہر، شام کے ڈھلتے سورج میں سرخ شراب کی بارش جیسا یروشلم شہر۔ اندھیرے میں جگمگاتا یہ شہر۔ پیغمبروں کی کالی چادر میں خود کو ڈھانپتا یہ یروشلم۔ میں نے اپنے ہوٹل  کی گیارہویں منزل کے اس کمرے کی بالکونی سے، میں نے ان  پہاڑوں پر شاہ بلوط کے درختوں میں گھرے  قدیم اور جدید اس شہر  کے ہر پہر اپنے رنگ دیکھے لیکن میرے ہوٹل کے کمرے میں اس پہلی رات میرے بستر پر میری نیند روٹھی ہوئی تھی۔ حالانکہ میں توتب تک گذشتہ چوبیس گھنٹے سے جاگا ہوا تھا۔

نیند اک روٹھا سہیلا لاکھ تم چاہے بلالو

مگر وہ لوٹ کر آتا نہ تھا۔

مگر یہ میرے کمرے میں اک عجیب آواز کہاں سے آ رہی ہے۔ راکٹ حملے کے سائرن جیسی آواز ہے کہ کسی اور چیز کی؟ میں نے اپنے ہوٹل کا درواز کھول کر ہال وے پر نظر  دوڑائی لیکن وہاں تو خاموشی تھی جواس مقدس رات کی چادر اوڑھے بلا خوف رینگ رہی تھی، جیسے ابھی ابھی بند پانی کے نل سے گرتا قطرہ قطرہ۔

یہ ہوٹل “ورت” میں بلکہ یروشلم اور اسرائیل میں میری شبات کی پہلی صبح تھی۔ سنیچر، فرصت  ہی فرصت تھی کہ اس دن تو تورات و انجیل کے مطابق خدا بھی چھٹی پر ہوتا ہے۔ ساری رات بقول پروین شاکر کہ “وہ سویا ہے کہ کچھ کچھ جاگتا ہے،” ہو کر گزری۔ روم سروس کو کمرے میں عجیب و غریب آواز آنے کی شکایت کی۔ اس نے ایک سیکورٹی والا بھیجا، جس نے کمرے کا سرسری جائزہ لیکر کہا کہ یہ  کسی سائرن کی نہیں، منی بارفرج کی آواز تھی۔

صبح ناشتے کیلے اپنے “ورت” ہوٹل کی بیسمنٹ میں پہنچنے والا میں شاید تیسرا شخص تھا۔ مجھ سے پہلے وہاں ایک شخص اور اس کے ساتھ ایک بچہ ٹیبل پر بیٹھے تھے۔ ابھی ناشتے کے بوفے  کی میزوں پر سجاوٹ مکمل نہیں ہوئی تھی۔ مجھے اس ڈائننگ ہال کے کچن سے عربی میں پر شور گفتگو کانوں پڑی اور یہ ہوٹل کے عملے کے درمیان مجلس تھی۔ ہوٹل کے عملے کے اچھے خاصے ملازم مقامی عرب مرد اور عورتیں تھے۔

ہوٹل  میں جیسا کہ ساگی نے کہا تھا معرکتہ آرا اعزازی ناشتہ تھا۔ وہ تمام کھانے پینے کی چیزیں کہ جن کا وعدہ  جنتیوں کیساتھ قرآن سمیت تمام مقدس کتابوں میں کیا گیا ہے۔ ویسا من و سلوی جیسا جو اس چنی ہوئی قوم کو آسمانوں سے آتا تھا۔ جو پھل جو کوئی اور چیز  کھانے پینے کو ارادہ بھی کرو گے ہی وہ آپ کے منہ میں آن  پڑے گی، حوروں اور اغلاموں سمیت۔ عرب، اسرائیل ممالک کی کھجوروں جنہیں عبرانی میں تمرم کہتے ہیں۔ بین البراعظمی صبح کے کھانوں، بینگن مشترکہ  خوراک سمیت، تمام نعمتیں ان خوانچوں میں موجود تھیں۔ ملکوں ملکوں کی  کافی و مشروب( لیکن کافی آج ہاتھ سے بنانی تھی کہ شبات کے دن کافی مشین بند کردی گئی تھی) کئی سلاد، ڈیری،  دیگر سبزیاں، مچھلی مطلب کہ تم اسرائیل کی کون سی کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے کہ آئندہ پانچ دن گویا یہ سب کچھ آسمان سے ہم پر نازل ہوتا رہا۔

ناشتے کے بعد ابھی کچھ گھنٹے تھے تو کمرے میں آکر کس وقت صبح کے آخر آنکھ لگ گئی کہ اس آنکھ کی لگی نے سسی سے پنوں گنوایا تھا۔ جسے فیض نے یوں فرمایا:

تھک کر یونہی پل بھر کیلئے آنکھ لگی تھی

سو کر نہ اٹھیں گے یہ ارادہ تو نہیں تھا۔

یا پھر:

