بلوچ لبریشن آرمی ایک عسکری تنظیم ہے، جس کے پاس ، کسی ملکی ادارے کی طرح جو ٹیکسوں سے اپنا متعین بجٹ حاصل کرے، جنگ کیلئے وسائل کبھی بہت زیادہ نہیں ہوتے۔ اس کی عسکری شریانوں سے جو خون اس کے دھڑکتے دل تک پہنچتا ہے، وہ بلوچستان کے روز و شب سے دل شکستہ، اپنے مستقبل کی غیر یقینی تاریکی سے آگاہ، اپنی جان سے بے پروا نوجوانوں کے بے پایاں غصے سے کشید ہوتا ہے۔ یہ غصہ دل شکستگی، آئندہ آنیوالے کل کے خواب کی بے ثباتی اور زندگی کی بے معنویت اور بے چارگی سے پرورش پاتا ہے۔

شاہ فہد بلوچ، بی ایل اے کا خودکش حملہ آور، جس رات وہ کراچی ایئرپورٹ کی حدود میں چینی انجینئرز پر حملہ کرنے جارہا تھا، دن کا وقت، اس نے شہر میں گھوم پھر کر مصروف گزارا تھا۔” دو راتیں، چار اور پانچ اکتوبر کی شب، پولیس کی تفتیشی کی رپورٹ کے مطابق، اس نے ہوٹل میں قیام کیا۔” وہ، جس ہوٹل میں ٹھہرا، وہ صدر کے علاقہ ریگل چوک کے قریب ہے۔ شاہراہ عراق کے آس پاس واقع گلیوں میں جہاں اس کی وقتی رہائش تھی، کئی ہوٹل مہمانوں کو بغلگیر کرنے کیلئے بانہیں کھولے خوش آمدید کہنے کو کھڑے ہیں۔ وہاں سے پیدل مسافت پر سندھ ہائیکورٹ، سندھ اسمبلی بلڈنگ،الیکشن کمیشن آفس، ایم پی اے ہاسٹل واقع ہیں۔ یہ حساس علاقہ کہلاتا ہے۔ یہاں کی پالیسی ساز عمارتوں کی دھڑکنوں اور فیصلہ صادر کرنیوالی شخصیتوں کی آمد و رفت کا ریکارڈ رکھا جاتا ہے۔
چھ اکتوبر، بارہ بجے، دن کے پہلے پہر جب اس نے ہوٹل سے چیک آؤٹ کیا، اس کے پاس زندگی کو جینے کو ابھی تک گیارہ گھنٹے تھے۔ دن بھر کی باقی سرگرمیاں کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ ( سی ٹی ڈی ) کے نگرانی کے کیمرے محفوظ کرتے ہیں،جن کا ٹکڑا ٹکڑا، تفتیشی پزل مکمل کرنے کیلئے، جوڑا گیا۔ یہ اتوار کا دن تھا، شہر کے دیر تک سونے کا وقت، جب کراچی کی مارکیٹوں میں رش بھی قدرے کم ہوتا ہے۔ وہ بہادر آباد جاتا ہے۔ یہ ایک گرم دن تھا۔ جون، جولائی کے بعد، محکمہ موسمیات کے مطابق، اکتوبر کراچی میں گرم ترین مہینہ ہوتا ہے۔ درجہ حرارت 35 سینٹی گریڈ سے زیادہ تھا، جو اس مہینے کی مناسبت سے غیرمعمولی نہیں تھا۔ دن کے اس پہر شہر کے بازار میں ، چھٹی کا دن ہونے کے باعث زیادہ لوگ دکھائی نہیں دیتے۔ پولیس پر خودکش حملے کے بعد، حملہ آوروں کے نیٹ ورک اور ملوث افراد کو ڈھونڈ نکالنے کیلئے، شدید دباؤ پڑتا ہے۔ وہ شہر بھر میں پھیلے نگرانی کے کیمروں میں محفوظ فوٹیجز کا جائزہ لیتے ہیں، جو تین دنوں کی ریکارڈنگ ہوئی ہونگی، گھنٹوں پر پھیلی فوٹیجز روک روک کر دیکھی جاتی ہیں، وہ ان کو، پیدل چلتا ہوا، بہادر آباد میں نظر آتا ہے۔ اس نے، سی ٹی ڈی کی جاری کردہ ویڈیو میں دکھایا گیا ہے، سورج کی تپش سے سر اور آنکھوں کو محفوظ رکھنے کیلئے سر پر موسم گرما کی کیپ پہن رکھی تھی۔ ایک چائے خانہ کے قریب سے گزرتے ہوئے، اطمینان کیساتھ چند ثانیہ کسی شے پر ٹھٹھک کر نظر ڈالتا ہے اور پھر ساتھ والی دکان یا کسی گلی میں داخل ہوتا ہے، کیمرہ چائے خانہ کے، بغل میں واقع چیزیں نہیں دکھاتا۔

نوشکی کا یہ تعلیم یافتہ نوجوان، جو مزاجا، بتایا جاتا ہے، کم گو تھا، ایک بڑا ہولناک راز اپنے دل میں لئے شہر میں گھوم پھر رہا تھا، وہ بلوچستان کے برداشت سے باہر بیزار کن سیاسی حالات کا منطقی نتیجہ تھا۔ “ شاہ فہد کی عمر اٹھائیس سال تھی۔” بلوچ لبریشن آرمی نے اپنے جاری کردہ اعلامیہ میں بتایا۔ اس نے پانچ سال قبل، 2019 میں جب وہ 23 سال کا تھا، بی ایل اے میں شمولیت اختیار کی تھی۔ بہادر آباد سے، ایک کرائم رپورٹر کے مطابق، وہ اس دن اپنے رشتہ دار کے گھر ملیر بھی گیا۔ جس کو واقعہ کے بعد پولیس نے اپنی تفتیش کا حصہ بنانے کیلئے گرفتار کیا۔ رپورٹر نے اپنے تخیل سے کام لیا اور مزید لکھا کہ وہ ملیر سے ماڈل کالونی کے راستے جائے واردات پر پہنچا تھا۔

اس کی شناخت، سندھ کے وزیر داخلہ نے بتایا، اس کے ایک ہاتھ سے ہوئی جو گیئر پر، دھماکے کی تباہ کاری کے باوجود، جائے وقوع پر پایا گیا۔ شاہ فہد کی، خودکش حملے کے بعد، شناخت پر کوئی ابہام نہیں رہ گیا تھا، قبل ازیں بی ایل اے نے اس کی شناخت ظاہر کردی تھی۔ “ تین سال قبل، 2021 میں، وہ بی ایل اے کے مجید بریگیڈ کا حصہ بنا۔” بلوچ لبریشن آرمی نے اپنے اعلامیہ میں بتایا۔ وہ جس ہوٹل میں ٹھہرا، وہاں کی انتظامیہ اپنے یہاں قیام کرنے والے مسافروں کے نام و کوائف کا باقاعدگی کیساتھ اندراج کرتی ہے۔ ان کے ریکارڈ کے مطابق وہ ایک سال قبل، تین دسمبر 2023، کو بھی کراچی آمد پر یہی ٹھہرا تھا۔ ضیاء الحسن لنجار، سندھ کے وزیر داخلہ جب نومبر کے دوسرے ہفتے شاہ فہد کے مبینہ سہولتکاروں جاوید عرف سمیر اور گل نساء کی گرفتاری کی تفصیلات بتا رہے تھے، ان کو حاصل ہونےوالی تفتیش کی حساس فائل میں، ان کی ایک سال قبل تین دسمبرکو کراچی آمد کا ذکر، شامل نہیں تھا، شاید بوجوہ یہ تذکرہ ضروری نہیں سمجھا گیا۔ وہ اپنے دھیمے لہجے میں، پریس کو، ایک مہینے کی تفتیش کی تفصیلات بتارہے تھے۔ سندھ کے وزیر داخلہ سیاسی چہرہ بننے سے پہلے نوابشاہ کی سول کورٹ میں ایک عام وکیل تھے۔ انہوں نے کئی سال اپنی وکالت پر قناعت کی۔ موکلوں کو ان کے مقدمات کی پیچیدہ گتھیاں، بھڑکانے سے گریز کرتے ہوئے، دھیمے دھیمے سمجھاتے تھے بالاخر ان کا یہ عاجزانہ انداز ان کا لہجہ بن گیا۔ “ یہ مشن ان کو ایک سال قبل سونپا گیا تھا۔” بی ایل اے نے اپنے تحریری اعلامیہ میں بتایا۔ کیا عسکری مزاحمتی تنظیم کی آنکھیں دور بین و دورمار اور اس کے کان سب کچھ سن لیتے ہیں؟ وہ ایک سال قبل تین دسمبر کو اپنی کارروائی کی تیاری کے سلسلے میں آیا تھا۔ پورٹ قاسم اتھارٹی پر کام کرنے والے چینی ملازمین کی کراچی آمد کا، ان کو، ایک سال پہلے علم ہوچکا تھا؟