لگی والیاں دی اکھ نہیں لگدی

نی تیری کیوین اکھ لگ گئی۔

لیکن ارادہ ہو نہ ہو، ہم تو اٹھا لئے گئے۔ ہر صبح ان شکتیوں کا شکر کرتا ہوں جس نے پھر ایک نئی صبح اٹھالیا۔ ہمیں تو حنا نے فون پر آٹھانا چاہا لیکن ہم تب نہیں اٹھے۔ کچھ پل بعد جاگ گئے۔ جلدی تیار ہوکر ہم یعنی میں اور حنا آج ایسے شخص سے مل رہے تھے جو اہل یہود کے مردوں میں ایک نگینہ ہے۔ میرا دوست یشایا روزنمین  جو ہم میں سے ہر کوئی سمجھتا ہے کہ وہ اس کا دوست ہے اور وہ ہے بھی سب کا دوست۔ یشایا سے میں پہلے پولینڈ میں ملا تھا۔ جب وہ  شراکا کے جنوبی ایشیا سے آئے ہوئے ہم لوگوں کے وفد کی رہنمائی کررہا تھا۔ اس مذہبی لیکن وسیع المشرب نوجوان یہودی کو اس کی وضع قطع سے ہمارے دوست اور تب ہمسفر رحمان بنیری از راہ تفنن “مجاہد اسلام” کہہ کر بلاتے۔ یشایا پیدا یروشلم میں ہوا لیکن اس کے والدین جب وہ ایک سال کا تھا تو نیویارک نقل مکانی کرگئے تھے لیکن وہ ایک سال کے اندر ہی واپس اسرائیل یروشلم  آگئے  تھے۔ تب سے یشایا یروشلم میں ہے۔ وہ  یروشلم کے ہی محلوں اور گلیوں میں کھیلا کودا اور بڑا ہوا ہے۔

یشایا ہیبریو یا عبرانی یونیورسٹی میں ایشین اسٹڈیز یعنی ایشیائی علوم میں ایم اے کر رہا ہے۔ اس کی دلچسپی تقابل ادیان سے بھی  ہے۔ وہ برصغیر جنوبی ایشیا کے حالات و تواریخ پر بھی گہری نظر رکھتا ہے۔ شاعری، ادب، تاریخ، سیاست، سماجیات۔ وہ بہت کچھ جانتا ہے۔ بہت کچھ جاننا چاہتا ہے۔

  پولینڈ میں جب میں آشوٹز سے نکلا تو یہ شعر گنگنانے لگا “ قتل گاہوں  سے چن کر ہمارے علم اور نکلیں گے عشاق کے قافلے۔” تو اس پر یشایا نے مجھ سے پوچھا تم کیا اپنی شاعری گا رہے ہو؟ میں نے کہا “نہیں، یہ فیض احمد فیض کی شاعری ہے۔” تو اس پر اس نے کہا “بھلا یہ شاعری اس کی راولپنڈی سازش کیس سے پہلے کی ہے یا بعد کی؟”

  یشایا  ہیبریو یونیورسٹی یروشلیم میں پاکستان پر ماہر جرمن پروفیسر سائمن وولفگینگ  کا شاگرد ہے۔ پروفیسر سائمن وولفگینگ پاکستان بھی رہ چکے ہیں۔ انہوں نے شیعیت پر کتاب بھی  لکھی ہے جس کا عنوان ہے “مسلم لینڈ- شیعہ ازم پاکستان سے مشرق وسطیٰ تک۔” پاکستانی پاسپورٹ کے آخری پنے پر بھلے ہی لکھا ہو “دنیا کے تمام ممالک کیلئے  ماسوائے اسرائیل کے۔” لیکن یشیایا نے مجھے بتایا کہ ہیبریو یونیورسٹی میں اس کی کلاس میں پاکستان پڑھایا جاتا ہے۔ کچھ ماہ قبل  اسلامی جمہوری پاکستان کی کلاس میں تحریک پاکستان، عمران خان، اور افتخار ڈاڈی کی کتاب “لاہور میں نئی سینیما۔” پر پریزنٹیشن تھی۔ کلاس میں میرے دوستوں مینو گوڑ، فرجاد نبی اور مظہر زیدی کی فلم “زندہ بھاگ” بھی زیربحث آئی اور اس فلم میں میری لکھی ہوئی قوالی “پتہ یار دا” جس کو راحت فتح علی خان نے گایا اور اسی پر فلم میں ایکٹ بھی کیا ہے،  پر بھی دکھائی گئی۔