بلوچستان کا قضیہ ،اس وقت جب بلوچ مسلح گروہوں نے یکطرفہ جنگ بندی کا اعلان کیا، بہتر اور پُرامن ذرائع سے سلجھ سکتا تھا۔ جنگ بندی کی یہ تجویز ، جس پر ان گروہوں نے عملدرآمد بھی کیا، 2007 کو سامنے آئی تھی، اب 17 سال ہوچکے۔ بلوغت کو پہنچنے کی عمر، شناختی کارڈ بناکر اپنا آپ پہچان کرانے کا وقت اور ووٹ دینے کا اہل بننے سے بس سال کم۔ ایک سال ملاکر ایک نسل جوان ہوتی ہے لیکن وہ موقع گنوادیا گیا۔ ہولناک واقعات جو پیش آتے رہے، ان سے بچنے کا راستہ بہت پیچھے تشدد کی گردوغبار میں کھودیا گیا۔ اس جنگ بندی کے دو سال بعد شاہ فہد، جو اس وقت کم عمر تھا، روشن مستقبل کے خواب لے کر پنجاب کے شہر منڈی بہاؤالدین جاتا ہے۔ جہاں وہ تین سال رہا۔ جنگ کی خونریزی، بتدریج شدید ہوکر، خوفناک شکل میں جاری رہی۔ وہ بچہ جو 2009 کو پنجاب پڑھنے جاتا ہے، بالغ ہو کر خودکش بننے کی کگار پر کھڑا تھا اورزندگی کی کسی آسائش کی ترغیب میں آکر واپس لوٹنا نہیں چاہتا تھا۔ وہ زندگی کے آخری گیارہ گھنٹوں میں، سی ٹی ڈی کی جاری کردہ ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے، دن کے مختصر اجالے میں گویا آزاد ہوکر جی رہا تھا لیکن جی نہ سکا۔ اس خون آلود کشمکش میں پیش آنیوالی تباہی، انسانی ابتلا، آبادیوں کی بربادی کے ناقابل باور صدمات و حادثات کو رپورٹ کرنے کی نوبت شاید آجائے ہرچند یہ قطار اب تک بنی نہیں ہے۔

بلوچ لبریشن آرمی ایک عسکری مزاحمتی تنظیم ہے، جس کے پاس، کسی ملکی ادارے کی طرح جو ٹیکسوں سے اپنا متعین بجٹ حاصل کرے، جنگ کیلئے وسائل کبھی بہت زیادہ نہیں ہوتے۔ اس کی عسکری شریانوں سے جو خون اس کے دھڑکتے متحرک دل تک پہنچتا ہے، وہ بلوچستان کے روز و شب سے دل شکستہ، اپنے مستقبل کی غیر یقینی تاریکی سے آگاہ، اپنی جان سے بے پروا نوجوانوں کے بے پایاں غصے سے کشید ہوتا ہے۔ یہ غصہ دل شکستگی، آئندہ آنیوالے کل کے خواب کی بے ثباتی اور زندگی کی بے معنویت اور بے چارگی سے پرورش پاتا ہے۔ اس غصہ نے اس تنظیم کو دو دہائیوں کے دوران رفتہ رفتہ خطرناک لڑائیاں لڑنے کے قابل بنایا ہے۔ شاہ فہد جو، رواں صورتحال میں مزید زندہ رہنا نہیں چاہتا تھا، اگر وہ زندہ رہتا، عام پرسکون حالات میں، وہ اپنی شام کے فارغ وقت کو، اپنی عمر کے نوجوانوں کی روش پر چلتے ہوئے، جسٹن بیبر، باب مارلے یا باب ڈیلن کو سُننے کا بھرم دکھاتا۔