 یشایا تین مرتبہ بھارت اور بنگلہ دیش بھی جاچکے ہیں۔ رشی کیش، ممبئی اور پونا کے پرشوق سفر کی باتیں وہ بڑے شوق سے سناتے ہیں۔ ویسے بھی وہ نہایت ہی مجلسی آدمی ہے۔ ہمارے  درمیان ایک  حوالہ سندھ کا بھی ہے جو انہوں نے دیکھی تو کبھی نہیں لیکن اس کے متعلق انہوں نے ان کی پسندیدہ ایل کے آڈوانی کی لکھی  کتاب “مائی کنٹری  مائی لائف  یعنی میری زندگی میرا وطن میں پڑھی ہے۔ وہ پاکستان بھی جانا چاہتا ہے لیکن پیارے پاکستانی بھائی  اب تک بغیر دیکھے یہودیوں سے دشمنی پر ایمان لائے ہوئے ہیں۔  شاید کسی نے کوئی یہودی اور اسرائیلی دیکھا ہو۔ یشایا کا شوق کتابیں اور فلمیں بھی ہیں۔ اس نے پولینڈ میں بھی مجھے کتابیں تحفہ دی تھیں اور اب جب یروشلم میں شبات کے دن اس دوپہر ہم سے “ورت ہوٹل” کی لابی میں ملنے آئے تو میرے لئے کتابیں بھی لائے۔ عبرانی شاعری کی کتاب پینگوئن بک آف ہیبریو پوئٹری،” اور مشہور اسرائیلی  ناول نگار ایموس اوز  کا ناول “ایلس ویئر پرہیپس (“ شاید کہیں اور”) لایا۔ وہ ہر کسی کی مدد کرنے کو ہروقت تیار کامران رہتا  ہے۔ ایسے لوگ ہر پارٹی اور کمیونٹی میں  ہوتے ہیں۔ میرے دوست عطا کو یشایا دیکھ کر ان کی پارٹی کے بھورل شاہ یاد آئے اور مجھے میرا دوست غلام رسول سہتو۔ جس کو اگر آپ نے کوئی کام کہا یا پوچھا، پھر وہ کرکے ہی دم لیں گے۔ یشیایا مولانا مودودی کی تصنیفوں کا  بہت ہی معترف ہے اور وہ  انہیں صوفی اکابرو عالم  سمجھتا ہے۔

یشایا نے کہا “آج  مگر میں تمہیں کافی نہیں پلا سکتا کہ اس کیلئے مجھے پیسے دینے پڑیں گے جبکہ شبات کے دن ہم کسی بھی قسم کی لین دین نہیں کرتے۔” لابی میں میلے کا سا سماں تھا۔ بس لوگ آتے جاتے دیکھتے رہو۔ دنگ رہ جاؤ۔

اب حنا بھی آ چکی تھی۔ یہ ان دونوں کی ایک دوسرے سے پہلی ملاقات تھی لیکن حنا اور یشایا مجلس کے مور ہیں اور وہ حسب توقع یشایا کیلئے طویل زبانی سوالنامہ لائی تھی۔

ابھی ہم محو مجلس تھے کہ وہاں ایک خوش لباس شخص، ہمراہ اپنی بیگم کے آیا اور اس نے ہوٹل کی بار سے سرخ شراب کی دو بوتلیں اور وائن اوپنر پکڑے۔ وہ یشایا کا دوست تھا۔ یشایا کو شلوم یا دعا سلام  کیلئے رکا۔ اس کی کمر میں کوٹ کے نیچے پستول  بھی بندھا تھا (یہ اسرائیل میں کئی لوگوں کیساتھ ہوتا ہے)۔  یشایا نے اس سے  تعارف کروایا کہ ہم پاکستان سے آئے ہیں۔ جب اس نے یہ سنا تو وہ وہیں ہمارے ساتھ بیٹھ گیا۔ اور بوتل کھول کر ہم سے باتیں کرنے لگا۔ اس نے ہمارے لئے بھی دو گلاس منگوائے۔ یشایا نہیں پیتا۔ ایک اسرائیلی شراب کی بوتل پر درج تھا “ہم لوگوں کو نہیں وائن کو لیبل کرتے ہیں۔”یشایا نے اس کا تعارف ہم سے کرواتے کہا کہ یہ یونتان دبوف ہیں۔ سمیریہ شہر کے میئر یوسی دگان کے معاون خاص۔ عام اسرائیلی ہوں کہ اسرائیلی حکومت کے کئی لوگ پاکستان کو اپنا دشمن نہیں سمجھتے۔ میں اسے ان کی یکطرفہ محبت کہتا ہوں اور ہم ہیں کہ “اسرائیل کی بربادی تک جنگ رہے گی، جنگ رہے گی۔”  کے ہیجانی نعروں میں مبتلا ہیں۔ ابھی کچھ دیر بعد سمیریہ کے میئر کو بھی آنا تھا۔ اسی ہوٹل میں شبات کے روایتی لیکن خاص ظہرانے میں شرکت کرنے۔ جس میں یشایا اور ہمیں بھی شرکت کرنی تھی۔ یہ شبات کا بڑا کھانا ہوتا ہے۔

جاری ہے

Posted in

Leave a comment

Design a site like this with WordPress.com
Get started