لاابالی کو فلسفیانہ جواز فراہم کرنے کیلئے، کچھ وقت کیلئے، تارک دنیا درویش بنتا اور صوفیانہ کلام اور دھمال پر سر دھنتا، محبوبہ سے ہجر کے لمحوں میں جگجیت سنگھ کی اداس غزلوں میں ملال کے معنی تلاش کرتا یا منیر احمد بادینی کے ناولوں میں اپنے اردگرد گھومنے والے کرداروں کو تلاش کرتا رہتا لیکن اس کی جوانی کی خمار کن شاموں کو یہ ساری ذہنی آسائشیں حاصل نہیں تھیں۔ جب اس نے سال، 2019، میں بی ایل اے میں شمولیت اختیار کی، دو سال بعد اس نے خودکش حملہ کرنیوالے یونٹ “ مجید بریگیڈ کو اپنی خدمات رضاکارانہ پیش کردیں۔” بی ایل اے کا شائع اعلامیہ بتاتا ہے۔ بلوچستان میں رواں سال اگست کے آخری ہفتے سے نومبر کے پہلے سات دنوں تک، دس ہفتوں کے دوران، اخبارات میں شائع ہونیوالی محتاط خبروں اور سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، ایک میجر سمیت 35 فوجی یا نیم فوجی اہلکار ہلاک ہوئے۔ اس طرح ہر ہفتے تین سے زیادہ اہلکار اپنی جان سے گئے۔ ہلاکتوں کے یہ واقعات کوئٹہ، لسبیلہ، موسٰی خیل، قلات، زیارت میں پیش آئے۔ یہ کارروائیاں، چند “ شورش زدہ” پہاڑوں کے اردگرد نہیں ہوئیں بلکہ یہ مختلف النوع سماجی اور معاشی حالات رکھنے والے علاقوں میں پھیلی ہوئی تھیں۔

بلوچوں کیساتھ قضیہ کو پرامن ذرائع سے حل اور تشدد کی آگ کو بات چیت سے بجھانے کی راہیں پسند نہیں کی جاتی رہی ہیں۔ بلوچستان میں ستمبر اور اکتوبر، دو ماہ کے دوران “ ایک سو سات افراد قتل ہوئے۔” ہیومن رائٹس کونسل آف بلوچستان کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ان دو مہینوں میں 170 افراد جبرا لاپتہ کردیئے گئے۔ اس طرح ہر ہفتے 13 سے زائد افراد قتل اور 21 سے زیادہ گمشدگی کا شکار بنے۔
شام کے سایوں نے، خاکی اور سرمئی رنگ کے پہاڑی سلسلوں کے جابجا پھیلے گروہ در گروہوں پر، جن کے درمیان وادیاں دکھائی دیتی ہیں، اپنی تاریکی پھیلانا شروع کردی ہے۔ اس تصویر کے فریم میں قید، پہاڑوں کے نشیب میں وادیوں کے درمیان جو سیاہ رنگ سے رنگی گئی ہیں، ایک سرخ خط، گہرا سرخ، خون سے مشابہت رکھنے والی لکیر ، جس میں بہت سے انسانی چہرے تیر رہے ہیں، ان پہاڑوں کے حصار کی وادیوں میں پھیلتی ہوئی، ان کو جوڑ رہی ہے۔ یہ چہرے، دیکھنے والی کی بصارت کرشمہ دکھائے تو، اپنی شناخت، اس سے، خودکش حملہ آوروں، جو بند گلی میں پہنچ چکے تھے، مسخ شدہ لاشوں، جن کی سوچ رواں سیاست سے مختلف تھی، اور گمشدگان کے طور پر کراتے ہیں۔ مُردگان، جواب دیتے ہیں۔ وہ انتباہ کرتے ہیں؛ ہم دیوار سے لگ چکے ہیں۔ انصاف، مانگنا مت، انصاف طلبی یہاں منع ہے۔ سرخ خط پر کبھی کبھی ناگہاں کمزور سی روشنی پڑتی دکھائی دیتی ہے، ایک چہرہ اور دکھائی دیتا ہے، گمان گزرتا ہے، وہ سبین محمود ہے، جو سوالات کی اجتماع گاہ بنانے کی سزا کاٹتی دکھائی دیتی ہے۔
Leave a comment